تفسیر سورہ بقرہ آیت ۶۲۔۶۳۔۶۴ {اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِـِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ}(۶۲){وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثٰقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ}(۶۳){ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ}(۶۴)

احکامات شرع کے منکرین

{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصّٰبِـِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ}(۶۲){وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثٰقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ}(۶۳){ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ}(۶۴)
ترجمہ کنزالایمان:بیشک ایمان والے نیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں ان کاثواب ان کے رب کے پاس ہے اور نہ انہیں کچھ اندیشہ ہو اور نہ کچھ غم ۔
اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر ُطور کو اونچا کیالو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹَوْ ٹے والوں میں ہو جاتے۔
ترجمہ ضیاء الایمان:بے شک ایمان والوں اوریہودیوں اورعیسائیوں اورستارہ پرستوں میں سے جوبھی سچے دل کے ساتھ اللہ تعالی پر اورآخرت کے دن پر ایمان لائیں گے اورنیک کام کریں گے توان کاثواب ان کے رب تعالی کے پاس ہے اوران پر نہ کوئی خوف ہوگااورنہ ہی وہ غمگین ہوں گے اوریادکروجب ہم نے تم سے عہد لیااورتمھارے سروں پر جبل طورکو معلق کردیااورتمھیں فرمایاکہ تم اس کتاب کومضبوطی سے پکڑوجو ہم نے تمھیں عطافرمائی ہے اورجو کچھ اس میں بیان کیاہے اسے یادکرواس امید کے ساتھ کہ تم متقی بن جائو۔

یہودی ،نصرانی اورصابی کاتعارف

وَالَّذِینَ ہادُوا ای تہودوا من ہاد إذا دخل فی الیہودیۃ ویہود اما عربی من ہاد إذا تاب سموا بذلک حین تابوا من عبادۃ العجل وخصوا بہ لما کانت توبتہم توبۃ ہائلۃ واما معرب یہودا کأنہم سموا باسم اکبر أولاد یعقوب علیہ السلام ویقال انما سمی الیہود یہودا لانہم إذا جاء ہم رسول او نبی ہادوا الی ملکہم فدلوہ علیہ فیقتلونہ وَالنَّصاری جمع نصران کندامی جمع ندمان سمی بذلک لانہم نصروا المسیح علیہ السلام او لانہم کانوا معہ فی قریۃ یقال لہا ناصرۃ فسموا باسمہا او لاعتزائہم الی نصرۃ وہی قریۃ کان ینزلہا عیسی علیہ السلام وَالصَّابِئِینَ من صبأ إذا خرج من الدین وہم قوم عدلوا عن دین الیہودیۃ والنصرانیۃ وعبدوا الکواکب والملائکۃ فکانوا کعبدۃ الأصنام وان کانوا یقرأون الزبور لا تؤکل ذبائحہم ولا تنکح نسائہم۔
ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی :۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ لفظ ہادو عربی ہے، ھاد سے مشتق ہے ، اوریہ لفظ اس وقت بولتے ہیں جب کوئی شخص برے کام سے توبہ کرلے اوران کو یہودی اس لئے کہاجاتاہے کہ انہوں نے بچھڑے کی پوجاسے توبہ کی تھی ، اوران کو اس نام سے خاص کیاگیاکہ ان کی ایسی توبہ تھی کہ جان دینے پرقبول ہوئی ۔ یا’’یہودا‘‘کامعرب ہے۔گویاحضرت سیدنایعقوب علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے کے نام سے منسوب ہیں، بعض کہتے ہیں ان کو یہودی اس لئے کہاجاتاہے کہ جب ان کے پاس اللہ تعالی کے نبی یارسول علیہ السلام تشریف لاتے تواسے بادشاہ کے پاس لاتے اورپھروہاں ان کو شہید کردیتے تھے ۔
’’النصاری‘‘نصران کی جمع ہے جیسے ندامی ندمان کی جمع ہے ، اس نام سے اس لئے موسوم ہیں کہ انہوں نے حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کی مددکی تھی یااسلئے کہ وہ حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کے ساتھ اس بستی میں تھے ، جس کانام ’’ناصرہ‘‘تھایاوہ نصرت کی طرف منسوب ہیں کہ وہ ایک بستی ہے جس میں حضرت سیدناعیسی علیہ السلام تشریف لائیں گے ۔
’’والصابئین ‘‘صباء سے مشتق ہے ، یہ اسے کہتے ہیں جو دین سے خارج ہوجائے اورانہیں صابی اس لئے کہاجاتاہے کہ وہ یہودیت ونصرانیت سے خارج ہوکر ستارہ وملائکہ پرستی میں مشغول ہوگئے ۔
مسئلہ : ان کاحکم بھی بت پرستوں جیساہے کہ ان کے ذبائح کھائیں جائیں گے اورنہ ہی ان کی خواتین کے ساتھ نکاح کیاجائے اگرچہ یہ زبور بھی پڑھتے ہوں۔
(روح البیان: إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی , المولی أبو الفداء (۱:۱۵۳)
الصابی کامعنی
وَالصَّابِئِینَ فَہُوَ مِنْ صَبَأَ إِذَا خَرَجَ مِنْ دِینِہِ إِلَی دِینٍ آخَرَ، وَکَذَلِکَ کَانَتِ الْعَرَبُ یُسَمُّونَ النَّبِیَّ عَلَیْہِ السَّلَامُ صَابِئًا لِأَنَّہُ أَظْہَرَ دِینًا بِخِلَافِ أَدْیَانِہِمْ ۔
ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ’’الصابئین ‘‘ صباسے بناہے کسی کاایک دین کو چھوڑ کر دوسرے دین کی طرف جانا، عرب کے کفاررسول اللہ ﷺکو ’’صابی‘‘ کہتے تھے کیونکہ آپ ﷺان کے دین کے خلاف دین لائے تھے۔
(التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۳:۵۳۶)

