تفسیر سورہ بقرہ آیت ۶۷۔۶۸۔۶۹ ۔۷۰ تفسیر ناموس رسالت

حضرت سیدناموسی علیہ السلام سے معاندانہ سوالات کرنے والوں پر اللہ تعالی کی پکڑ

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖٓ اِنَّ اللہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا ہُزُوًا قَالَ اَعُوْذُ بِاللہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ}(۶۷){قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ہِیَ قَالَ اِنَّہ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌ عَوَانٌ بَیْنَ ذٰلِکَ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ}(۶۸){قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُہَا قَالَ اِنَّہ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآء ُ فَاقِـعٌ لَّوْنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ}(۶۹){قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ہِیَ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَا وَ اِنَّآ اِنْ شَآء َ اللہُ لَمُہْتَدُوْنَ}(۷۰){قَالَ اِنَّہ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَ مُسَلَّمَۃٌ لَّاشِیَۃَ فِیْہَا قَالُوا الْـٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوْہَا وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ}(۷۱){وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَء ْ تُمْ فِیْہَا وَاللہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ}(۷۲){فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِہَا کَذٰلِکَ یُحْیِ اللہُ الْمَوْتٰی وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ}(۷۳)
ترجمہ کنزالایمان:اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو ،بولے کہ آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں فرمایا خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں ۔

بولے اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے گائے کیسی ؟کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اَوْسَربلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے ۔بولے اپنے رب سے دعاء کیجئے ہمیں بتادے اس کا رنگ کیا ہے کہا وہ فرماتا ہے وہ ایک پیلی گائے ہے جس کی رنگت ڈہڈہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی ۔بولے اپنے رب سے دعاکیجئے کہ ہمارے لئے صاف بیان کرے وہ گائے کیسی ہے بیشک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑگیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پا جائیں گے ۔کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں بولے اب آپ ٹھیک بات لائے تو اسے ذبح کیا اور ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے ۔اور جب تم نے ایک خون کیا تو ایک دوسرے پر اس کی تہمت ڈالنے لگے اور اللہ کو ظاہر کرناجو تم چھپاتے تھے ،تو ہم نے فرمایا اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو اللہ یونہی مردے جلائے گا اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ کہیں تمہیں عقل ہو۔
ترجمہ ضیاء الایمان:اوریاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق کرتے ہیں ؟ موسیٰ نے فرمایا، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاوں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے کہ وہ گائے کیسی ہے؟ فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے جو نہ توبوڑھی ہے اور نہ بالکل کم عمربلکہ ان دونوں کے درمیان درمیان ہو۔ تو وہ کرو جس کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا:آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے، اس گائے کا رنگ کیا ہے؟ فرمایاکہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ پیلے رنگ کی گائے ہے جس کا رنگ بہت گہرا ہے۔ وہ گائے دیکھنے والوں کو خوشی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے واضح طور پر بیان کردے کہ وہ گائے کیسی ہے؟ کیونکہ بیشک گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے اور اگراللہ چاہے گا تو یقینا ہم راہ پالیں گے۔

حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا:اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے جس سے یہ خدمت نہیں لی جاتی کہ وہ زمین میں ہل چلائے اور نہ وہ کھیتی کو پانی دیتی ہے۔ بالکل بے عیب ہے، اس میں کوئی داغ نہیں۔ (یہ سن کر)انہوں نے کہا:اب آپ بالکل صحیح بات لائے ہیں۔ پھر انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا حالانکہ وہ ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا پھر اس کا الزام کسی دوسرے پر ڈالنے لگے حالانکہ اللہ ظاہر کرنے والا تھااس کو جسے تم چھپا رہے تھے۔ تو ہم نے فرمایا (کہ)اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو۔ اسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ کرے گا۔ اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ جاو۔

