تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۱۴

حضورتاجدارختم نبوت ﷺاورمساجد کے گستاخوں کے لئے دنیامیں بھی ذلت ہے اورآخرت میں بھی بڑاعذاب ہے

{وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَا اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْہَآ اِلَّا خَآئِفِیْنَ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ}(۱۱۴)
ترجمہ کنزالایمان :اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ۔
ترجمہ ضیاء الایمان: اوراس سے بڑاظالم کون ہے جو اللہ تعالی کی مساجد میں اللہ تعالی کانام لینے سے منع کرے اوران کوویران کرنے کی کوشش کرے ، ان کے لئے لازم تھاکہ وہ مساجد میں ڈرتے ہوئے جائیں ۔ ان کے لئے دنیامیں بھی رسوائی ہے اوران کے لئے آخرت میں بہت بڑاعذاب ۔

بڑاظالم کون؟

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّہِ أَنْ یُذْکَرَ فِیہَا اسْمُہُ نزلت فی خراب بیت المقدس وذلک أن ططوس الرومی غزا بنی إسرائیل فقتل مقاتلتہم، وسبی ذراریہم وحرق التوراۃ وخرب بیت المقدس فلم یزل خرابا حتی بناہ المسلمون فی زمن عمر بن الخطاب۔
ترجمہ:یہ آیت بیت المقدس کی بے حرمتی کے متعلق نازل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ روم کے عیسائیوں نے یہودیوں پر حملہ کرکے ان کے جنگجووں کو قتل کردیا، ان کے بیوی بچوں کو قید کرلیا، توریت کو جلادیا، بیت المقدس کو ویران کردیا، اس میں نجاستیں ڈالیں ، خنزیر ذبح کیے، یوں بیت المقدس خلافت ِفاروقی تک اسی ویرانی میں رہا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُکے عہد مبارک میں مسلمانوں نے اسے بنایا
(لباب التأویل فی معانی التنزیل: علاء الدین علی بن محمد براہیم المعروف بالخازن(۱:۷۲)
حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکاقول
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَغَیْرُہُ:نَزَلَتْ فِی النَّصَارَی، وَالْمَعْنَی کَیْفَ تَدَّعُونَ أَیُّہَا النَّصَارَی أَنَّکُمْ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ! وَقَدْ خَرَّبْتُمْ بَیْتَ الْمَقْدِسِ وَمَنَعْتُمُ الْمُصَلِّینَ مِنَ الصَّلَاۃِ فِیہِ۔
ترجمہ:حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اوراس کامعنی یہ ہے کہ تم کیسے دعوی کرتے ہواے نصاری! کہ تم اہل جنت میں سے ہو؟ حالانکہ تم نے بیت المقدس کو خراب کیااوراس میں نمازیوں کو نماز اداکرنے سے روکا۔
(تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۷۶)

کیاکوئی شخص اپنی معظمات دینی کی توہین کرسکتاہے ؟

وَمَعْنَی الْآیَۃِ عَلَی ہَذَا:التَّعَجُّبُ مِنْ فِعْلِ النَّصَارَی بِبَیْتِ الْمَقْدِسِ مَعَ تَعْظِیمِہِمْ لَہُ، وَإِنَّمَا فَعَلُوا مَا فَعَلُوا عَدَاوَۃٌ لِلْیَہُودِ۔
ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی اس آیت کریمہ کامعنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس صورت میں آیت کامعنی یہ ہوگانصاری کے فعل پر تعجب کااظہارہے کہ انہوں نے بیت المقدس کے ساتھ کیاکیا؟ حلانکہ وہ اس کی تعظیم بھی کیاکرتے تھے اورانہوںنے یہودیوں کے ساتھ عداوت کی وجہ سے رب تعالی کے گھرکو بربادکردیا۔
(تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۷۶)

شان نزول کے متعلق دوسراقول
نَزَلَتْ فِی الْمُشْرِکِینَ إِذْ مَنَعُوا الْمُصَلِّینَ وَالنَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَصَدُّوہُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ۔
ترجمہ :اوریہ بھی بیان کیاگیاہے کہ یہ آیت کریمہ مشرکین کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ انہوںنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اوررسول اللہ ﷺکو مسجدالحرام میں نماز اداکرنے سے منع کیااورحدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺاورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے منع کیا۔
(تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۷۶)

مشرکین کاظلم

ہَؤُلَاء ِ الْمُشْرِکُونَ الَّذِینَ حَالُوا بَیْنَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ، وَبَیْنَ أَنْ یَدْخُلُوا مَکَّۃَ حَتَّی نَحَرَ ہَدْیَہُ بِذِی طُوَی وَہَادَنَہُمْ، وَقَالَ لَہُمْ:مَا کَانَ أَحَدٌ یَصُد عَنْ ہَذَا الْبَیْتِ، وَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ یَلْقَی قَاتِلَ أَبِیہِ وَأَخِیہِ فَلَا یَصُدُّہُ فَقَالُوا: لَا یَدْخُلُ عَلَیْنَا مَنْ قَتَلَ آبَاء َنَا یَوْمَ بَدْرٍ وَفِینَا بَاقٍ وَفِی قَوْلِہِ: (وَسَعَی فِی خَرَابِہَا) قَالَ: إِذْ قَطَعُوا مَنْ یَعْمُرُہا بِذِکْرِہِ وَیَأْتِیہَا لِلْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ.
ترجمہ :حافظ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکوحدیبیہ والے سال کعبۃ اللہ سے روکاتھا، یہاں تک کہ ذی طوی میں آپ ﷺکو قربانیاں دیناپڑی تھیں اورمشرکین کے ساتھ صلح کرنے کے بعد آپ ﷺوہیں سے واپس آگئے ، حالانکہ یہ امن کی جگہ تھی ،جہاں پر باپ اوربھائی کے قاتل کو بھی کوئی نہیں چھیڑتاتھااوران کی کوشش یہی تھی کہ اللہ تعالی کاذکراورحج وعمرہ کرنے والی مسلمانوں کی جماعت کو روک دیں ۔
(تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (ا:۲۸۷)
تیسراقول
وَقِیلَ:الْمُرَادُ مَنْ مَنَعَ مِنْ کُلِّ مَسْجِدٍ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَہُوَ الصَّحِیحُ، لِأَنَّ اللَّفْظَ عَامٌّ وَرَدَ بِصِیغَۃِ الْجَمْعِ، فَتَخْصِیصُہَا بِبَعْضِ الْمَسَاجِدِ وَبَعْضِ الْأَشْخَاصِ ضَعِیفٌ۔
ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی: ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ بھی کہاگیاہے اس سے مراد ہر وہ شخص جس نے بھی قیامت تک کسی مسجد سے کسی کو روکااوریہی صحیح ہے ، کیونکہ لفظ عام ہے اورجمع کے صیغے کے ساتھ وارد ہے ، بعض مساجد کے ساتھ تخصیص کرنااوربعض اشخاص کے ساتھ خاص کرناضعیف ہے ۔
(تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۷۶)

