تفسیر سورہ بقرہ آیت ۹۴۔۹۵۔۹۶ ۔ از تفسیر ناموس رسالت

رسول اللہ ﷺکے مقابلے میں آنے والا گستاخ تباہ ہوجاتاہے

{قُلْ اِنْ کَانَتْ لَکُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ عِنْدَ اللہِ خَالِصَۃً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ}(۹۴){وَلَنْ یَّتَمَنَّوْہُ اَبَدًابِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ وَاللہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ}(۹۵){وَلَتَجِدَنَّہُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا یَوَدُّ اَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍ وَمَا ہُوَ بِمُزَحْزِحِہٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ وَاللہُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ}(۹۶)
ترجمہ کنزالایمان :تم فرماؤ اگر پچھلا گھر اللہ کے نزدیک خالص تمہارے لئے ہو نہ اوروں کے لئے تو بھلا موت کی آرزو تو کرو اگر سچے ہو ۔اور ہرگز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان بداعمالیوں کے سبب جو آگے کرچکے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کواور بے شک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں سے ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جیئے اور وہ اسے عذاب سے دور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا اور اللہ ان کے کوتکوںکو دیکھ رہا ہے ۔
ترجمہ ضیاء الایمان:اے حبیب (ﷺ)! آپ فرمائیں کہ اگرآخرت کاگھردوسرے لوگوں کو چھوڑ کر اللہ تعالی کے ہاں خالص تمھارے لئے ہی ہے تو تم موت کی تمناکرواگرتم سچے ہوتو۔اوراے حبیب ﷺیہ کبھی بھی موت کی تمنانہیں کریں گے اپنی بداعمالیوں کے سبب جو آگے بھیج چکے ہیں اوراللہ تعالی ظالموں کوخوب جانتاہے ۔ اوربے شک تم ان کو پائوگے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی حرص یہی رکھتے ہیں اورمشرکوںمیںسے ایک گروہ تمناکرتاہے کہ کاش ان کو ہزارسال کی زندگی دے دی جائے حالانکہ اتنی عمر دیاجانابھی ان سے عذاب کو دورنہیں کرے گااوراللہ تعالی ان کے تمام اعمال بدکو خوب دیکھ رہاہے ۔
یہودیوں کاعقیدہ ہے کہ ہم اللہ تعالی کے بیٹے اوراس کے پیارے ہیں لہذایہودیوں کے سواجنت میں کوئی بھی نہیں جاسکتاتواللہ تعالی نے فرمایاکہ اگریہی بات ہے توتم موت کی تمناکرو،پھرتمھیں دنیامیں رہ کر اس کی تکالیف سہنے کی کیاضرورت ہے ؟ ابھی مرواورجنت پہنچو، کیونکہ دنیاکی نعمتیں خواہ کتنی ہی اعلی ہوں جنتی نعمتوں کے مقابلہ میں ان کی کچھ حیثیت نہیں ہے ، دنیاکی زندگی تکالیف ، بیماریوں ، صدموں اورپریشانیوں سے عبارت ہے ۔ جنت میں نہ بیماری ، نہ صدمہ ، اللہ تعالی نے فرمایا:مگریہود کبھی بھی موت کی تمنانہیں کریں گے کیونکہ اس سے قبل یہی لوگ انبیاء کرام علیہم السلام کو شہید کرچکے ہیں اورپھررسول اللہ ﷺکی صداقت سے اطلاع پاکربھی رسول اللہ ﷺکے منکربنے اوررسول اللہ ﷺکے راستے میں روڑے اٹکائے اوررسول اللہ ﷺکو شہیدکرنے کی بہت مرتبہ کوشش کی ۔ یہ وجوہ ہیں ان کی موت کی تمنانہ کرنے کی ۔ورنہ کیامشکل تھاان کے لئے کہ وہ کہہ دیتے تاکہ ان پر جو موت سے ڈرنے کاالزام تھااسے صاف کردیتے ۔
ایک سوال یہ ذہن میں آتاہے کہ یہود ی رسول اللہ ﷺکے مقابلے کے لئے میدان میں کیوں نہیں آئے جب قرآن کریم نے ان کو بلایاکہ آئواورموت کی تمناکروتوان میں سے کوئی بھی نہیں آیا۔ اس کاجواب یہ ہے کہ صرف اورصرف اس لئے کہ وہ دل سے رسول اللہ ﷺکو سچاجانتے تھے ، ان کے دلوں میں کھٹکاتھاکہ اگر ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ مباہلہ کے لئے نکل آئے تو یقیناہلاک ہوجائیں گے ، وہ جانتے تھے کہ اگرہمارے پاس سچائی کی کوئی دلیل ہوتی تو ہم دلیل پیش کردیتے ، جب ہم دلیل پیش نہ کرسکے اوراپنے دعوں سے بھی باز نہ آئے تب ہی رسول اللہ ﷺ نے ان کو دعوت مباہلہ دی اوریہ وہ آخری حدہے جس پر پہنچ کرجھوٹاکبھی بھی واپس نہیں آسکتا، لھذاان کو اپنی موت نظرآنے لگی ۔