ان آیات مبارکہ کاپس منظر
قال علماء السیر والأخبار: إنہ کان فی زمن بنی إسرائیل رجل غنی ولہ ابن عم فقیر لا وارث لہ سواہ فلما طال علیہ موتہ قتلہ لیرثہ وحملہ إلی قریۃ أخری، وألقاہ علی بابہا ثم أصبح یطلب ثارہ وجاء بناس إلی موسی یدعی علیہم بالقتل، فجحدوا واشتبہ أمر القتیل علی موسی علیہ الصلاۃ والسلام. فسألوا موسی أن یدعو اللہ لیبین لہم ما أشکل علیم، فسأل موسی ربہ فی ذلک فأمرہ بذبح بقرۃ، وأمرہ أن یضربہ ببعضہا فقال لہم: إن اللہ یأمرکم أن تذبحوا بقرۃ قالُوا أَتَتَّخِذُنا ہُزُواً أی نحن نسألک أمر القتیل، وأنت تستہزء بنا وتأمرنا بذبح بقرۃ وإنما قالوا ذلک لبعد ما بین الأمرین فی الظاہر، ولم یعلموا ما وجہ الحکمۃ فیہ قالَ یعنی موسی أَعُوذُ بِاللَّہِ أی أمتنع باللہ أَنْ أَکُونَ مِنَ الْجاہِلِینَ أی المستہزئین بالمؤمنین وقیل: من الجاہلین بالجواب لا علی وفق السؤال فلما علموا أن ذبح البقرۃ عزم من اللہ تعالی استوصفوہ إیاہا ولو أنہم عمدوا إلی أی بقرۃ کانت فذبحوہا لأجزأت عنہم ولکن شددوا فشدد علیہم وکان فی ذلک حکمۃ اللہ عز وجل، وذلک أنہ کان رجل صالح فی بنی إسرائیل، ولہ ابن طفل ولہ عجلۃ فأتی بہا غیضۃ وقال: اللہم إنی استودعتک ہذہ العجلۃ لابنی حتی یکبر ومات ذلک الرجل، وصارت العجلۃ فی الغیضۃ عوانا وکانت تہرب من الناس، فلما کبر ذلک الطفل، وکان بارا بأمہ وکان یقسم لیلہ ثلاثۃ أجزاء یصلی ثلثا وینام ثلثا، ویجلس عند رأس أمہ ثلثا فإذا أصبح انطلق فیحتطب ویأتی بہ السوق فیبیعہ بما یشاء اللہ فیتصدق بثلثہ ویأکل ثلثہ ویعطی أمہ ثلثہ، فقالت لہ أمہ یوما: یا بنی إن أباک ورثک عجلۃ استودعہا اللہ فی غیضۃ کذا فانطلق وادع إلہ إبراہیم وإسماعیل وإسحاق أن یردہا علیک وعلامتہا أنک إذا نظرت إلیہا یخیل إلیک أن شعاع الشمس یخرج من جلدہا، وکانت تسمی المذہبۃ لحسنہا وصفرتہا، فأتی الفتی غیضۃ فرآہا ترعی فصاح بہا وقال أعزم علیک بإلہ إبراہیم وإسماعیل وإسحاق، فأقبلت البقرۃ حتی وقفت بین یدیہ فقبض علی قرنہا یقودہا فتکلمت البقرۃ بإذن اللہ تعالی، وقالت: أیہا الفتی البار بأمہ ارکبنی فإنہ أہون علیک. فقال الفتی: إن أمی لم تأمرنی بذلک فقالت البقرۃ واللہ لو رکبتنی ما کنت تقدر علیّ أبدا فانطلق فإنک لو أمرت الجبل أن ینقلع من أصلہ لانقلع لبرک بأمک فسار الفتی بہا إلی أمہ فقالت لہ أمہ: إنک رجل فقیر ولا مال لک ویشق علیک الاحتطاب بالنہار والقیام باللیل فانطلق فبع البقرۃ، فقال: بکم أبیعہا قالت: بثلاثۃ دنانیر ولا تبع بغیر مشورتی وکان ثمن البقرۃ ثلاثۃ دنانیر فانطلق بہا الفتی إلی السوق، وبعث اللہ ملکا لیری خلقہ قدرتہ، ولیختبر الفتی کیف برہ بأمہ، وہو أعلم فقال لہ الملک: بکم ہذہ البقرۃ؟ قال بثلاثۃ دنانیر، وأشترط علیک رضی أمی فقال لہ الملک: لک ستۃ دنانیر ولا تستأمر أمک فقال لہ الفتی لو أعطیتنی وزنہا ذہبا لم آخذہ إلا برضا أمی. ورجع الفتی إلی أمہ فأخبرہا بالثمن فقالت لہ: ارجع فبعہا بستۃ دنانیر ولا تبعہا إلا برضای فرجع بہا إلی السوق وأتی الملک فقال لہ: استأمرت أمک فقال الفتی: نعم. إنہا أمرتنی أن لا أنقصہا عن ستۃ علی رضاہا. فقال الملک: إنی أعطیتک اثنی عشر دینارا ولا تستأمرہا فأبی الفتی ورجع إلی أمہ فأخبرہا بذلک فقالت لہ أمہ: إن الذی یأتیک ملک فی صورۃ آدمی لیجربک، فإذا أتاک فقل لہ: أتأمرنا أن نبیع ہذہ البقرۃ أم لا ففعل فقال لہ الملک: اذہب إلی أمک فقل لہا أمسکی ہذہ البقرۃ فإن موسی بن عمران یشتریہا منک لقتیل یقتل فی بنی إسرائیل، فلا تبعہا إلا بملء مسکہا ذہبا والمسک الجلد فأمسکتہا وقدر اللہ علی بنی إسرائیل ذبح البقرۃ بعینہا،فما زالوا یستوصفون البقرۃ حتی وصفت لہم تلک البقرۃ بعینہا مکافأۃ بذلک الفتی علی برہ بأمہ ۔