مسجد کو ویران کرنے کے دونوں معنی کی وضاحت

خَرَابُ الْمَسَاجِدِ قَدْ یَکُونُ حَقِیقِیًّا کَتَخْرِیبِ بُخْتَ نَصَّرَ وَالنَّصَارَی بَیْتَ الْمَقْدِسِ عَلَی مَا ذُکِرَ أَنَّہُمْ غَزَوْا بَنِی إِسْرَائِیلَ مَعَ بَعْضِ مُلُوکِہِمْ قِیلَ: اسْمُہُ نطوس بْنُ اسبیسانوس الرُّومِیُّ فِیمَا ذَکَرَ الْغَزْنَوِیُّ- فَقَتَلُوا وَسَبَوْا، وَحَرَّقُوا التَّوْرَاۃَ، وَقَذَفُوا فِی بَیْتِ الْمَقْدِسِ الْعَذِرَۃَ وَخَرَّبُوہُ. وَیَکُونُ مَجَازًا کَمَنْعِ الْمُشْرِکِینَ الْمُسْلِمِینَ حِینَ صَدُّوا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَعَلَی الْجُمْلَۃِ فَتَعْطِیلُ الْمَسَاجِدِ عَنِ الصَّلَاۃِ وَإِظْہَارُ شَعَائِرِ الإسلام فیہا خراب لہا.
ترجمہ :مساجدکاخراب کرناکبھی حقیقت ہوتاہے جیسے بخت نصراورنصاری نے مسجد اقصی کی تخریب کی تھی ، جیساکہ ذکرکیاگیاہے کہ انہوں نے بنی اسرائیل سے اپنے کسی بادشاہ کے ساتھ ملکر جنگ کی ۔ بعض علماء کرام نے فرمایاکہ اس کانام نطوس بن اسبیسانوس رومی تھا، جیساکہ غزنوی رحمہ اللہ تعالی نے ذکرکیاہے ۔ پس انہوں نے بنی اسرائیل کو قتل کیااورانہیں قیدی بنایا۔ توراۃ کو جلادیااوربیت المقدس میں غلاظت ڈالی اوراسے خراب کردیااورکبھی تخریب مسجد مجازاہوتی ہے ۔ جیسے مشرکین کامسلمانوں کو منع کرناجب انہوںنے رسول اللہ ﷺکو مسجد الحرام سے روک دیا، پس نماز اورشعائر اسلام کی مساجد میں ادائیگی سے روک دینا،یہ اسے خراب کرناہے ۔
(تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۷۶)

