تفسیر سورہ مریم آیت ۱۱۔۱۲۔۱۳۔فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا

فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ اَنْ سَبِّحُوْا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا(11)

ترجمہ: کنزالعرفان
پس وہ اپنی قوم کی طرف مسجد سے باہر نکلے تو انہیں اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{فَخَرَ جَ عَلٰى قَوْمِهٖ مِنَ الْمِحْرَابِ:پس وہ اپنی قوم کی طرف مسجد سے باہر نکلے۔} ایک دن حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس جگہ سے باہر نکلے جہاں  وہ نماز ادا کیا کرتے تھے اور لوگ محراب کے پیچھے انتظار میں  تھے کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان کے لئے دروازہ کھولیں  تو وہ داخل ہوں  اور نماز پڑھیں  ، جب حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام باہر آئے تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا رنگ بدلا ہوا تھا اور آپ گفتگو نہیں  فرما سکتے تھے ۔یہ حال دیکھ کر لوگوں  نے دریافت کیا: کیا حال ہے؟ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں  اشارہ سے کہا کہ صبح و شام تسبیح کرتے رہو اور عادت کے مطابق فجر و عصر کی نمازیں  ادا کرتے رہو ، اب حضرت زکریا عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے کلام نہ کر سکنے سے جان لیا کہ آپ کی بیوی صاحبہ حاملہ ہو گئی ہیں۔( خازن، مریم، تحت الآیۃ۱۱، ۳ / ۲۳۰، جلالین، مریم، تحت الآیۃ۱۱، ص۲۵۴، ملتقطاً

یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍؕ-وَ اٰتَیْنٰهُ الْحُكْمَ صَبِیًّا(12)

ترجمہ: کنزالعرفان
اے یحیٰ ! کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں حکمت عطافرما دی تھی۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{یٰیَحْیٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ:اے یحیٰ !کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو ۔} حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت کے بعد جب آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عمر دو سال ہوئی تو  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ اے یحیٰ ! کتاب توریت کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور اس پر عمل کی بھرپور کوشش کرو اور ہم نے اسے بچپن ہی میں  حکمت عطا فرما دی تھی جب کہ آپ کی عمر شریف تین سال کی تھی ، اس وقت میں   اللہ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی نے آپ کو کا مل عقل عطا فرمائی اور آپ کی طرف وحی کی ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا  کا یہی قول ہے اور اتنی سی عمر میں  فہم و فراست اور عقل و دانش کا کمال، خَوارقِ عادات (یعنی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات) میں  سے ہے اور جب  اللہ تعالیٰ کے کرم سے یہ حاصل ہو تو اس حال میں  نبوت ملنا کچھ بھی بعید نہیں ، لہٰذا اس آیت میں  حکم سے نبوت مراد ہے اور یہی قول صحیح ہے ۔ بعض مفسرین نے اس سے حکمت یعنی توریت کا فہم اور دین میں  سمجھ بھی مراد لی ہے۔( جلالین، مریم، تحت الآیۃ۱۲، ص۲۵۴، خازن، مریم، تحت الآیۃ۱۲، ۳ / ۲۳۰، مدارک، مریم، تحت الآیۃ۱۲، ص۶۶۹، تفسیر کبیر، مریم، تحت الآیۃ۱۲، ۷ / ۵۱۶-۵۱۷، ملتقطاً)

 ہماری پیدائش کا اصلی مقصد:

            حضرت معاذ بن جبل رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ میرے بھائی حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر رحم فرمائے، جب انہیں  بچپن کی حالت میں  بچوں  نے کھیلنے کے لئے بلایا تو آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے (ان بچوں  سے) کہا: کیا ہم کھیل کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ؟ (ایسا نہیں  ہے، بلکہ ہمیں  عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہی ہم سے مطلوب ہے۔ جب نابالغ بچہ اس طرح کہہ رہا ہے تو )اس بندے کا قول کیسا ہونا چاہئے جو بالغ ہو چکا ہے۔( ابن عساکر، حرف الیاء، ذکر من اسمہ یحی، یحی بن زکریا بن نشوی۔۔۔ الخ، ۶۴ / ۱۸۳)

            اس سے معلوم ہوا کہ ہمیں  پیدا کئے جانے کا اصلی مقصد یہ نہیں  کہ ہم کھیل کود اور دُنْیَوی عیش و لذّت میں  اپنی زندگی بسر کریں  بلکہ ہماری پیدائش کا اصلی مقصد یہ ہے کہ ہم  اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں  ۔اسی چیز کو قرآنِ مجید میں  اس طرح بیا ن کیا گیا ہے کہ :

’’اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘‘(مومنون:۱۱۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں  بیکار بنایااور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں  جاؤ گے؟

 اور ارشاد فرمایا کہ:

’’وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ‘‘ (ذاریات:۵۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور میں  نے جن اور آدمی اسی لئے بنائے کہ میری عبادت کریں ۔

وَّ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ زَكٰوةًؕ-وَ كَانَ تَقِیًّا(13)

ترجمہ: کنزالعرفان
اور اپنی طرف سے نرم دلی اورپاکیزگی دی اور وہ (اللہ سے) بہت زیادہ ڈرنے والا تھا۔

تفسیر: ‎صراط الجنان

{وَ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا:اور اپنی طرف سے نرم دلی دی۔} اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی 3 صفات بیان فرمائی ہیں  ۔

(1)… اللہ تعالیٰ نے انہیں  اپنی طرف سے نرم دلی عطا کی اور ان کے دل میں  رِقَّت و رحمت رکھی تا کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں  پر مہربانی کریں  اور انہیں   اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی دعوت دیں ۔

(2)… اللہ تعالیٰ نے انہیں  پاکیزگی دی ۔حضرت عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَافرماتے ہیں  کہ یہاں  پاکیزگی سے طاعت و اخلاص مراد ہے۔ اور حضرت قتادہ رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  کہ پاکیزگی سے مراد عملِ صالح ہے۔(بغوی، مریم، تحت الآیۃ۱۳، ۳ / ۱۵۹)

(3)… وہ  اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والا تھا۔ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اللہ تعالیٰ کے خوف سے بہت گریہ و زاری کرتے تھے یہاں  تک کہ آپ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے رخسار مبارکہ پر آنسوؤں  سے نشان بن گئے تھے ۔

حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورتاجدارِ رسالت صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نرم دلی اور رحمت:

            اس آیت میں   اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نرم دلی اور رحمت ان الفاظ ’’ وَ حَنَانًا مِّنْ لَّدُنَّا‘‘کے ساتھ بیان فرمائی ،اور اپنے حبیب صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی نرم دلی اور امت پر شفقت ورحمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

’’ فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْ‘‘ (اٰل عمران:۱۵۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اے حبیب! اللہ کی کتنی بڑی مہربانی ہے کہ آپ ان کے لئے نرم دل ہیں ۔اور ارشاد فرمایا: ’’لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘(توبہ:۱۲۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک تمہارے پاس تم میں  سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں  پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے، مسلمانوں  پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں ۔

            اس سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بھی کمال درجے کی نرم دلی ، امت کی بھلائی کی حرص اور مسلمانوں  پر شفقت و رحمت عطا کی ہے ۔

نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پاک کرنے والے ہیں

             اللہ تعالیٰ نے حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  ارشاد فرمایا کہ ہم نے اپنی طرف سے انہیں  پاکیزگی دی۔ اور اپنے حبیب صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  ارشاد فرمایا :

’’لَقَدْ  مَنَّ  اللّٰهُ  عَلَى  الْمُؤْمِنِیْنَ  اِذْ  بَعَثَ  فِیْهِمْ  رَسُوْلًا  مِّنْ  اَنْفُسِهِمْ  یَتْلُوْا  عَلَیْهِمْ  اٰیٰتِهٖ  وَ  یُزَكِّیْهِمْ  وَ  یُعَلِّمُهُمُ  الْكِتٰبَ  وَ  الْحِكْمَةَۚ-وَ  اِنْ  كَانُوْا  مِنْ  قَبْلُ  لَفِیْ  ضَلٰلٍ  مُّبِیْنٍ‘‘(اٰل عمران:۱۶۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک  اللہ نے ایمان والوں  پر بڑا احسان فرمایا جب ان میں  ایک رسول مبعوث فرمایا جو انہی میں  سے ہے۔وہ ان کے سامنے  اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اورانہیں  پاک کرتا ہے اور انہیں  کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اگرچہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناکھلی گمراہی میں  پڑے ہوئے تھے۔

 نبی اکرم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خوفِ خدا:

            اس آیت میں  حضرت یحیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں  ارشاد ہو اکہ وہ  اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرنے والے تھے،اس مناسبت سے یہاں  حبیبِ خدا  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خوفِ خدا کی تین روایات ملاحظہ ہوں ، چنانچہ حضرت انس رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ خدا کی قسم! میں  تم سب میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ سے زیادہ ڈرنے والا اور خوف کرنے والا ہوں ۔( بخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، ۳ / ۴۲۱، الحدیث۵۰۶۳)

            حضرت براء بن عازب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : ہم حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ ایک جنازے میں  شریک تھے، آپ صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قبر کے کنارے بیٹھے اور اتنا روئے کہ آپ کی چشمانِ اقدس سے نکلنے والے آنسوؤں  سے مٹی نم ہوگئی ۔ پھر ارشاد فرمایا ’’اے بھائیو! اس قبر کے لئے تیاری کرو۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الحزن والبکاء، ۴ / ۴۶۶، الحدیث۴۱۹۵)

Leave a Reply