ترجمہ:علماء اہل سیرواخبار نے نقل کیاہے کہ ان آیات میں یہودیوں کو جو واقعہ یاد دلایا جا رہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص عامیل کو اس کے عزیز نے خفیہ طور پر قتل کر کے دوسرے محلہ میں ڈال دیا تا کہ اس کی میراث بھی لے اور خون بہا بھی اور پھر دعویٰ کر دیا کہ مجھے خون بہا دلوایا جائے۔ قاتل کا پتہ نہ چلتا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے درخواست کی کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقت حال ظاہر فرمائے، اس پر حکم ہوا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کا کوئی حصہ مقتول کو ماریں ، وہ زندہ ہو کر قاتل کے بارے میں بتادے گا۔ لوگوں نے حیرانی سے کہا کہ کیا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہم سے مذاق کررہے ہیں کیونکہ مقتول کا حال معلوم ہونے اور گائے کے ذبح کرنے میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جواب دیا، میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں مذاق کر کے جاہلوں میں سے ہوجاوں۔ جب بنی اسرائیل نے سمجھ لیا کہ گائے کا ذبح کرنا مذاق نہیں بلکہ باقاعدہ حکم ہے تو انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اس کے اوصاف دریافت کیے اور بار بار سوال کرکے وہ لوگ قیدیں بڑھاتے گئے اور بالآخر یہ حکم ہوا کہ ایسی گائے ذبح کرو جو نہ بوڑھی ہو اور نہ بہت کم عمر بلکہ درمیانی عمر کی ہو، بدن پر کوئی داغ نہ ہو، ایک ہی رنگ کی ہو، رنگ آنکھوں کو بھانے والا ہو، اس گائے نے کبھی کھیتی باڑی کی ہو نہ کبھی کھیتی کو پانی دیا ہو۔ آخری سوال میں انہوں نے کہا کہ اب ہم ان شاء اللہ راہ پالیں گے۔ بہر حال جب سب کچھ طے ہوگیا اور ان کی تسلی ہوگئی توانہوں نے گائے کی تلاش شروع کر دی۔
ان کے اطراف میں ایسی صرف ایک گائے تھی، اس کا حال یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک صالح شخص تھے ان کا ایک چھوٹا بچہ تھا اور ان کے پاس ایک گائے کے بچے کے علاوہ اور کچھ نہ رہا تھا، انہوں نے اس کی گردن پر مہر لگا کر اللہ تعالیٰ کے نام پر چھوڑ دیا اور بارگاہِ حق میں عرض کی:یارب!عَزَّوَجَلَّ میں اس بچھیا کو اس فرزند کے لیے تیرے پاس ودیعت رکھتا ہوں تاکہ جب یہ فرزند بڑا ہو تویہ اس کے کام آئے۔ اس نیک شخص کا تو انتقال ہوگیا لیکن وہ بچھیا جنگل میں اللہ تعالیٰ کی حفا ظت میں پرورش پاتی رہی، یہ لڑکا جب بڑا ہوا تو صالح ومتقی بنا اور ماں کا فرمانبردار تھا۔ ایک دن اس کی والدہ نے کہا:اے نورِ نظر!تیرے باپ نے تیرے لئے فلاں جنگل میں خدا کے نام ایک بچھیا چھوڑی تھی وہ اب جوان ہوگئی ہوگی، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ تجھے عطا فرمائے اورتو اسے جنگل سے لے آ۔ لڑکا جنگل میں گیا اور اس نے گائے کو جنگل میں دیکھا اوروالدہ کی بتائی ہوئی علامتیں اس میں پائیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر بلایا تووہ حاضر ہوگئی۔ وہ جوان اس گائے کو والدہ کی خدمت میں لایا۔ والدہ نے بازار میں لے جا کر تین دینار پر فروخت کرنے کا حکم دیا اور یہ شرط کی کہ سودا ہونے پر پھر اس کی اجازت حاصل کی جائے، اس زمانہ میں گائے کی قیمت ان اطراف میں تین دینار ہی تھی۔ جوان جب اس گائے کو بازار میں لایا تو ایک فرشتہ خریدار کی صورت میں آیا اور اس نے گائے کی قیمت چھ دینار لگادی مگر یہ شرط رکھی کہ جوان اپنی والدہ سے اجازت نہیں لے گا۔ جوان نے یہ منظور نہ کیا اور والدہ سے تمام قصہ کہا، اس کی والدہ نے چھ دینار قیمت منظور کرنے کی تو اجازت دی مگر بیچنے میں پھر دوبارہ اپنی مرضی دریافت کرنے کی شرط لگادی۔ جوان پھر بازار میں آیا، اس مرتبہ فرشتہ نے بارہ دینار قیمت لگائی اور کہا کہ والدہ کی اجازت پر موقوف نہ رکھو۔ جو ان نے نہ مانا اور والدہ کو اطلاع دی وہ صاحب فراست عورت سمجھ گئی کہ یہ خریدار نہیں کوئی فرشتہ ہے جو آزمائش کے لیے آتا ہے۔ بیٹے سے کہا کہ اب کی مرتبہ اس خریدار سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں اس گائے کے فروخت کرنے کا حکم دیتے ہیں یا نہیں ؟ لڑکے نے یہی کہا توفرشتے نے جواب دیا کہ ابھی اس کو روکے رہو، جب بنی اسرائیل خریدنے آئیں تو اس کی قیمت یہ مقرر کرنا کہ اس کی کھال میں سونا بھر دیا جائے۔ جوان گائے کو گھر لایا اور جب بنی اسرائیل جستجو کرتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچے تو یہی قیمت طے کی اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ضمانت پر وہ گائے بنی اسرائیل کے سپرد کی۔
(لباب التأویل فی معانی التنزیل:علاء الدین علی بن محمد، المعروف بالخازن (۱:۵۲)

اللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کی گستاخی کی وجہ سے۔۔۔

عَنِ السُّدِّیِّ، قَالَ:قَالَ لِیَ ابْنُ عَبَّاسٍ:فَلَوِ اعْتَرَضُوا بَقَرَۃً فَذَبَحُوہَا لَأَجْزَأَتْ عَنْہُمْ، وَلَکِنَّہُمْ شَدَّدُوا وَتَعَنَّتُوا عَلَی مُوسَی فَشَدَّدَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ
ترجمہ :امام السدی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیاکہ اگربنی اسرائیل حکم کی پیروی کرتے اورہٹ دھرمی کامظاہرہ نہ کرتے تو جو بھی گائے ذبح کردیتے وہ کفایت کرجاتی، لیکن وہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام سے باربارسوال کرکے بے ادبی کے مرتکب ہوئے تواللہ تعالی نے ان پر سختی کردی ۔
(تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم:ابو محمد عبد الرحمن ، الحنظلی، الرازی ابن أبی حاتم (۱:۱۳۷)
ایک قول یہ بھی ہے
السُّدِّیُّ: بِوَزْنِہَا عَشْرَ مَرَّاتٍ.
ترجمہ :امام السدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس گائے کو دس بار وزن کرکے اس کے وزن کے برابرسونادیاگیا۔
(تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (ا:۴۵۵)
گائے مہنگی کیوں ہوئی اورانہوںنے ٹال مٹول کیوں کی؟
وَہَذَا إِخْبَارٌ عَنْ تَثْبِیطِہِمْ فِی ذَبْحِہَا وَقِلَّۃِ مُبَادَرَتِہِمْ إِلَی أَمْرِ اللَّہِ وَقَالَ الْقُرَظِیُّ مُحَمَّدُ بْنُ کَعْبٍ:لِغَلَاء ِ ثَمَنِہَاوَقِیلَ:خَوْفًا مِنَ الْفَضِیحَۃِ عَلَی أَنْفُسِہِمْ فِی مَعْرِفَۃِ الْقَاتِلِ مِنْہُمْ، قالہ وہب بن منبہ.
ترجمہ :خبریہ ہے کہ انہوںنے گائے کے ذبح میں تاخیرکی اوراللہ تعالی کے حکم شریف کو جلدی پورانہ کیااس لئے اللہ تعالی نے ان پر سختی کردی ، محمدبن کعب قرظی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ قیمت کامہنگاہوناتھا۔بعض نے یہ بھی بیان کیاہے کہ وہ اس ڈرسے گائے نہیں لے رہے تھے اورباربارسوال کررہے تھے کہ کہیں مردہ زندہ ہوگیاتوان کارازفاش ہوجائے گا۔
(تفسیر القرطبی:أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (ا:۴۵۵)
گائے کیوں معین کی گئی ؟
والوجہ فی تعیین البقرۃ دون غیرہا من البہائم انہم کانوا یعبدون البقر والعجاجیل وحبب إلیہم ذلک کما قال تعالی وَأُشْرِبُوا فِی قُلُوبِہِمُ الْعِجْلَ ثم تابوا وعادوا الی طاعۃ اللہ وعبادتہ فاراد اللہ تعالی ان یمتحنہم بذبح ما حبب إلیہم لیظہر منہم حقیقۃ التوبۃ وانقلاع ما کان منہم فی قلوبہم وقیل کان أفضل قرا بینہم حینئذ البقر فامروا بذبح البقرۃ لیجعل التقرب لہم بما ہو أفضل عندہم۔
ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی :۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ گائے ذبح کرنے کے لئے اس لئے فرمایاگیاکہ وہ گائے اوربچھڑے کی پوجاکرتے تھے جو انہوں نے ابھی ترک کی تھی اوراس کی محبت میں وارفتہ تھے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا: انہیں بچھڑے کی محبت پلادی گئی ۔پھرتائب ہوئے اوراللہ تعالی کی اطاعت وعبادت میں مشغول ہوگئے، اسی لئے اللہ تعالی نے انہیں ان کی محبوب چیز کے ذبح کرنے کاحکم دیاتاکہ ان کی توبہ کااظہارہواوروہ چیز ہٹ جائے جس کی محبت میں وہ مبتلاتھے ، بعض مفسرین نے یہ بھی کہاہے کہ گائے کاحکم اس لئے دیاگیاکہ ان دنوں ان کے ہاں بہترین قربانی گائے کی تھی تاکہ تقرب افضل واعلی شئی سے ہو۔
(روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۱:۱۵۷)

گوشت کیوں لگایاگیا؟

مَا الْفَائِدَۃُ فِی ضَرْبِ الْمَقْتُولِ بِبَعْضِ الْبَقَرَۃِ مَعَ أَنَّ اللَّہَ تَعَالَی قَادِرٌ عَلَی أَنْ یُحْیِیَہُ ابْتِدَاء ً؟الْجَوَابُ: الْفَائِدَۃُ فِیہِ لِتَکُونَ الْحُجَّۃُ أَوْکَدَ وَعَنِ الْحِیلَۃِ أَبْعَدَ فَقَدْ کَانَ یَجُوزُ لِمُلْحِدٍ أَنْ یُوہِمَ أَنَّ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ إِنَّمَا أَحْیَاہُ بِضَرْبٍ مِنَ السِّحْرِ وَالْحِیلَۃِ، فَإِنَّہُ إِذَا حیی عند ما یُضْرَبُ بِقِطْعَۃٍ مِنَ الْبَقَرَۃِ الْمَذْبُوحَۃِ انْتَفَتِ الشُّبْہَۃُ فِی أَنَّہُ لَمْ یَحْیَ بِشَیْء ٍ انْتَقَلَ إِلَیْہِ مِنَ الْجِسْمِ الَّذِی ضُرِبَ بِہِ، إِذَا کَانَ ذَلِکَ إِنَّمَا حَیِیَ بِفِعْلٍ فَعَلُوہُ ہُمْ، فَدَلَّ ذَلِکَ عَلَی أَنَّ إِعْلَامَ الْأَنْبِیَاء ِ إِنَّمَا یَکُونُ مِنْ عِنْدِ اللَّہِ لَا بِتَمْوِیہٍ مِنَ الْعِبَادِ وَأَیْضًا فَتَقْدِیمُ الْقُرْبَانِ مِمَّا یُعَظِّمُ أَمْرَ الْقُرْبَانِ۔
ترجمہ :حضرت سیدناامام الرازی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ مقتول کو گوشت لگانے کاکیافائدہ حالانکہ اللہ تعالی تومردوں کو زندہ کرنے پر اس کے بغیربھی قادرہے ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ فائدہ یہ تھاتاکہ ان پر حجت قائم ہوجائے اوران کامکروفریب نہ چل سکے کیونکہ کوئی ملحداوربے دین کہہ سکتاتھاکہ حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے جادوکے ذریعے اسے زندہ کیاہے لیکن جب ذبح شدہ گائے کاگوشت لگنے سے زندہ ہواتویہ شبہ بھی ختم ہوگیاکہ کوئی چیز اس کے جسم میں داخل ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ زندہ ہواہے ۔جب بات یوں ہے تو ان کو یہ بھی معلوم ہوگیاکہ انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ تعالی کی طرف سے اطلاع ہوتی ہے نہ کہ بندوں کی جعل سازی سے اوریہ بھی معلوم ہواکہ تقدیم قربانی کی وجہ سے حکم قربانی کو عظمت حاصل ہوتی ہے ۔
(التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی(۳:۵۵۵)