الصابئین بھی انبیاء کرام علیہم السلام پر ظلم کیاکرتے تھے

وروی أنہ جاء أعرابی إلی النبی صلّی اللہ علیہ وسلّم، فقال: لم یسمّی الصابئون صابئین؟ فقال النبی صلّی اللہ علیہ وسلّم: لأنہم إذا جاء ہم رسول أو نبی أخذوہ، وعمدوا إلی قدر عظیم فأغلوہ، حتی إذا کان محمی صبّوہ علی رأسہ حتی ینفسخ۔
ترجمہ :اورروایت کیاگیاہے ایک اعرابی رسول اللہ ﷺکی بارگاہ عالیہ میں حاضرہوئے اورعرض کی : یارسول اللہ ﷺ! الصابئین کو صابئین کیوں کہاجاتاہے ؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اس لئے کہ جب ان کے پاس اللہ تعالی کے کوئی رسول (علیہ السلام )یاکوئی نبی(علیہ السلام) تشریف لاتے تو یہ لوگ ان کوگرفتارکرلیتے اورپانی گرم کرکے ان کے سروں پر ڈالتے رہتے تھے یہاں تک کہ ان کاسرزخمی ہوکر پھٹ جاتاتھا۔
(تفسیر حدائق الروح والریحان:الشیخ العلامۃ محمد الأمین بن عبد اللہ الأرمی العلوی الہرری الشافعی(۱:۷۵۰)

بنی اسرائیل کاتوراۃ لینے سے انکارکرنااوراللہ تعالی کاکوہ طور ان پر معلق کرنا

وذلک ان موسی علیہ السلام جاء ہم بالالواح فرأوا ما فیہا من الآصار والتکالیف الشاقۃ فکبرت علیہم وأبوا قبولہا فامر جبریل فقلع الطور من أصلہ ورفعہ وظللہ فوقہم وقال لہم موسی ان قبلتم والا القی علیکم فلما رأوا ان لا مہرب لہم منہا قبلوا وسجدوا وجعلوا یلاحظون الجبل وہم سجود لئلا ینزل علیہم فصارت عادۃ فی الیہود لا یسجدون الأعلی انصاف وجوہہم ویقولون بہذا السجود رفع عنا العذاب۔ ثم رفع الجبل لیقبلوا التوراۃ لم یکن جبرا علی الإسلام لان الجبر ما یسلب الاختیار وہو جائز کالمحاربۃ مع الکفار واما قولہ تعالی لا إِکْراہَ فِی الدِّینِ وأمثالہ فمنسوخ بالقتال قال ابن عطیۃ والذی لا یصح سواہ ان اللہ جبرہم وقت سجودہم علی الایمان لانہم آمنوا کرہا وقلوبہم غیر مطمئنۃ۔