مسجد اقصی اوررسول اللہ ﷺکی گستاخی پر رب تعالی کاعذاب

وَقَالَ تَعَالَی: (ہُمُ الَّذِینَ کَفَرُوا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفًا أَنْ یَبْلُغَ مَحِلَّہُ وَلَوْلا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاء ٌ مُؤْمِنَاتٌ لَمْ تَعْلَمُوہُمْ أَنْ تَطَئُوہُمْ فتَصُیِبَکُمْ مِنْہُمْ مَعَرَّۃٌ بِغَیْرِ عِلْمٍ لِیُدْخِلَ اللہُ فِی رَحْمَتِہِ مَنْ یَشَاء ُ لَوْ تَزَیَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْہُمْ عَذَابًا أَلِیمًا) (الْفَتْحِ: ۲۵) ، فَقَالَ تَعَالَی: (إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّہِ مَنْ آمَنَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلا اللَّہَ) (التَّوْبَۃِ: ۱۸) ، فَإِذَا کَانَ مَنْ ہُوَ کَذَلِکَ مَطْرُودًا مِنْہَا مَصْدُودًا عَنْہَا، فَأَیُّ خَرَابٍ لَہَا أَعْظَمُ مِنْ ذَلِکَ؟ وَلَیْسَ الْمُرَادُ مِنْ عِمَارَتِہَا زَخْرَفَتَہَا وَإِقَامَۃَ صُورَتِہَا فَقَطْ، إِنَّمَا عِمَارَتُہَا بِذِکْرِ اللَّہِ فِیہَا وَإِقَامَۃِ شَرْعِہِ فیہا، ورفعہا عن الدنس والشرک وَقَوْلُہُ تَعَالَی:(أُولَئِکَ مَا کَانَ لَہُمْ أَنْ یَدْخُلُوہَا إِلا خَائِفِینَ)ہَذَا خَبَرٌ مَعْنَاہُ الطَّلَبُ، أَیْ لَا تُمَکِّنوا ہَؤُلَاء ِ إِذَا قَدَرُتم عَلَیْہِمْ-مِنْ دُخُولِہَا إِلَّا تَحْتَ الْہُدْنَۃِ وَالْجِزْیَۃِ. وَلِہَذَا لَمَّا فَتَحَ رسولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ أَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْقَابِلِ فِی سَنَۃِ تِسْعٍ أَنْ یُنَادَی بِرِحَابِ مِنًی أَلَّا لَا یَحُجَّن بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ، وَلَا یَطُوفَنَّ بِالْبَیْتِ عُریان، وَمَنْ کَانَ لَہُ أَجْلٌ فَأَجَلُہُ إِلَی مُدَّتِہِ وَہَذَا کَانَ تَصْدِیقًا وَعَمَلًا بِقَوْلِہِ تَعَالَی: (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَذَا) الْآیَۃَ (التَّوْبَۃِ: ۲۸) ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: مَا کَانَ یَنْبَغِی لَہُمْ أَنْ یَدْخُلُوا مَسَاجِدَ اللَّہِ إِلَّا خَائِفِینَ عَلَی حَالِ التَّہَیُّبِ، وَارْتِعَادِ الْفَرَائِصِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْ یَبْطِشُوا بِہِمْ، فَضْلًا أَنْ یَسْتَوْلُوا عَلَیْہَا وَیَمْنَعُوا الْمُؤْمِنِینَ مِنْہَا. وَالْمَعْنَی: مَا کَانَ الْحَقُّ وَالْوَاجِبُ إِلَّا ذَلِکَ، لَوْلَا ظُلْمُ الْکَفَرَۃِ وَغَیْرِہِمْوَقِیلَ:إِنَّ ہَذَا بِشَارَۃٌ مِنَ اللَّہِ لِلْمُسْلِمِینَ أَنَّہُ سیُظْہرہم عَلَی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَعَلَی سَائِرِ الْمَسَاجِدِ، وَأَنَّہُ یُذِلُّ الْمُشْرِکِینَ لَہُمْ حَتَّی لَا یَدْخُلَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ أَحَدٌ مِنْہُمْ إِلَّا خَائِفًا، یَخَافُ أَنْ یُؤْخَذَ فَیُعَاقَبَ أَوْ یُقْتَلَ إِنْ لَمْ یُسْلِمْ وَقَدْ أَنْجَزَ اللَّہُ ہَذَا الْوَعْدَ کَمَا تَقَدَّمَ مِنْ مَنْعِ الْمُشْرِکِینَ مِنْ دُخُولِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَأَوْصَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا یَبْقَی بِجَزِیرَۃِ الْعَرَبِ دِینَانِ، وَأَنْ تُجْلَی الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی مِنْہَا، وَلِلَّہِ الْحَمْدُ وَالْمِنَّۃُ وَمَا ذَاکَ إِلَّا تَشْرِیفُ أَکْنَافِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَتَطْہِیرُ الْبُقْعَۃِ (الْمُبَارَکَۃِ)التِی بَعَث (اللَّہُ)فِیہَا رَسُولَہُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً بَشِیرًا وَنَذِیرًا صَلَوَاتُ اللَّہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَہَذَا ہُوَ الْخِزْیُ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا؛ لِأَنَّ الْجَزَاء َ مِنْ جِنْسِ الْعَمَلِ فَکَمَا صَدُّوا الْمُؤْمِنِینَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، صُدوا عَنْہُ، وَکَمَا أَجْلَوْہُمْ مِنْ مَکَّۃَ أُجْلُوا مِنْہَا (وَلَہُمْ فِی الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیمٌ) عَلَی مَا انْتَہَکُوا مِنْ حُرْمَۃِ الْبَیْتِ، وَامْتَہَنُوہُ مِنْ نَصْبِ الْأَصْنَامِ حَوْلَہُ، وَالدُّعَاء ِ إِلَی غَیْرِ اللَّہِ عِنْدَہُ وَالطَّوَافِ بِہِ عُرْیًا، وَغَیْرِ ذَلِکَ مِنْ أَفَاعِیلِہِمُ التِی یَکْرَہُہَا اللَّہُ وَرَسُولُہُوَأَمَّا مَنْ فَسَّر بَیْتَ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ کَعْبُ الْأَحْبَارِ: إِنَّ النَّصَارَی لَمَّا ظَہَرُوا عَلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ خَرَّبُوہُ فَلَمَّا بَعَثَ اللَّہُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْزَلَ عَلَیْہِ: (وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللَّہِ أَنْ یُذْکَرَ فِیہَا اسْمُہُ وَسَعَی فِی خَرَابِہَا أُولَئِکَ مَا کَانَ لَہُمْ أَنْ یَدْخُلُوہَا إِلا خَائِفِینَ) الْآیَۃَ، فَلَیْسَ فِی الْأَرْضِ نَصْرَانِیٌّ یَدْخُلُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ إِلَّا خَائِفًا.وَقَالَ السُّدِّیُّ:فَلَیْسَ فِی الْأَرْضِ رُومِیٌّ یَدْخُلُہُ الْیَوْمَ إِلَّا وَہُوَ خَائِفٌ أَنْ یُضْرَب عُنُقُہ، أَوْ قَدْ أُخِیفَ بِأَدَاء ِ الْجِزْیَۃِ فَہُوَ یؤدیہا.
ترجمہ :{ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ الْہَدْیَ مَعْکُوْفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہ وَ لَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآء ٌ مُّؤْمِنٰتٌ لَّمْ تَعْلَمُوْہُمْ اَنْ تَطَـُوْہُمْ فَتُصِیْبَکُمْ مِّنْہُمْ مَّعَرَّۃٌ بِغَیْرِ عِلْمٍ لِیُدْخِلَ اللہُ فِیْ رَحْمَتِہٖ مَنْ یَّشَآء ُ لَوْ تَزَیَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا }(سورۃ الفتح :۲۵)
ترجمہ کنزالایمان :وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روکا اور قربانی کے جانور رکے پڑے اپنی جگہ پہنچنے سے اور اگر یہ نہ ہوتا کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں جن کی تمہیں خبر نہیں کہیں تم انہیں روند ڈالو تو تمہیں ان کی طرف سے انجانی میں کوئی مکروہ پہنچے تو ہم تمہیں ان کی قتال کی اجازت دیتے ان کا یہ بچاؤ اس لئے ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں داخل کرے جسے چاہے اگروہ جدا ہوجاتے و ہم ضرور ان میں کے کافروں کو دردناک عذاب دیتے۔
پس جب رسول اللہ ﷺاورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم جن سے مسجد کی آبادی حقیقی معنی میں ہے وہی مسجد الحرام سے روک دئے گئے تو مسجدوں کے اجاڑے میں کونسی کمی رہ گئی ؟ مسجدوں کی آبادی صرف ظاہری زیب وزینت اوررنگ وروغن سے نہیں ہوتی بلکہ اس میں اللہ تعالی کاذکرہونااوراس میں شریعت کاقائم رہنااورشرک اورظاہری میل کچیل سے پاک رکھنایہ ان کی حقیقی آبادی ہے ۔ پھرفرمایاکہ
{ مَا کَانَ لَہُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْہَآ اِلَّا خَآئِفِیْنَ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ}
اللہ تعالی نے فرمایاکہ انہیں لائق نہیں ہے کہ بے خوفی اوربے باکی کے ساتھ بیت اللہ میںآنے دو
ہم تم کو غالب کردیں گے ، اس وقت یہی کرنا۔ چنانچہ جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیاتواگلے سال نوہجری کو اعلان کروادیاگیاکہ اس سال کے بعد حج میں کوئی بھی مشرک نہ آنے پائے اوربیت اللہ شریف کاطواف کوئی بھی شخص برہنہ ہوکرنہ کرے اورجن لوگوں کے درمیان صلح کی کوئی مدت مقررہوئی ہے وہ قائم ہے ۔ یہ حکم دراصل تصدیق اورعمل ہے اس آیت پر
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَۃً فَسَوْفَ یُغْنِیْکُمُ اللہُ مِنْ فَضْلِہٖٓ اِنْ شَآء َ اِنَّ اللہَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ }(سورۃ توبہ : ۲۸)
اے ایمان والو مشرک نِرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیںاور اگر تمہیں محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے۔
اوریہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ چاہئے تویہ تھاکہ مشرک کانپتے ہوئے اورخوف میں مبتلاہوکر مسجد شریف میں آئیں لیکن برخلاف اس کے کہ یہ لوگ اہل ایمان کو مسجد شریف سے روک رہے ہیں ۔ اس کایہ مطلب بھی ہوسکتاہے کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی ایمان داروں کو بشارت دیتاہے کہ میں عنقریب تم کو غلبہ دوں گااوریہ مشرکین اس مسجد شریف کی طرف رخ کرنے سے بھی کانپنے لگیں گے ، چنانچہ ایساہی ہواکہ رسول اللہ ﷺنے وصیت فرمائی کہ جزیرہ عرب میں دودین باقی نہ رہنے پائیں اوریہودونصاری کو وہاں سے نکال دیاجائے۔ الحمدللہ ! رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو امت کے بزرگ ہیں نے رسول اللہ ﷺکی اس وصیت پر بھی عمل کردکھایا۔