شعائر اسلام کامذاق اڑانے والے کاحکم

ودل ان الاستہزاء بامر الدین کبیرۃ وکذلک بالمسلمین ومن یجب تعظیمہ وان ذلک جہل وصاحبہ مستحق للوعید ۔
ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی : ۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ حکم دینی کامذاق اڑانابہت بڑاجرم ہے اوراسی طرح اہل اسلام کامذاق اڑانااورہر اس شخص کامذاق اڑاناجس کی تعظیم کی جاتی ہواوریہ جہالت بھی ہے اوراس کے مرتکب کے لئے سخت سزابھی ہے۔
(روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی ,المولی أبو الفداء (۱:۱۵۷)
آیات قرآنی کامذاق اڑانے والے کاحکم شرعی
نبہ قولہ تعالی (قَالَ أَعُوذُ باللہ أَنْ أَکُونَ مِنَ الجاہلین)علی أن الاستہزاء بأمرٍ من أمورالدین جہل کبیر، وقد منع المحققون من أہل العلم استعمال الآیات کأمثال یضربونہا فی مقام المزح والہزل، وقالوا إِنما أنزل القرآن للتدبر والخشوع لا للتسلی والتفکہ والمزاح.
ترجمہ :اس آیت مبارک میں اللہ تعالی نے تنبیہ فرمائی کہ دین کی کسی بھی بات کامذاق اڑانابہت بڑی جہالت ہے ، محققین علماء کرام علیہم الرحمہ فرماتے ہیںکہ ہنسی مذاق کی جگہ قرآنی آیات کو بطور مثال بیان کرناحرام ہے کیونکہ رب تعالی نے اس قرآن کریم کو فکروتدبراورخشوع یعنی خشیت اورخوف حاصل کرنے کے لئے نازل فرمایاہے نہ کہ غم غلط کرنے کے لئے اورہنسی مذاق کرنے اورتفریح طبع کے لیے ناز ل فرمایا۔
(صفوۃ التفاسیر:محمد علی الصابونی(۱:۶۰)

کثرت سوال پر وعیدیں

حضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ عنہ کاجلال
وعن عمر بن عبد العزیز:إذا أمرتک أن تعطی فلانا شاۃ سألتنی:أضائن أم ماعز؟ فإن بینت لک قلت:أذکر أم أنثی؟ فإن أخبرتک قلت: أسوداء أم بیضاء ؟ فإذا أمرتک بشیء فلا تراجعنی.
ترجمہ :حضرت سیدناعمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالی نے اپنے خادم سے فرمایا: اگرمیں تجھے کہتاہوں کہ میرے پاس فلاں بکری لائوتوپھرپوچھتے ہوکہ نرہویامادہ ؟ اگریہ بھی بتادیاجائے تو پھرکہتے ہوکہ کالی ہویاسفید؟ ، اس کی کیاضرورت ہے ۔ بس جب کہہ دوں کہ بکری لائوتوپھرباربارسوال کرنے کی کیاضرورت ہے؟جو مرضی آئے لے آئو۔
(فتوح الغیب فی الکشف عن قناع الریب :شرف الدین الحسین بن عبد اللہ الطیبی (۲:۵۲۵)
ایک گورنرکاخلیفہ سے سوال
وعن بعض الخلفاء أنہ کتب إلی عاملہ بأن یذہب إلی قوم فیقطع أشجارہم ویہدم دورہم، فکتب إلیہ: بأیہما أبداً؟ فقال: إن قلت لک بقطع الشجر سألتنی:بأی نوع منہا أبدأ؟۔
ترجمہ:بعض خلفاء میں سے کسی نے اپنے گورنرکو حکم جاری کیاکہ فلاں قوم کی طرف چلے جائواورا ن کے درخت بھی کاٹ دواوران کے مکانات بھی منہدم کردو ۔ گورنرنے خط لکھااورخلیفہ سے سوال کیاکہ پہلے ان کے درخت کاٹوں یاان کے مکانات گرائوں؟ خلیفہ نے جواباً لکھاکہ اگرمیں تمھیں کہتاتم درخت کاٹ دوتوپھرتم نے مجھ سے پوچھناتھاکہ کس قسم کے درخت پہلے کاٹوں ؟
الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل:أبو القاسم محمود بن عمرو بن أحمد، الزمخشری جار اللہ (۱:۱۵۱)

رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں زیادہ سوالات کرنے کی ممانعت کابیان

سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگے
عَنِ الزُّہْرِیِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِینَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، فَصَلَّی الظُّہْرَ، فَقَامَ عَلَی المِنْبَرِ، فَذَکَرَ السَّاعَۃَ، فَذَکَرَ أَنَّ فِیہَا أُمُورًا عِظَامًا، ثُمَّ قَالَ:مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَسْأَلَ عَنْ شَیْء ٍ فَلْیَسْأَلْ، فَلاَ تَسْأَلُونِی عَنْ شَیْء ٍ إِلَّا أَخْبَرْتُکُمْ، مَا دُمْتُ فِی مَقَامِی ہَذَا فَأَکْثَرَ النَّاسُ فِی البُکَاء ِ، وَأَکْثَرَ أَنْ یَقُولَ:سَلُونِی، فَقَامَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حُذَافَۃَ السَّہْمِیُّ، فَقَالَ:مَنْ أَبِی؟ قَالَ:أَبُوکَ حُذَافَۃُ ثُمَّ أَکْثَرَ أَنْ یَقُولَ:سَلُونِی فَبَرَکَ عُمَرُ عَلَی رُکْبَتَیْہِ، فَقَالَ:رَضِینَا بِاللَّہِ رَبًّا، وَبِالإِسْلاَمِ دِینًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا، فَسَکَتَ، ثُمَّ قَالَ:عُرِضَتْ عَلَیَّ الجَنَّۃُ وَالنَّارُ آنِفًا فِی عُرْضِ ہَذَا الحَائِطِ، فَلَمْ أَرَ کَالخَیْرِ وَالشَّرِّ۔
ترجمہ :حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آفتاب ڈھلا تو رسول اللہ ﷺتشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی پھر سلام پھیرنے کے بعد آپﷺمنبر پر جلوہ افروز ہوئے اور قیامت کا ذکر کیا اور پھر فرمایا:اس سے پہلے بڑے بڑے واقعات و حادثات ہیں، پھر فرمایا: جو شخص کسی بھی نوعیت کی کوئی بات پوچھنا چاہتا ہے تو وہ پوچھے، خدا کی قسم!میں جب تک یہاں کھڑا ہوں تم جو بھی پوچھو گے اس کا جواب دوں گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے زاروقطار رونا شروع کر دیا۔ حضور نبی اکرمﷺ جلال کے سبب بار بار یہ اعلان فرما رہے تھے کہ کوئی سوال کرو، مجھ سے (جو چاہو)پوچھ لو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا:یا رسول اللہﷺ!میرا ٹھکانہ کہاں ہے؟ آپﷺ نے فرمایا:دوزخ میں۔ پھر حضرت عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا:یا رسول اللہ!میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر آپ ﷺبار بار فرماتے رہے مجھ سے سوال کرو مجھ سے سوال کرو، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض گذار ہوئے۔ ہم اﷲتعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد مصطفی ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہیں (اور ہمیں کچھ نہیں پوچھنا)۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ گذارش کی تو حضور نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے پھر آپﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!ابھی ابھی اس دیوار کے سامنے مجھ پر جنت اور دوزخ پیش کی گئیں جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا تو آج کی طرح میں نے خیر اور شر کو کبھی نہیں دیکھا۔
(صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۱:۱۱۳)
اگرمیں نعم فرمادیتاتو۔۔۔
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:خَطَبَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَقَالَ:یَا أَیُّہَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّہَ فَرَضَ عَلَیْکُمُ الْحَجَّ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ:أَفِی کُلِّ عَامٍ، حَتَّی قَالَ ذَلِکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَرَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعْرِضُ عَنْہُ، ثُمَّ قَالَ:لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ لَمَّا قُمْتُمْ بِہِ، ثُمَّ قَالَ:ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ فَإِنَّمَا ہَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِسُؤَالِہِمْ وَاخْتِلَافِہِمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ، فَمَا أَمَرْتُکُمْ مِنْ شَیْء ٍ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَمَا نَہَیْتُکُمْ عَنْ شَیْء ٍ فَاجْتَنِبُوہُ۔
ترجمہ:حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا:اے لوگو!تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے پس حج کیا کرو۔ ایک شخص نے عرض کیا:یا رسول اﷲﷺ!کیا ہر سال حج فرض ہے؟ آپﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ تین مرتبہ اس نے یہی عرض کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال)فرض ہو جاتا اور پھر تم اس کی طاقت نہ رکھتے۔ پھر فرمایا:میری اتنی ہی بات پر اکتفا کیا کرو جس پر میں تمہیں چھوڑوں، اس لئے کہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیاء کرام علیہم السلام سے اختلاف کرنے کی بناء پر ہی ہلاک ہوئے تھے، لہٰذا جب میں تمہیں کسی شے کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اسے بجا لایا کرو اور جب کسی شے سے منع کروں تو اسے چھوڑ دیا کرو۔
(مسند إسحاق بن راہویہ:أبو یعقوب إسحاق بن إبراہیم بن مخلد بن إبراہیم الحنظلی المروزی ابن راہویہ (۱:۱۳۴)

کثرت سوال پر رسول اللہ ﷺکاجلال

حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنْ بُرَیْدٍ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ، عَنْ أَبِی مُوسَی، قَالَ:سُئِلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَشْیَاء َ کَرِہَہَا، فَلَمَّا أُکْثِرَ عَلَیْہِ غَضِبَ، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ:سَلُونِی عَمَّا شِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ:مَنْ أَبِی؟ قَالَ: أَبُوکَ حُذَافَۃُ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: مَنْ أَبِی یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَقَالَ:أَبُوکَ سَالِمٌ مَوْلَی شَیْبَۃَ فَلَمَّا رَأَی عُمَرُ مَا فِی وَجْہِہِ قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ، إِنَّا نَتُوبُ إِلَی اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ۔
ترجمہ:ابو بردہ کا بیان ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺسے ایسی چیزوں کے متعلق پوچھا گیا جن کو آپﷺ نے نا پسند فرمایا۔ جب لوگوں نے سوالات کی بھرمار کر دی تو آپﷺ کوجلال آ گیا اور فرمایا:جو چاہو پوچھ لو۔ چنانچہ ایک آدمی کھڑا ہو کر عرض گزار ہوا: یا رسول اللہﷺ! میرا باپ کون ہے؟ فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہو کر عرض گزار ہوا:یا رسول اللہﷺ!میرا باپ کون ہے؟ فرمایا کہ تیرا باپ سالم مولیٰ شیبہ ہے۔ حضرت عمر نے رسول اللہﷺکے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے تو عرض گزار ہوئے:ہم اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہیں۔
(صحیح البخاری: محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۱:۳۰)