ترجمہ :امام اسماعیل حقی الحنفی المتوفی :۱۱۲۷ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ واقعہ یوں ہے کہ جب حضرت سیدناموسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے پاس توراۃ لیکر آئے توانہوں نے اس میں دیکھاکہ اس میں تکالیف اورمشقت بھرے احکام ہیں توانہوںنے قبول کرنے سے انکارکردیاتواللہ تعالی نے حضرت سیدناجبرئیل امین علیہ السلام کو حکم فرمایاتوانہوںنے جبل طور کو چھتری کی طرح لاکران کے سروں پرکھڑاکردیا، اب حضرت سیدناموسی علیہ السلام نے فرمایا: اگراحکام قبول کرلوتوٹھیک وگرنہ یہ پہاڑ تمھارے اوپرگرادیاجائے گا، جب انہوں نے سوائے قبول کرنے کے کوئی چارہ نہ دیکھاتوقبول کرلیااورسجدے میں گرگئے ، لیکن آنکھ کے گوشہ سے پہاڑ کودیکھتے رہے ، اب بھی یہودیوں کی یہی عادت ہے کہ وہ سجدہ کرتے ہوئے منہ کی ایک جانب لگاتے ہیں اوردوسری جانب سے اوپردیکھتے رہتے ہیں ، اوراس کی وجہ بھی یہی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے بڑوں سے اسی طرح کے سجدہ سے عذاب ہٹاتھا۔ فلھذاہم اسی طرح ہی سجدہ کرتے رہیں گے۔
اللہ تعالی نے طورکو اس لئے ان پر بلند کیاکہ یہ لوگ توراۃ کو قبول کریں اس لئے بلندنہیں کیاتھاکہ وہ اسلام کوقبول کریں کیونکہ اپنے آپ کو مسلمان توپہلے ہی کہتے تھے ۔
سوال یہ ہے کہ یہ جبرہی توہے اورقرآن کریم فرماتاہے لااکراہ فی الدین دین میں جبرواکراہ نہیں ہے ۔
اس کاجواب یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ لااکراہ فی الدین جہاد کی آیات سے منسوخ ہے ۔
امام ابن عطیہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ایساکرناسوائے اللہ تعالی کے کسی کے لئے جائز نہیں ہے ، اللہ تعالی نے انہیں سجدہ کے وقت ایمان پر مجبورفرمایابظاہرایمان قبول کررہے تھے لیکن ان کے دل مطمئن نہ تھے۔
(روح البیان:إسماعیل حقی بن مصطفی الإستانبولی الحنفی الخلوتی المولی أبو الفداء (۱:۱۵۳)