اس سے مسجدوں کی فضیلت اوربزرگی بھی ثابت ہوئی بالخصوص اس جگہ کی اورمسجد کی جہاں سے بڑے اورکل جن وانس کے رسول ﷺبھیجے گئے تھے ۔ ان کفارپر دنیاکی رسوائی بھی آئی جس طرح انہوںنے اہل اسلام کو روکا، جلاوطن کیا، ٹھیک اس کاپورابدلہ انہیں ملا، مشرکین بھی بیت اللہ سے روکے گئے اورجلاوطن کئے گئے اورابھی آخرت کاعذاب باقی ہے۔ کیونکہ انہوںنے اللہ تعالی کے گھرحرم شریف کی حرمت کو ختم کردیااوروہاں بت رکھے ، غیراللہ سے مناجاتیں کیں ، ننگے ہوکر کعبۃ اللہ کاطواف کرتے تھے ، اوراگراس سے مراد نصرانی لئے جائیں تو بھی ظاہرہے کہ انہوںنے بھی بیت المقدس کی توہین کی تھی ، بالخصوص اس صخرہ (پتھر) کی جس کی طرف منہ کرکے یہودی نماز پڑھتے ہیں ، اسی طرح جب یہودیوں نے نصرانیوں کی بہت زیادہ ہتک کی توان پر ذلت بھی اسی وجہ سے زیادہ نازل ہوئی ۔ دنیاکی رسوائی سے حضرت سیدناامام مہدی رضی اللہ عنہ کے زمانہ مبارک کی رسوائی بھی ہے ۔
(تفسیر القرآن العظیم:أبو الفداء إسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصری ثم الدمشقی (۱:۳۸۹)