کثرت سوال کی ممانعت

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:ذَرُونِی مَا تَرَکْتُکُمْ، فَإِنَّمَا أَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَثْرَۃُ سُؤَالِہِمْ، وَاخْتلَافُہُمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ، مَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوا، وَمَا أَمَرْتُکُمْ بِہِ فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ زَادَ ابْنُ عَجْلَانَ: فَحَدَّثْتُ بِہِ أَبَانَ بْنَ صَالِحٍ، فَکَانَ یُعْجَبُ بِہَذِہِ الْکَلِمَۃِ: فَأْتُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ۔
ترجمہ :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺسے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے فرمایا: جب تک میں تم سے یکسو رہوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو(اور سوالات وغیرہ نہ کرو)کیونکہ تم سے پہلے لوگ زیادہ سوال کرنے اور اپنے انبیائے کرام علیہم السلام سے اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوئے۔ لہذا جب میں تمہیں کسی چیز سے منع کروں تو رک جاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز کی بجا آوری (تعمیل)کا حکم دوں تواپنی طاقت کے مطابق اسے بجالاؤ۔
(مسند الحمیدی:أبو بکر عبد اللہ بن الزبیر بن عیسی بن عبید اللہ القرشی الأسدی الحمیدی المکی (۲:۲۷۲)
پہلی امتوں کی تباہی انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ حجت بازی کی وجہ سے ہوئی
أَخْبَرَنِی أَبُو سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِیدُ بْنُ الْمُسَیِّبِ، قَالَا:کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یُحَدِّثُ، أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: مَا نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ، فَاجْتَنِبُوہُ وَمَا أَمَرْتُکُمْ بِہِ فَافْعَلُوا مِنْہُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَہْلَکَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ کَثْرَۃُ مَسَائِلِہِمْ، وَاخْتِلَافُہُمْ عَلَی أَنْبِیَائِہِمْ
ترجمہ :حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :جس چیز سے میں تمہیں روکتاہوں اس سے بچو اور جن باتوں کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں جتنا ہو سکے اس پر عمل کروبے شک تم سے پہلے لوگ کثرت سوال اور انبیاء کرام علیہم السلام سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ہلاک وبرباد ہو گئے۔
(صحیح مسلم :مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشیری النیسابوری (۴:۱۸۳۰)

اس حدیث شریف کی روشنی میں یہ کہا جائے گا غیر واقع مسائل یا بعید از امکان خیالی مسائل پر سوالات نہیں کرنا چاہئیں ہاں جب وہ مسئلہ پیش آئے گا تو اس وقت کے علماء ان شاء اللہ ضرور اس مسئلہ کا حل پیش کریں گے وقت سے پہلے پیش قیاسی سے سوالات اور جوابات مناسب نہیں ہے آج ہم کچھ جواب دیں گے مگر جب وہ واقعہ عملا ثابت ہو جائے تو اس کی صورت حال کچھ اور ہوگی جس کے مناسبت سے آج کا جواب غلط ثابت ہو سکتا ہے ۔لیکن اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ کثرت سوال لوگوں کی عادت بن گئی ہے ۔اور سوال کا جواب کسی معتبر عالم سے مل جائے تو پھر بھی دوسرے تیسرے سے پوچھتے ہیں یہ بھی غلط ہے پہلے ہی کسی معتبر عالم سے سوال کیا جائے جس کے علمی معیار پر آپ مطمئن ہیں کہ وہ کوئی غلط بات نہیں بتائیں گے اورجو بھی بتائیں گے قرآن وحدیث کی روشنی میں ہی بتائیں گے تو انہیں سے سوال کریں اور جو بھی جواب مل جائے اس پر عمل کریں ,میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ تحقیق نہیں کرنی چاہئے ہاں تحقیق ضرور کرنی چاہئے مگر تحقیق کرنے سے پہلے علم حاصل کرنا ضروری ہے بغیر علم کے تحقیق کرنے بیٹھو گے تو شکوک وشبہات کا شکار ہو جاؤ گے تحقیق کرنے کیلئے بنیادی علم کی اشد ضرورت ہے دلائل کو سمجھنے کی صلاحیت اور اصطلاحی کلمات کو سمجھنے کی صلاحیت اور نصوص شرعیہ میں ظاہری تعارض کو دور کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے ۔اسی طرح عربی ادب سے واقفیت بھی ضروری ہے تاکہ کلمات کے لغوی اور اصطلاحی معنوں کو سمجھا جا سکے اس علم کے بغیر تحقیق اندھیرے میں کوئی چیز تلاش کرنے کے برابرہے ۔اوراسی طرح رسول اللہ ﷺکی حدیث شریف پر اعتراضات کرنادرحقیقت رسول اللہ ﷺپر اعتراض ہے ۔

معارف ومسائل

(۱) اللہ تعالی کے نبی ﷺکے فرمان شریف پر بغیرکسی قدغن کے عمل کیاجائے اوراس پر عقل کے ساتھ سوالات کرناگستاخو ں کاکام ہے ۔
(۲)اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اللہ تعالی کے انبیاء کرام علیہم السلام جھوٹ نہیں بولتے اورنہ ہی دل لگی کرتے ہیں اورنہ ہی کسی کامذاق اڑاتے ہیں ۔
(۳) اس سے یہ بھی معلو م ہواکہ اللہ تعالی کے انبیاء کرام علیہم السلام کے احکامات پر اعتراضات کرنایہودیوں کاشیوہ ہے ۔
(۴) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اس دور میں گائے کی قیمت تین درہم تک تھی مگر انہوں نے اللہ تعالی کے نبی حضرت سیدناموسی علیہ السلام کامذاق اڑااڑاکراتنی بے ادبی کی کہ وہی گائے جوتین درہم کی تھی اب ان کو موجود ہ اربوں روپے کی ملی کیونکہ ایک گائے کے وزن جتناسونابہت زیادہ ہوتاہے ۔
(۵) آج بھی اگرلوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک سے مہنگائی ختم ہوجائے اورحالات پرامن رہیں توآئیں رسول اللہ ﷺکی ناموس پرپہرہ دیں اوررسول اللہ ﷺکادین تخت پر لائیں ۔
(۶) اس سے معلوم ہواکہ اگریہودی اللہ تعالی کے نبی علیہ السلام کے ساتھ بے ادبی سے پیش آئیں تو ان کے ساتھ اس طرح ہوجاتاہے توجو لوگ رسول اللہ ﷺکی بے ادبیاں اورگستاخیاں کررہے ہیں ، ان کاکیاحشرہوگا۔؟
(۷) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو شخص اپنی ماں کافرمانبردارہوتاہے اللہ تعالی اس پر بہت راضی ہوتاہے ۔
(۸)اس سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی کے احکامات کامذاق اڑاناکفرہے ۔
(۹) اسی طرح اہل اسلام کے ساتھ استہزاء کرناگناہ کبیرہ ہے ۔
(۱۰) کسی صاحب ِ عزت سے استہزاء کرناگناہ کبیرہ ہے ۔
(۱۱)اس سے معلوم ہوا اللہ کے بندوں کیلئے دین و دنیا کی بھلائی اسی میں ہے کہ انہیں جو حکم دیا جائے اسے خوشی سے تسلیم کرلیں اور اسے کر گزریں۔اس کے خلاف میں سوائے ہلاکت،مشکلات اور بربادی کے کچھ نہیں رکھا۔اسی لیے رسول اللہﷺ نے اگلے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنے انبیاء علیہم السلام سے بے جا کثرت سوال اور اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔
(۱۲)کثرتِ سوال اور بے جا اختلاف سے بچنا چاہیے کہ بندہ ان کی وجہ سے بسا اوقات مصائب میں بھی گرفتار ہو جاتا ہے۔
(۱۳)اے اسرائیلیو! اپنے باپ داداکاقصہ یادکرلوکہ وہ ایک قتل کامقدمہ لے کر حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آئے تھے اورچاہتے تھے کہ قاتل کاعلم ہوجائے ، حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے خود نہ بتایابلکہ ایک تدبیرپیش کردی کیونکہ اگروہ خود قاتل کے بارے میں ارشادفرمادیتے تویہ بے باک قوم حضرت سیدناموسی علیہ السلام پر طرفداری کابہتان دے دیتی، اس لئے آپ علیہ السلام نے معجزہ کے ذریعے مقتول کو زندہ فرماناچاہاتاکہ وہ اپنی زبان سے قاتل کاپتہ دے ۔
چونکہ گائے اوربیل کو زمین کے آباد کرنے اوردرختوں کے لئے جوتنے بونے اورپانی دینے میں بہت دخل ہے اس لئے یہاں گائے کاانتخاب ہوااگرچہ یہ بھی ممکن تھاکہ زندہ گائے مقتول کے جسم سے لگاکر اسے زندہ کردیاجاتامگریہاں توعجیب معجزہ دکھانامنظورتھاکہ مردہ گائے مردہ شخص کو زندہ کرے ،چاہئے تویہ تھاکہ یہ لوگ حکم پاتے ہی کوئی سی بھی گائے ذبح کرڈالتے اورتعمیل ارشاد میں دیر نہ لگاتے ، جس سے وہ نہایت آسانی سے چھوٹ جاتے اورمقدمہ اتناطول نہ پکڑتا۔مگرانہوںنے کج بحثی کرکے خود اپنے اوپربہت سی پابندیاں لگالیں ، حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام نے اپنے شہزادے حضرت سیدنااسماعیل علیہ السلام سے فرمایاتھاکہ میں نے خواب میں تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھاہے ، انہوںنے اپنے آپ کو ذبح کروانے میں کوئی حجت نہیں کی اوریہ نہ کہاکہ یہ توخواب ہے بلکہ اپنی قربانی فوراً پیش کردی ، ان بے وقوفوں نے ایک گائے ذبح کرنے کے لئے اپنے نبی علیہ السلام سے اتنی حجت کی کہ کہہ دیاکہ آپ ہم کو مسخرہ بناکر دل لگی کررہے ہیں۔جس پر حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے ہمارے واسطے سے اپنی برا ء ت ظاہرکی کہ دل لگی کرناجہلاء کاکام ہے ۔ میں اللہ تعالی کانبی (علیہ السلام) ہوں۔تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی ( ۱:۴۵۶)
(۱۴) بنی اسرائیل چونکہ بچھڑے کوخدامان چکے تھے اوریہ سمجھتے تھے کہ معاذ اللہ تعالی جانور بھی خداہوسکتاہے تواللہ تعالی نے ان کے اس نظریے کو رد کرنے کے لئے بھی گائے کے ذبح کرنے کاحکم دیا۔

Leave a Reply