یہودیوں نے جب اپنے انبیاء کرام کی گستاخی کی تو

قَالَ الْقَفَّالُ رَحِمَہُ اللَّہُ:قَدْ یُعْلَمُ فِی الْجُمْلَۃِ أَنَّہُمْ بَعْدَ قَبُولِ التَّوْرَاۃِ وَرَفْعِ الطُّورِ تَوَلَّوْا عَنِ التَّوْرَاۃِ بِأُمُورٍ کَثِیرَۃٍ، فَحَرَّفُوا التَّوْرَاۃَ وَتَرَکُوا الْعَمَلَ بِہَا وَقَتَلُوا الْأَنْبِیَاء َ وَکَفَرُوا بِہِمْ وَعَصَوْا أَمْرَہُمْ وَلَعَلَّ فِیہَا مَا اخْتُصَّ بِہِ بَعْضُہُمْ دُونَ بَعْضٍ وَمِنْہَا مَا عَمِلَہُ أَوَائِلُہُمْ وَمِنْہَا مَا فَعَلَہُ مُتَأَخِّرُوہُمْ وَلَمْ یَزَالُوا فِی التِّیہِ مَعَ مُشَاہَدَتِہِمُ الْأَعَاجِیبَ لَیْلًا وَنَہَارًا یُخَالِفُونَ مُوسَی وَیَعْتَرِضُونَ عَلَیْہِ وَیُلْقُونَہُ بِکُلِّ أَذًی وَیُجَاہِرُونَ بِالْمَعَاصِی فِی مُعَسْکَرِہِمْ ذَلِکَ حَتَّی لَقَدْ خُسِفَ بِبَعْضِہِمْ وَأَحْرَقَتِ النَّارُ بَعْضَہُمْ وَعُوقِبُوا بِالطَّاعُونِ وَکُلُّ ہَذَا مَذْکُورٌ فِی تَرَاجِمِ التَّوْرَاۃِ الَّتِی یُقِرُّونَ بِہَا ثُمَّ فَعَلَ مُتَأَخِّرُوہُمْ مَا لَا خَفَاء َ بِہِ حَتَّی عُوقِبُوا بِتَخْرِیبِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَکَفَرُوا بِالْمَسِیحِ وَہَمُّوا بِقَتْلِہِ. وَالْقُرْآنُ وَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہِ بَیَانُ مَا تَوَلَّوْا بِہِ عَنِ التَّوْرَاۃِ فَالْجُمْلَۃُ مَعْرُوفَۃٌ وَذَلِکَ إِخْبَارٌ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی عَنْ عِنَادِ أَسْلَافِہِمْ فَغَیْرُ عَجِیبٍ إِنْکَارُہُمْ مَا جَاء َ بِہِ مُحَمَّدٌ عَلَیْہِ؍ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ مِنَ الْکِتَابِ وَجُحُودُہُمْ لِحَقِّہِ وَحَالُہُمْ فِی کِتَابِہِمْ وَنَبِیِّہِمْ مَا ذُکِرَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ.
ترجمہ :حضرت سیدناالامام القفال رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ بالجملہ یہ معلوم ہوتاہے کہ انہوںنے توراۃ کو قبول کرنے کے بعد توراۃ کے بہت سے احکامات کوچھوڑ دیاتھا، اس میں تحریف کردی اوراس پر عمل کرناترک کردیا، انبیاء کرام علیہم السلام کو شہید کردیا، ان کے ساتھ کفرکیااوران کی گستاخیاں کی ۔ ممکن ہے کہ اس میں کچھ چیزیں بعض کے ساتھ مخصوص ہوں ، بعض احکام پر پہلے لوگوں نے عمل نہیں کیااوربعض پر بعد والو ں نے نہ کیا، وہ مقام تیہ میں دن رات متعددعجائبات کامشاہدہ کرتے رہے ۔ حضر ت سیدناموسی علیہ السلام کی مخالفت کرتے رہے اوران پر اعتراضات کرتے رہے ۔ اورانہیں ہر طرح کی تکلیفیں دیتے رہے ۔ اپنے ٹھکانوں پر اعلانیہ معاصی کاارتکاب کیاکرتے تھے حتی کہ ان میں سے بعض کو زمین میں دھنسادیاگیااوربعض کو آگ نے جلاکر راکھ کردیا۔ طاعون ان پر مسلط کیاگیاجس سے سترہزار لوگ مارے گئے ۔ یہ تمام باتیں توراۃ کے تراجم میں موجود ہیں ، جس کایہ اقرارکرتے ہیں ، پھران کے بعد والوں نے جوکچھ کیاوہ کسی سے مخفی نہیں ہے حتی کہ انہیں بیت المقدس کی تخریب وتباہی کی وجہ سے سزادی گئی ۔
حضرت سیدناعیسی علیہ السلام کے ساتھ کفرکرتے ہوئے انہیں شہید کرنے پر تل گئے توان میں اگرچہ ان کی توراۃ سے اعراض کی تفصیل نہیں ہے لیکن معروف ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے بڑوں کے عناد کی اطلاع دی ، جب ان کاحال اپنے نبی یعنی حضر ت سیدناموسی علیہ السلام کے ساتھ یہ ہے توان کارسول اللہ ﷺکی کتاب یعنی قرآن کریم اوررسول اللہ ﷺکے حق ہونے کاانکارکرناکوئی عجیب نہیں ہے۔
(التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۳:۵۳۶)