مساجد کو ویران کرنے والوں کی سزا

{وَ لِلہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللہِ اِنَّ اللہَ وٰسِعٌ عَلِیْمٌ}(۱۱۵)أَنَّ الْمَعْنَی أَنَّ ہَؤُلَاء ِ الَّذِینَ ظَلَمُوا بِمَنْعِ مَسَاجِدِی أَنْ یُذْکَرَ فِیہَا اسْمِی وَسَعَوْا فِی خَرَابِہَا أُولَئِکَ لَہُمْ کَذَا وَکَذَا، ثُمَّ إِنَّہُمْ أَیْنَمَا وَلَّوْا ہَارِبِینَ عَنِّی وَعَنْ سُلْطَانِی فَإِنَّ سُلْطَانِی یَلْحَقُہُمْ، وَقُدْرَتِی تَسْبِقُہُمْ وَأَنَا عَلِیمٌ بِہِمْ، لَا یَخْفَی عَلَیَّ مَکَانُہُمْ وَفِی ذَلِکَ تَحْذِیرٌ مِنَ الْمَعَاصِی وَزَجْرٌ عَنِ ارْتِکَابِہَا، وَقَوْلُہُ تَعَالَی: إِنَّ اللَّہَ واسِعٌ عَلِیمٌ نَظِیرُ قَوْلِہِ: إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطارِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطانٍ (الرَّحْمَنِ: ۳۳)
ترجمہ :امام محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں ان لوگوں کاذکرہے جن لوگوں نے اللہ تعالی کی مساجد کو بے آباد کیااوران میں اللہ تعالی کے ذکرسے روکا( یعنی رسول اللہ ﷺکو مسجدالحرام سے روکا) ان کی سزابیان ہوئی ہے پھروہ جہاں بھی مجھ سے اورمیری بادشاہی سے بھاگیں گے میری ہی بادشاہی پائیں گے اورمیری قدرت کے تحت ہوں گے اورمیں انہیں جانتاہوں ان کی کوئی جگہ مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے تواس میں معاصی سے بچنے اوران کے ارتکاب پر زجرہوگا۔
(التفسیر الکبیر:أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی )(۴:۲۰)

کفارکا مسجد شریف میں آنا کیسا؟

أُولئِکَ مَا کانَ لَہُمْ أَنْ یَدْخُلُوہا إِلَّا خائِفِینَ’’أُولئِکَ‘‘ مُبْتَدَأٌ وَمَا بَعْدَہُ خَبَرُہُ خائِفِین حَالٌ، یَعْنِی إِذَا اسْتَوْلَی عَلَیْہَا الْمُسْلِمُونَ وَحَصَلَتْ تَحْتَ سُلْطَانِہِمْ فَلَا یَتَمَکَّنُ الْکَافِرُ حِینَئِذٍ مِنْ دُخُولِہَا. فَإِنْ دَخَلُوہَا، فَعَلَی خَوْفٍ مِنْ إِخْرَاجِ الْمُسْلِمِینَ لَہُمْ، وَتَأْدِیبِہِمْ عَلَی دُخُولِہَا. وَفِی ہَذَا دَلِیلٌ عَلَی أَنَّ الْکَافِرَ لَیْسَ لَہُ دُخُولُ الْمَسْجِدِ بِحَالٍ، عَلَی مَا یَأْتِی فِی’’بَرَاء َۃٌ‘‘إِنْ شَاء َ اللَّہُ تَعَالَی وَمَنْ جَعَلَ الْآیَۃَ فِی النَّصَارَی رَوَی أنہ مر زمان بَعْدَ بِنَاء ِ عُمَرَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فِی الْإِسْلَامِ لَا یَدْخُلُہُ نَصْرَانِیٌّ إِلَّا أُوجِعَ ضَرْبًا بَعْدَ أَنْ کَانَ مُتَعَبَّدَہُمْ وَمَنْ جَعَلَہَا فِی قُرَیْشٍ قَالَ:کَذَلِکَ نُودِیَ بِأَمْرِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: (أَلَا لَا یَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِکٌ، وَلَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ عُرْیَانٌ وَقِیلَ: ہُوَ خَبَرٌ وَمَقْصُودُہُ الْأَمْرُ، أَیْ جَاہِدُوہُمْ وَاسْتَأْصِلُوہُمْ حَتَّی لَا یَدْخُلَ أَحَدٌ مِنْہُمُ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِلَّا خَائِفًا، کَقَوْلِہِ:وَما کانَ لَکُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّہِ فَإِنَّہُ نَہْیٌ وَرَدَ بِلَفْظِ الْخَبَرِ.
ترجمہ :اس آیت مبارکہ کامعنی یہ ہے کہ جب اس پر مسلمان غالب آجائیں تو اوروہ مسلمانوں کے زیرانتظام آجائے تو پھرکفارکاداخلہ ممکن نہ ہوگا، اگرکافر اس میں داخل ہونگے توانہیں خوف ہوگاکہ مسلمان انہیں نکال دیں گے اوراس میں داخل ہونے پر سزادیں گے ۔ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ کافرکے لئے مسجد میں داخل ہونامنع ہے اورکسی حال میں جائز نہیں ہے ۔
جنہوںنے اس آیت کریمہ کو نصاری کے بارے میں تصورکیاہے اس نے روایت کیاکہ حضرت سیدناعمرر ضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کو تعمیرکیاتواس کے بعد ایک زمانہ گزرگیاکہ کوئی بھی نصرانی اس میں داخل نہیں ہوتاتھامگراسے سزادی جاتی تھی ، اس کے بعد کہ وہ ان کی عبادت گاہ تھی اورجنہوں نے اسے قریش کے بارے میں تصور کیاہے انہوںنے کہاکہ رسول اللہ ﷺکے حکم شریف سے یہ اعلان ہوااس سال کے بعد کوئی بھی مشر ک حج نہیں کرسکے گااورکوئی بیت اللہ کاطواف ننگاہوکرنہیں کرسکے گا۔
بعض علماء کرام نے فرمایاکہ یہ خبرہے اوراس سے مقصود امرہے یعنی کافروں سے جہاد کرواورانہیں جڑ سے اکھیڑدوحتی کہ ان میں کوئی کوئی مسجد الحرام شریف میں داخل نہ ہومگرڈرتے ہوئے جیسے اللہ تعالی کاارشادہے ۔
(تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۷۶)