اگروہ ہمارے مقابلے میں آجاتے تو۔۔۔۔

عَنْ أَبِی صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وسلم:إِنْ کُنْتُمْ فِی مَقَالَتِکُمْ صَادِقِینَ فَقُولُوا: اللہُمَّ أَمِتْنَافو الذی نَفْسِی فِی یَدِہِ لَا یَقُولُہَا رَجُلٌ مِنْکُمْ إِلَّا غُصَّ بَرِیقِہِ فَمَاتَ مَکَانَہُ، فَأَبَوْا أَنْ یَفْعَلُوا وَکَرِہُوا مَا قَالَ لَہُمْ فَنَزَلَ:وَلَنْ یَتَمَنَّوْہُ أَبَداً بِما قَدَّمَتْ أَیْدِیہِمْ یَعْنِی:عَمِلَتْہُ أَیْدِیہِمْ وَاللہُ علیہم بالظالمین أَنَّہُمْ لَنْ یَتَمَنَّوْافَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ علیہ وَسَلَّمَ عِنْدَ نُزُولِ ہَذِہِ الآیۃوَاللہِ لَا یَتَمَنَّوْنَہُ أَبَدًا، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ تَمَنَّوَا الْمَوْتَ لَمَاتُوا فَکَرِہَ أَعْدَاء ُ اللہِ الْمَوْتَ فَلَمْ یَتَمَنَّوَا الْمَوْتَ جَزَعًا أَنْ یَنْزِلَ بِہِمُ الْمَوْتَ۔
ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اے حبیب کریم ﷺ! آپ یہودیوں سے فرمائیں کہ اگرآخرت کاگھرتمھارے ساتھ ہی خاص ہے تو جیساکہ تمھاراگمان ہے اورمومنین کو اس میں جگہ نہیں ملے گی توپھرموت کی تمناکرواگرتم سچے ہو، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:تم اگربات میں سچے ہوتوکہو{اللہُمَّ أَمِتْنَا}اے اللہ ! ہمیں موت دے دے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی ایسانہیں کہے گامگر وہ اپنی تھوک کے گلے میں اٹکنے کی وجہ سے مرجائے گا، یہودیوں نے ایساکہنے سے انکارکردیا، اللہ تعالی نے فرمایاوہ اپنے اعمال کی وجہ سے موت کی تمنانہیں کریں گے ، رسول اللہ ﷺنے اس آیت کے نزول کے وقت ہی فرمادیاتھاکہ اللہ تعالی کی قسم ! یہ کبھی بھی موت کی تمنانہیں کریں گے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ اللہ تعالی کے دشمن موت کو ناپسندکرتے ہیں اوروہ ہر گزہرگزموت کی تمنانہیں کرتے اگروہ یہودی موت کی تمناکرتے تو اسی وقت سارے کے سارے مرجاتے ۔
(دلائل النبوۃ :أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۶:۲۷۵)

یہودی رسول اللہ ﷺکی تکذیب کرکے آخرت سے ڈرنے لگے

(بِمَا قَدَّمَتْ أَیْدِیہِمْ) بما أسلفوا من الکفر بمحمد علیہ السلام وتحریف کتاب اللہ وغیر ذلک وہو من المعجزات لأنہ إخبار بالغیب۔
ترجمہ :امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد النسفی المتوفی : ۷۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس وجہ سے وہ موت کی تمنانہیں کریں گے کہ انہوںنے رسول اللہ ﷺکے ساتھ کفرکیاہے اوراللہ تعالی کی کتاب میں تحریف کرکے رسول اللہ ﷺکی نبوت کے دلائل کو بدل دیا۔
(تفسیر النسفی :أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی(۱:۱۱۱)

یہودیوں کوڈانٹ پلائی گئی

فحذف لدلالۃ أحرص الناس علیہ وفیہ توبیخ عظیم لأن الذین أشرکوا لا یؤمنون بعاقبۃ ولا یعرفون إلا الحیاۃ الدنیا فحرصہم علیہا لا یستبعد لأنہا جنتہم فإذا زاد فی الحرص من لہ کتاب وہو مقر بالجزاء کان حقیقاً بأعظم التوبیخ وإنما زاد حرصہم علی الذین أشرکوا لأنہم علموا أنہم صائرون إلی النار لعلمہم بحالہم والمشرکون لا یعلمون ۔
ترجمہ :امام ابوالبرکات عبداللہ بن احمد النسفی المتوفی : ۷۱۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں یہودیوں کو سخت ڈانٹ پلائی گئی ہے ، اس لئے کہ مشرکوں کوتوآخرت پر یقین نہیں ہے اوروہ فقط دنیوی زندگی جانتے ہیں ، اگروہ دنیاکے بارے میں حرص کریں توکچھ بعید نہیں ہے ، کیونکہ یہی ان کی جنت ہے ۔ پس اگرکوئی اہل کتاب ہوتے ہوئے زیادہ حرص کرے جبکہ اس کی جزاء وسزاء کااقراربھی ہے ، تووہ عظیم توبیخ کامستحق ہے ۔ مشرکین سے ان کی حرص بڑھنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ دوزخ میں جائیں گے ، کیونکہ ان کو اپنی حالت معلوم تھی اورمشرکین کو اپنے متعلق کچھ معلوم نہیں ہے۔
(تفسیر النسفی :أبو البرکات عبد اللہ بن أحمد بن محمود حافظ الدین النسفی(۱:۱۱۱)

حضرت سیدناعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکاجلال

وعن نافع جلس إلینا یہودی یخاصمنا فقال ان فی کتابکم فتمنوا الموت وانا اتمنی فما لی لا أموت فسمع ابن عمر رضی اللہ عنہما ہذا فدخل بیتہ وأخذ السیف ثم خرج ففر الیہودی حین رآہ فقال ابن عمر اما واللہ لو أدرکتہ لضربت عنقہ توہم ہذا الجاہل انہ للیہود فی کل وقت انما ہو لاولئک الذین کانوا یعاندونہ ویجحدون نبوتہ بعد ان عرفوہ۔
ترجمہ :حضرت سیدنانافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک یہودی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اوروہ ہمارے ساتھ جھگڑرہاتھاکہ تمھاری کتاب میں لکھاہے کہ {ِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ }اورمیں موت کی تمناکرتاہوں لیکن مجھ پر موت واقع نہیں ہوگی ۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے سناتوگھرمیں داخل ہوکرتلوار لٹکائے باہر تشریف لائے تویہودی فوراً بھاگ گیا۔ حضرت سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے فرمایا: اگروہ میرے آنے تک ٹھہرتاتومیں اس کی گردن اتاردیتا۔ کیونکہ وہ جاہل خیال کرتاہے یہ حکم یہودیوں کے لئے ہر وقت ہے ۔ ایساہرگزنہیں بلکہ یہ صرف انہیں کے لئے تھاجو اس وقت رسول اللہ ﷺاورقرآن کریم کی مخالفت کررہے تھے اوررسول اللہ ﷺکے دشمن تھے ۔
(روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی , المولی أبو الفداء (ا:۱۸۴)

یہودیوں کی خواہش کہ وہ ہزارسال تک زندہ رہیں

ولأنہا تحیۃ المجوس فیما بینہم یقولون: زہ ہزار سال أی عش ألف سنۃ أو ألف نیروز أو ألف مہرجان فہذہ تحیتہم. والمعنی أن الیہود أحرص من المجوس الذین یقولون ذلک وَما ہُوَ بِمُزَحْزِحِہِ أی بمباعدہ مِنَ الْعَذابِ أی النار أَنْ یُعَمَّرَ أی لو عمر طول عمرہ لا ینقذہ من العذاب وَاللَّہُ بَصِیرٌ بِما یَعْمَلُونَ أی لا یخفی علیہ خافیۃ من أحوالہم۔
ترجمہ :امام علاء الدین الخازن المتوفی : ۷۴۱ھ) رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں سلام کے موقع پر کہتے ہیں زِہ ہزار سال یعنی ہزار برس جیو ۔ان کے اس قول کے پیشِ نظر آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب ﷺ مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں اوریہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں جینے کی ہوس سب سے زیادہ ہے حالانکہ اتنی عمر کا دیا جانابھی اسے جہنم کے عذاب سے دور نہ کرسکے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کا کوئی حال اللہ تعالیٰ سے چھپا ہوا نہیں۔
(لباب التأویل فی معانی التنزیل: علاء الدین علی بن محمد، المعروف بالخازن (۱:۶۱)

بندہ مومن موت سے نہیں ڈرتا

رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو دنیاکی عظیم ترین طاقتوں سے ٹکرائے اوراپنے سے کئی سوگناہ زیادہ طاقتور لشکروں کے خلاف نبردآزماہوئے توان میں یہی صفت سب سے زیادہ نمایاں تھی کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے تھے اوراللہ تعالی کی راہ میں شہادت کو سعاد ت جانتے تھے ، جنگ قادسیہ میں ایرانی مجوسیوں نے اپنے سپہ سالارکو یہی بتایاتھاکہ ہماراواسطہ ایسی قوم کے ساتھ پڑ رہاہے جو شراب نہیں پیتے اورساری رات جاگتے ہیں اورنمازاداکرتے ہیں اورموت سے نہیں ڈرتے بلکہ موت آنے کو اپنی کامیابی جانتے ہیں ایسی قوم سے لڑنابہت مشکل ہے ۔
حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ کافرمان
عَن عَلّی أَنہ کَانَ یطوف بَین الصفین فِی غِلَالَتِہِ قَالَ لَہُ ابْنہ الْحسن مَا ہَذَا بزِی الْمُحَاربین فَقَالَ یَا بنی لَا یُبَالِی أَبوک سقط عَلَی الْمَوْت أم الْمَوْت سقط عَلَیْہِ۔
ترجمہ :حضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں صرف ایک چغہ پہنے ہوئے تھے،تیروں کی بارش ہورہی تھی ، حضرت سیدناامام حسن رضی اللہ عنہ نے عرض کی :اباجان ! آپ کایہ لباس جنگی نہیں ہے توحضرت سیدنامولاعلی رضی اللہ عنہ نے جواباًفرمایاکہ مجھے اس چیز کاکوئی خوف نہیں ہے کہ موت مجھ پر گرائی جائے یامیں موت پر گرایاجائوں۔
(تخریج الأحادیث والآثار الواقعۃ فی تفسیر الکشاف :جمال الدین أبو محمد عبد اللہ بن یوسف بن محمد الزیلعی (ا:۱۷۴)

حضرت سیدناعماربن یاسررضی اللہ عنہ کی موت سے بے خوفی

وَقَالَ عمار بصفین الْآن أُلَاقِی الْأَحِبَّۃ مُحَمَّدًا وَحزبہ۔
ترجمہ :حضرت سیدناعمار بن یاسررضی اللہ عنہ ایک جنگ میں موجودتھے اورمیدان جنگ میں کہہ رہے تھے کہ میں آج رسول اللہ ﷺاوراپنے دوستوں سے ملوں گا۔
(تخریج الأحادیث والآثار الواقعۃ فی تفسیر الکشاف :جمال الدین أبو محمد عبد اللہ بن یوسف بن محمد الزیلعی (ا:۱۷۴)

رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاموت کو پسندکرنا

عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ، قَالَ: کَتَبَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ إِلَی أَہْلِ فَارِسَ یَدْعُوہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ: بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ إِلَی رُسْتُمَ، ومِہْرَانَ، وَمَلَإِ فَارِسَ سَلَامٌ عَلَی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَی، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّا نَدْعُوکُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ، فَإِنْ أَبَیْتُمْ فَأَعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ، فَإِنَّ مَعِی قَوْمًا یُحِبُّونَ الْقَتْلَ فِی سَبِیلِ اللہِ کَمَا یُحِبُّ فَارِسُ الْخَمْرَ، وَالسَّلَامُ عَلَی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَی۔
ترجمہ:حضرت سیدناابووائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدناخالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایران والوں کوجو خط بھیجا اس میں تحریر فرمایا تھا:بسم اللہ الرحمن الرحیم خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ ) کی جانب سے رستم ،مہران اوران کے لشکرکی طرف ، سلام ہواس پر جو ہدایت کی پیروی کرے ، امابعد : اس کے بعدہم تجھے اسلام کی دعوت دیتے ہیں ،اگرتم انکارکروتو پھرجزیہ دواورتم ذلیل ہوکر رہو بے شک میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جانے کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا ایرانی لوگ شراب سے محبت رکھتے ہیں۔سلام ہواس پر جوہدایت کی پیروی کرے ۔
(المعجم الکبیر: سلیمان بن أحمد بن أیوب بن مطیر اللخمی الشامی، أبو القاسم الطبرانی (۴:۱۰۵)
اس میں لطیف اشارہ تھا کہ شراب کی ناقص مستی کو محبت ِ دنیا کے دیوانے پسند کرتے ہیں اور اللہ والے موت کو محبوب حقیقی کے وصال کا ذریعہ سمجھ کر محبوب جانتے ہیں۔

معارف ومسائل

(۱) اس سے معلوم ہواکہ یہودیوں نے قرآن کامقابلہ کرناقبول نہ کیاتواللہ تعالی نے فرمایاکہ یہودی موت کی تمناکبھی بھی نہیں کریں گے ، بلکہ وہ طویل العمری کے اتنے خواہشمندہیں کہ آپ انہیں عام انسانوں اورمشرکین سے بھی زیادہ حریص پائیں گے ۔ مشرک کے نزدیک آخرت کاکوئی تصور نہیں ہے توان کاطویل زندگی پر حرص کرنامعقول ہے مگریہ یہودی آخرت کو ماننے کے مدعی ہیں اورخود کو جنت کامالک کہتے ہیں اورساتھ ساتھ دنیوی زندگی پر بہت زیادہ حریص ہیںا ورموت سے خوف زدہ ہیں ۔جیساکہ پچھلے کچھ سالوں میں اسرائیل میں آگ لگ گئی تھی توان کاوزیراعظم آبدوز پر بیٹھ کر زیرزمین چلاگیاتھا۔
(۲) اس سے معلوم ہواکہ دنیابھر کے کافروں کو اپنے مذہب کے سچے ہونے کایقین نہیں ہے ، اسی وجہ سے وہ موت سے ڈرتے ہیں ۔ بندہ مومن جہاں بھی ہوگاوہ موت سے نہیں ڈرے گا۔ جیساکہ آپ ہندئوںاورمشرکوں کو دیکھیں گے تو وہ بہت زیادہ اسی زندگی کے حریص ہوں گے۔
(۳) اس سے معلوم ہواکہ یہودیوں کو رسول اللہ ﷺکی نبوت کاعلم تھاباوجود علم کے انہوںنے رسول اللہ ﷺکی نبوت کاانکارکیا، اس سبب سے وہ ڈرتے تھے کیونکہ انہیں یقین تھاکہ انہوںنے جورسول اللہ ﷺکے ساتھ دشمنی کی ہے اب ان کے لئے سوائے دوزخ کے کچھ نہیں ہے ۔
(۴) اس آیت سے معلوم ہواکہ جتنے بھی رسول اللہ ﷺکے بے ادب اورگستاخ ہیں ان کو موت سے بہت ڈرلگتاہے ، آج بھی دیکھ لیں جتنے گستاخ ہیں ان کی راتوں کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں ۔ جتنے بھی گستاخ ہیں سب کے سب یہاں سے بھاگ گئے ہیں اورکافروں کے ہاں پناہ لیے بیٹھے ہیں اوروہ بھی ان کی حفاظت پربے بہاپیسہ صرف کررہے ہیں ۔ اوراسی طرح ہالینڈ کا گستاخ جورسول اللہ ﷺکے خلاف بکواس کرتارہتاہے ۔ جب اس کو حضرت اقدس امیرالمجاہدین مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی نے دھمکی دی کہ ہم اس کو قتل کردیں گے تواس کے بعد ایساڈراکہ اپنی بیوی سے بھی ملناترک کردیا۔
(۵) اس سے معلوم ہواکہ جو لوگ عقائد اسلام کو پس پشت ڈال کردنیامیں رہناچاہتے ہیں وہ ہرگزہرگزقابل عزت نہیں ہیں ۔
(۶) یہودیوں کادعوی تھاکہ ہم توراۃ پر عامل ہیں تواللہ تعالی نے ثابت کردیاکہ ان کایہ دعوی کذب پر مبنی ہے ۔
(۷) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ یہودیوں کانصب العین اورمقصدحیات ہی مال ودولت کو جمع کرناتھااوراس کے علاوہ کچھ نہیں ۔
(۸) اللہ تعالی کے ساتھ محبت کااظہارکرتے ہیں مگر اس کے لئے قربانی دینے کے لئے تیارنہیں ہیں۔
(۹) مذہبی جذبات کو پامال کرکے زندہ رہناچاہتے تھے جو کہ انسانیت کے ہی خلاف ہے جیساکہ ہمارے دورمیں لبرل از م کے گندمیں پڑے لوگ چاہتے ہیں۔
(۱۰) جوجوخرابیاں یہودیوں میں تھیں آج آپ ساراجہان دیکھ لیں وہ امت مسلمہ میں تمام کی تمام خرابیاں نظرآئیں گی۔
(۱۱)ہمارے دورکے بعض علماء اورمشائخ یعنی گدی نشین حضرات کو اللہ تعالی کے ساتھ محبت ہوتی تووہ اپنی زندگیوں کو اشاعت اسلام اوراعلائے کلمۃ الحق کے لئے وقف کردیتے یاکم از کم مذہب کودکانداری کاذریعہ نہ بناتے گویاکہ آج قوم مسلم کے بعض علماء تویہودی علماء کے بھی ناک کاٹ گئے ہیں ، اوریہ کیسے ہوسکتاہے کہ یہودتوانہیں بے اعتدالیوں اورمذہبی خرافات کی بناپر اللہ تعالی کی لعنت کے مستحق ہوں اورمسلمانوں کے لئے ساری راہیں کشادہ ہوں۔

Leave a Reply