قرب قیامت کی بہت سی نشانیاں

عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ لِإِنْسَانٍ: إِنَّکَ فِی زَمَانٍ کَثِیرٌ فُقَہَاؤُہُ، قَلِیلٌ قُرَّاؤُہُ، تُحْفَظُ فِیہِ حُدُودُ الْقُرْآنِ، وَتُضَیَّعُ حُرُوفُہُ. قَلِیلٌ مَنْ یَسْأَلُ.کَثِیرٌ مَنْ یُعْطِی. یُطِیلُونَ فِیہِ الصَّلَاۃَ، وَیَقْصُرُونَ الْخُطْبَۃَ یُبَدُّونَ أَعْمَالَہُمْ قَبْلَ أَہْوَائِہِمْ، وَسَیَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ قَلِیلٌ فُقَہَاؤُہُ، کَثِیرٌ قُرَّاؤُہُ، یُحْفَظُ فِیہِ حُرُوفُ الْقُرْآنِ وَتُضَیَّعُ حُدُودُہُ.کَثِیرٌ مَنْ یَسْأَلُ، قَلِیلٌ مَنْ یُعْطِی، یُطِیلُونَ فِیہِ الْخُطْبَۃَ، وَیَقْصُرُونَ الصَّلَاۃَیُبَدُّونَ فِیہِ أَہْوَاء َہُمْ قَبْلَ أَعْمَالِہِمْ۔
ترجمہ :حضرت سیدنایحیی بن سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک شخص کو فرمارہے تھے کہ تم ایسے زمانے میں ہوکہ جس میں فقہاء بہت زیادہ ہیں اورقاری بہت کم ہیں ، اس وقت قرآن کریم کی حدود کی حفاظت کی جاتی ہے ۔ اس وقت دینی احکامات کے متعلق سوال کرنے والے تھوڑے ہیں اورسوالوں کاجواب دینے والے بہت زیادہ ہیں ، لمبی نمازیں پڑھنے والے ہیںاورخطبہ میں اختصارکرنے والے ہیں ، اعمال کو پہلے رکھتے ہیں اوراپنی خواہشات کو بعد میں رکھتے ہیں ۔
ایک زمانہ آنے والاہے جس میں فقہاء بہت کم ہوں گے اورقاری بہت زیادہ ہوں گے ، اس وقت قرآن کریم کے حروف کی بہت زیادہ حفاظت کی جائے گی لیکن قرآن کریم میں بیان کردہ حدود کی بالکل پابندی نہیں ہوگی ، دین کے متعلق سوال کرنے والے بہت زیادہ ہوں گے اورجواب دینے والے بہت کم ہوں گے ۔ لمبے لمبے خطبے اورنمازیں مختصرپڑھیں گے اوراعمال صالحہ سے پہلے اپنی خواہشات کو ظاہرکریں گے ۔
(موطأ الإمام مالک:مالک بن أنس بن مالک بن عامر الأصبحی المدنی (ا:۱۷۳)

آج اتنے بے دین کھڑے ہو گئے ہے مگر ان کارد کرنے والے خال خال ہی ملتے ہیں ، آج کاسب سے بڑافتنہ لبرل وسیکولراز م ہے ، مگرہمارے خطباء اورلکھاری حضرات سطحی موضوعات کو پکڑکر بیٹھے ہیں اورانہیں پربول بھی رہے ہیں اورلکھ بھی رہے ہیں ۔ یہ انتہائی تکلیف دہ صورت حال ہے اللہ تعالی آسانی پیدافرمائے ۔