کافرمسجد کامتولی نہیں بن سکتا

مَا کَانَ یَنْبَغِی لَہُمْ أَنْ یَدْخُلُوا مَسَاجِدَ اللَّہِ إِلَّا خَائِفِینَ عَلَی حَالِ الْہَیْبَۃِ وارتعاد الفرائض مِنَ الْمُؤْمِنِینَ أَنْ یَبْطِشُوا بِہِمْ فَضْلًا أَنْ یَسْتَوْلُوا عَلَیْہِمْ وَیَمْنَعُوا الْمُؤْمِنِینَ مِنْہَا۔
ترجمہ :امام محمدبن عمر الرازی المتوفی: ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ کفارومشرکین مساجد میں مسلمانوں کی ہیبت سے ڈرتے اورکانپتے ہوئے داخل ہوں کہ کہیں اہل اسلام ان کو گرفتارنہ کرلیں ، چہ جائیکہ کفاران کی مساجد کے متولی بنیں اوراہل ایمان کو مسجد میں آنے سے روکیں ۔
(التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۴:۱۰)

اگرکوئی نصرانی مسجد میں داخل ہوجائے تواس کو سزادی جائے

وَقَالَ قَتَادَۃُ وَمُقَاتِلٌ: لَا یَدْخُلُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ أَحَدٌ مِنَ النَّصَارَی إلا متنکرا لَوْ قُدِرَ عَلَیْہِ لَعُوقِبَ۔
ترجمہ:حضرت سیدناقتادہ اورمقاتل رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ بیت المقدس شریف میں کوئی بھی نصرانی داخل نہیں ہوسکتا، ہاں کوئی نصرانی اپناحلیہ تبدیل کرکے داخل ہوجائے تواسے پکڑکر سخت سزادی جائے گی۔
(تفسیر البغوی :محیی السنۃ ، أبو محمد الحسین بن مسعود بن محمد بن الفراء البغوی الشافعی (ا:۱۵۶)

یہود ونصاری کاقبلہ کیاہے ؟

قول القفال:زعمت الیہود، أن اللہ لما خلق الأرض صعد إلی السماء من الصخرۃ، فاتخذوہا قبلۃ، والنصاری استقبلوا المشرق لولادۃ مریم من جہتہ.
ترجمہ :الشیخ القفال رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیںکہ یہودیوں کایہ گمان ہے کہ جب اللہ تعالی نے زمین مکمل بنالی تو صخرہ بیت المقدس سے آسمان پرچڑھ گیا، اس لئے انہوںنے صخرہ بیت المقدس کو قبلہ بنالیااورنصاری کایہ کہناہے کہ بیت المقدس کے شرقی جانب حضرت سیدتنامریم رضی اللہ عنہاکی ولادت باسعاد ت ہوئی تو اس لئے اس مقام کو قبلہ بنالیا۔
(غرائب التفسیر وعجائب التأویل:محمود أبو القاسم برہان الدین الکرمانی(۱:۱۷۱)
نمازیوں پرگندگی ڈالنانصرانیوں کاشیوہ تھا
فقال ابن عباس وغیرہ:المراد النصاری الذین کانوا یؤذون من یصلی ببیت المقدس ویطرحون فیہ الأقذار۔
ترجمہ :حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں نصاری مراد ہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو بیت المقدس میں نمازپڑھتے ہوئے لوگوں کو تکالیف دیتے اوران پر گندگی ڈال دیتے تھے ۔
(المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیزـ:أبو محمد عبد الحق عطیۃ الأندلسی المحاربی (ا:۱۹۹)

معارف ومسائل

(۱)اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکو مسجد الحرام سے روکنایہ کفرتھااوریہ رسول اللہ ﷺکی گستاخی ہے ۔
(۲) اس آیت مبارکہ سے معلوم ہواکہ کفارمکہ کو حرم شریف سے اسی لئے نکالایاگیاکہ انہوںنے رسول اللہ ﷺاورآپ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گستاخیاں کیں اوران کے ساتھ نارواسلوک روارکھا۔
(۳) ا س سے یہ بھی معلوم ہواکہ نصاری کاذاتی عناد کے سبب مسجداقصی پر حملہ کرنااوراسے اجاڑدیناایک انتہائی گھٹیااورکمینہ پن تھا، اوریہ بات انتہائی خطرناک ہے کہ کوئی شخص اتنابھی گرسکتاہے کہ وہ کسی کے ساتھ ذاتی عناد کی وجہ سے اپنی معظمات دینیہ کی توہین کرنے لگے کیونکہ جس طرح یہودیوں کے نزدیک بیت المقدس مذہبی مقام تھااسی طرح نصرانیوں کے نزدیک بھی وہ معظم دینی تھالیکن ذاتی عناد کے سبب انہوںنے مجوسیوں کوساتھ ملاکر مسجد شریف کی بے حرمتی کی اوراس میں گندگی ڈالی اورمسجد شریف کے اندرخنزیرذبح کئے ۔
(۴)نصرانیوں کے اس عمل بدسے ہمیں بھی عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ کسی کے ساتھ ذاتی عناد کی وجہ سے ہم تختہ مشق دین کو تونہیں بناتے ۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال عرض کئے دیتے ہیں کہ آج کوئی شخص کسی بھی عالم دین کی تبلیغ سے متاثرہوکردین کی طرف مائل ہوتاہے اورداڑھی وغیرہ چہرے پرسجالیتاہے اورنماز وغیرہ کی پابندی شروع کردیتاہے ، لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اللہ نہ کرے کہ اس عالم دین سے کوئی غلطی سرزدہوجائے تو یہی شخص سب سے پہلے داڑھی منڈوادیتاہے اورسارے دین سے باغی ہوجاتاہے ۔ یہ ایک عجیب سامعاملہ ہے جو سمجھ سے باہرہے ۔ (اسی لئے اللہ تعالی نے تمام انبیاء کرام علیہم السلام اورمحبوب کریم ﷺکو معصوم بنایاتاکہ کوئی شخص ایسی حرکت نہ کرے )
(۵) آج لوگوںنے اپنی ذاتی خواہشات کی وجہ سے تختہ مشق دین کو بنایاہواہے ، یعنی کسی شخص کو نماز کیلئے دعوت دی جائے تو آگے سے کہتے ہیں کہ ایک عالم صاحب یہ کہتے ہیں کہ نماز کے دوران ہاتھ اپنے سینے پر رکھواورایک یہ کہتے ہیں کہ نماز کے دوران ہاتھ زیرناف رکھو اورایک یہ کہتے ہیں کہ ہاتھ چھوڑ کرنماز اداکرو، جب تک یہ تمام متفق نہیں ہوجاتے ہم نے نماز ادانہیں کرنی ۔
ان کے لئے عرض ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں سے لیکر لباس وغیرہ اورملکی سیاست تک ہر ہرچیز میں اسی طرح کااختلاف ہے ، کل کلاں آپ یہ بھی کہوگے کہ ہر کمپنی والایہ کہتاہے میری کمپنی کابنایاہواجوتابہترین ہے اس لئے اب ہر ہر جگہ اختلاف ہے ہم تب تک جوتااستعمال نہیں کریں گے جب تک تمام کمپنیاں متفق نہیں ہوجاتیں ۔ یہ بات ذہن میں رہے اصل معاملہ اورہے جس کو امیرالمجاہدین حضرت اقدس شیخ الحدیث مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ (پیڑاں ہورتے پھکیاں ہور)
(۶) حضرت سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک کفارمسجد شریف میں آسکتے ہیں مگرڈرتے ہوئے آئیں یعنی اجازت لیکر آئیں اوردندناتے ہوئے نہ آئیں ، اسی لئے فقہاء کرام نے کفارکے مسجد میں آنے کو جائز رکھاہے ۔
اس سے معلوم ہواکہ عندالاحناف کافر کا ہر مسجد میں آنا درست ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کے دور سعادت نشان میں مہمان کو اگرچہ وہ کافر ہی ہوتا ہے مسجد میں ٹھہرا یا جاتا تھا چنانچہ وفد ثقیف اور دیگر وفود مسجد ہی میں فردکش ہوتے تھے نیز تواتر کے ساتھ یہ معلوم ہے کہ یہیودی نصرانی اور مشرکین رسول اللہ ﷺکی ملاقات کے لیے مسجد میں آتے اور بیٹھتے تھے۔حضورتاجدارختم نبوتﷺنے ثمامہ بن اثال حنفی کو حالت کفرمیں مسجد (نبوی)کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا تھارسول اللہ ﷺکی اس متواترسنت اور طریقے کو منسوخ کرنے والی کوئی چیز بھی وارد نہیں ہوئی ہے۔
(۷) آج پاکستانی حکمران کتنی مساجد کو شہید کرچکے ہیں روڈبنانے کابہانہ بناکر اورجو مساجد موجود ہیں ان میں رسول اللہ ﷺکاسچادین بیان نہیں کرنے دیتے ۔ کیایہ مساجد کی ویرانی نہیں ہے ۔ جیساکہ ہم حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی کاقول نقل کرآئے ہیں کہ مسجد میں شعاراسلام کو بیان کرنے سے روکنابھی مسجد شریف کو ویران کرناہے ۔
(۸) پہلے کفارمساجد میں گندگی ڈالتے تھے آج یہ نام نہاد مسلمان حکمرانوں کی بنائی ہوئی پولیس اورجتنے بھی اس طرح کے نمک حرام لوگ ہیں وہ مساجد میں جوتے پہن کر داخل ہوجاتے ہیں اورمساجدشریفہ کو کتنے کتنے بندرکھتے ہیں ۔
ہمارے شیخ حضرت امیرالمجاہدین حافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی کی مسجد کو شریف کو کئی دنوں تک بندرکھاگیااوراس میں مقررپولیس والے ذلیل لڈوکھیلتے رہے ۔ اورجب قبلہ امیرالمجاہدین کو گرفتارکرنے آئے تو مسجد شریف کادروازہ توڑکرآئے اورجوتے پہنے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے ۔ ہمارے نزدیک ایساحکم دینے والے اوران کے حکم پر چلنے والے اوران کے اس عمل کو پسند کرنے والے مشرکین اورنصرانیوں کے پیروکاراوران کے سچے جانشین ہیں اوران لوگوں کو لئے وہی عذب عنداللہ تیارہے جو ان نصرانیوںاورمشرکین کے لئے اللہ تعالی نے تیارکیاہے ۔
(۹) اس آیت مبارکہ میں فتح مکہ، فتح بیت المقدس اوراہل اسلام کے لئے دوسری فتوحات کی خوشخبری ہے اوراسی آیت مبارکہ میں حضرت سیدناامام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمدکی بھی خوشخبری دی گئی ہے ۔ اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعاہے کہ ہم کو حضرت سیدناامام مہدی رضی اللہ عنہ کے مددگاروں میں رکھے ۔
(۱۰) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو اس وقت مشرکین مکہ کابیت اللہ شریف پرقبضہ تھااورمشرکین مکہ مکرمہ میں اورحرم مکرم میں بے خوف ہوکر دندناتے پھرتے تھے اوربیت المقدس پر اہل کتاب کے کفارکاقبضہ تھااوران کو کسی طرح کاکوئی خوف اورخطرہ نہیں تھا۔ یہودی مدینہ منورہ میں دندناتے پھرتے تھے اوربے خوف ہوکر اہل اسلام کے خلاف بدمعاشیاں کرتے تھے اوران کو دین سے ہٹانے کی کوشش کرتے تھے اوران کی مساجدکو ویران کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالی نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ۔اوراس میں جو اللہ تعالی نے خوشخبری دی اس کے پوراہونے کے کوئی ظاہری اسباب موجود نہیں تھے ، مگرکچھ ہی عرصہ بعد تمام حالات سازگارہوگئے۔بیت اللہ شریف مشرکین سے پاک ہوگیا۔ مدینہ منورہ یہودیوں کی غلاظت سے پاک ہوگیا۔ اوربیت المقدس میں حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ مبارک میں اللہ تعالی کی توحیداوررسول اللہ ﷺکی رسالت کی آذانیں پڑھی جانے لگیں ۔ اہل اسلام کو ڈرانے اوران پر تنگیاں کرنے والے آج خود ذلیل ہورہے تھے ۔
یہ ذہن میں رہے کہ یہ سب کچھ اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرنے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس آیت مبارکہ کافیضان آج بھی اگرکسی نے دیکھناہوتوجہاد کااعلان کردوپھردیکھناکہ دنیابھرکے کفار کیسے تم سے ڈرتے ہیںاورکس طرح تمھارے پائوں میں گرتے ہیں ۔
(۱۱) اوراس سے یہ بھی معلوم ہواکہ مساجد کی حفاظت کرنے کی کس قدراہمیت ہے اوران مساجد شریفہ کی حفاظت صرف اورصرف جہاد سے ہی ممکن ہے ۔ جہاد سے ہی ہم بابری مسجد لے سکتے ہیں اورجہاد سے ہی ہم اپنی تمام شہیدکی ہوئی مساجد شریفہ کوآباد کرسکتے ہیں۔
(۱۲) اوراسی طرح یہ بھی مساجد شریفہ کی ویرانی ہے کہ پاکستانی حکمران کرکٹ میچ کے لئے مساجد کو بندکروادیتے ہیں اوروہاں تین تین دن تک اذانیں موقوف ہوجاتی ہیں اورنمازیں تک بندکردی جاتی ہیں ۔
(۱۳) رسول اللہ ﷺکے زمانہ مبارکہ اورواقعہ معراج شریف تک بیت المقدس کاشہر ویران رہا، البتہ مسجداقصی جزوی طورپر درست حالت میں تھی ، حضرت سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جہاں نئے نئے شہر آبادکئے جیسے بصرہ اورکوفہ تووہاں خصوصیت کے ساتھ بیت المقدس شہر کی مکمل تعمیرکی ، ایک بڑے عرصے کے بعد بیت المقدس شہر اہل اسلام کے ہاتھوں سے نکل گیااورایک سوسال تک یہ شہر عیسائیوں کے ہاتھ میں رہا، جب مجاہد اعظم حضرت سیدناصلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالی کادورمبارک آیاتوچھٹی صدی ہجری میں دوبارہ یہ شہرمقدس اہل اسلام کے قبضہ میں آگیا۔ اس وقت اس مقدس شہر پر یہودیوں کاقبضہ ہے ۔ ۱۹۹۷ء) میں عرب اسرائیل جنگ میں یہودیوں نے اردنی فوج کو شکست دے کر پورے بیت المقدس پر قبضہ کرلیا۔
(۱۴) ہماری ناقص رائے یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہماری ذلت وخواری کے دوسرے اسباب کے علاوہ سب سے بڑاسبب مساجدکی، قرآن کریم کی اورحقیقی علماء کرام کی بے حرمتی ہے ۔ یہ تینوں ایک ہیں اورآپس میں لازم وملزوم ہیں۔ اوران تینوں کے قالب الگ مگرروح ایک ہے۔
(۱۵) جس چیزسے مسجد شریف کی جماعت کم پڑجائے وہ منع ہے کیونکہ یہ ویرانی کی کوشش ہے ، لھذامسجد میں بدمذہب یاسخت مزاج نراجاہل امام رکھنامنع ہے بدبودارچیزیں مسجد شریف میں لے جاناحرام ہے ، کچالہسن اورپیاز کھاکر اورحقہ پی کر بدبودارزخم لیکر مسجد شریف جاناناجائز ہے ۔ کیونکہ اس سے اہل اسلام کو ایذاہوگی اوروہ مسجد شریف آناترک کردیں گے ۔
(۱۶) کوشش کی جائے کہ مسجدشریف کی عمارت ہمارے مکانات سے اونچی ہو۔ حضرت سیدناعثمان غنی رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی شریف نہایت ہی اعلی اورنفیس بنوائی تھی ۔
(۱۷) ہمیں تویہ حکم تھاکہ اگرکوئی نصرانی مسجداقصی میں داخل ہوجائے تواس کو پکڑکرسزادی جائے مگرآج ہمارے حالات کیاہیں کہ ہم میں سے کوئی مسجد شریف میں داخل ہوجائے تواس کو سزادی جاتی ہے اورہماری مائوں بہنوں کو اذیت ناک تکالیف کاسامناکرناپڑتاہے ۔

Leave a Reply