معارف ومسائل

( ۱) یاد رہے کہ دین قبول کرنے پر جبر نہیں کیا جاسکتا البتہ دین قبول کرنے کے بعد اس کے احکام پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ کسی کو اپنے ملک میں آنے پر حکومت مجبور نہیں کرتی لیکن جب کوئی ملک میں آجائے تو حکومت اسے قانون پر عمل کرنے پر ضرور مجبور کرے گی۔ (۲)اسلام نے جو قوانین وضابطے مقررکئے ہیں ان کی خلاف ورزی اورقانون شکنی کی ہر گز اجازت نہیں دی جاسکتی اورجوکوئی قانون شکنی کامرتکب ہوگاوہ کسی بھی صورت میں قانون کی گرفت اورسزاسے نہیں بچ سکتا، تعزیرات اورحدود کے نفاذ پر جبر کااطلاق ہر گز نہیں ہوتابلکہ نظام عدل وانصاف کے ہمہ گیرپہلوکاتقاضاہے اوریہی عین مصلحت ہے ۔ اگران امور میں قانون کی بالادستی نہ ہوتو نظام عالم تہہ وبالاہوکر لوگوں کی زندگی اجیرن اورغیرمحفوظ رہے گی ۔ (۳)جس طرح کسی بھی بچے کو مدرسہ کے قوانین پر عمل درآمد پر مجبور نہیں کیاجاتامگرجب وہ مدرسہ میں داخلہ لے لو توپھراس پر قوانین پرعمل کرواناجبر نہیں ہے ۔
(۴) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جنت میں صرف اورصرف اہل ایمان ہی جائیں گے ۔ (۵) احکامات شرع سے انکارکرنایہودیوں کاکام ہے ۔ (۶) پہاڑ کاان کے سروں پر لاکرکھڑاکردیناایمان لانے پر مجبور کرنے کے لئے نہ تھا، اس لئے کہ وہ ایمان تو پہلے ہی سے لاچکے تھے ، فقط نقص عہدسے روکنے کے لئے تھا، جیساکہ مسلمانوں پر حدود وقصاص اورتعزیرات کاقائم کرنااز قبیل اکراہ نہیں ہے بلکہ زنااورچوری اورشراب خوری ، خونریزی اورڈکیتی اوراس طرح کے تمام فواحش سے روکنے کے لئے ہے ۔ ہاں اگرپہاڑ کامعلق کرنادین قبول کرنے کے لئے ہوتاتو تب آیت (لااکرہ فی الدین) کے خلاف ہوتا۔پہاڑ کاسرپرلاکھڑاکرنامحض عہدشکنی اوربدعہدی اورایک ناشائستہ حرکت سے روکنے کے لئے تھانہ کہ دین قبول کرنے لئے۔
(۷) اے اسرائیلو! ہم نے تم پر یہاں تک مہربانی کی کہ جیسے احمق بیمار کو مہربان طبیب زبردستی دوائی پلاتاہے اسی طرح ہم نے تمھارے ساتھ کیاتم بخوشی اصلاح قبول کرنے والے نہ تھے ہم نے تم پر کوہ طور اٹھاکراختیارکرنے پر مجبور کیااورفرمایاکہ توراۃ قبول کروورنہ پہاڑ گرتاہے۔(تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی (۱:۴۴۶)(۸)یہ بظاہرجبرتھامگردرحقیقت معجزہ دکھاکران کو مطمئن کرناتھاکہ بے شک یہ کتاب رب تعالی کی طرف سے ہے جیساکہ دیگرمعجزات کامقصودہوتاہے ۔(تفسیرخزائن العرفان از سیدنعیم الدین مرادآبادی )
(۹) یہ بندوں کوجائز نہیںکہ وہ کسی کو دین پر مجبورکریں اوریہ فعل رب تعالی کاتھانہ کہ بندوں کا، تو{لااکراہ فی الدین }کی آیت بندوں کے لئے ہے اوریہ فعل رب تعالی کاہے ۔(تفسیرنعیمی از مفتی احمدیارخان نعیمی (۱:۴۴۶)
(۱۰) اس واقعہ میں بنی اسرائیل کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیاگیابلکہ ان کو ارتداد سے روک کرایمان پررکھاگیاکیونکہ ایمان توپہلے لاچکے تھے ۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: