تفسیر سورہ بقرہ آیت ۱۰۴ تا ۱۰۷ ۔ رسول اللہ ﷺکی بارگاہ عالیہ میں گستاخانہ الفاظ بولنے والے کاشرعی حکم

رسول اللہ ﷺکی بارگاہ عالیہ میں گستاخانہ الفاظ بولنے والے کاشرعی حکم

{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رٰعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}(۱۰۴)
ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو !رَاعِنَانہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔
ترجمہ ضیاء الایمان:اے ایمان والو! تم راعنانہ کہواورمیرے حبیب کریم ﷺکی خدمت میں یوں عرض کروکہ حضورہم پرنظرکرم فرمائیں اورتم پہلے ہی پوری توجہ کے ساتھ سنواورکافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔
رب تعالی بلاواسطہ کلام فرمارہاہے
سَمِعْتُ سُفْیَانَ بْنَ عُیَیْنَۃَ، یَقُولُ:سَمِعْتُ مِسْعَرَ بْنَ کِدَامٍ، یَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لعَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَوْصِنِی، قَالَ: إِذَا سَمِعْتَ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ یَقُولُ: (یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا) (البقرۃ: ۱۰۴) فَأَصْغِ إِلَیْہَا سَمْعَکَ، فَإِنَّہُ خَیْرٌ تُؤتَی بِہِ أَوْ سوء تُصْرَفُ عَنْہُ ۔
ترجمہ :حضرت سیدناسفیان بن عیینہ رحمہ اللہ تعالی روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کی کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تویہ سنے کہ {یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا}توفوراً اپنے کان اس کی طرف متوجہ کرلے اورقلب کو حاضرکرکہ اللہ تعالی تم سے بلاواسطہ کلام فرمارہاہے، ایک نیک عمل کی بجاآوری کایاکسی برے عمل سے اجتناب کاحکم صادرفرمارہاہے ، اسے غنیمت جانو۔
(شعب الإیمان:أحمد بن الحسین بن علی بن موسی الخُسْرَوْجِردی الخراسانی، أبو بکر البیہقی (۳:۴۰۸)

رسول اللہ ﷺکی تعظیم کاحکم دیاگیاہے

وَابْن أبی حَاتِم عَن أبی صَخْر قَالَ کَانَ رَسُول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَسلم إِذا أدبر ناداہ من کَانَت لَہُ حَاجَۃ من الْمُؤمنِینَ فَقَالُوا:ارعنا سَمعک فاعظم اللہ رَسُولہ أَن یُقَال لَہُ ذَلِک وَأمرہمْ أَن یَقُولُوا انظرنا لیعززوا رَسُولہ ویوقروہ۔
ترجمہ :امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ تعالی نے حضرت سیدناابوصخررضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب تشریف لے جاتے تواہل ایمان میں سے جس کسی کو کوئی کام ہوتاتوآپ ﷺکو پکارکرکہتے ’’ارعنا سمک‘‘ تواللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکے لئے یہ بھی کہناپسندنہ فرمایااورحکم دیاکہ تم ’’انظرنا‘‘کہوتاکہ وہ رسول اللہ ْﷺکی تعظیم وتوقیرکریں ۔
(الدر المنثور:عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (ا:۲۵۳)
بالتوجہ کلام شریف سناجائے
فَرِّغُوا أَسْمَاعَکُمْ لِمَا یَقُولُ النَّبِیُّ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتَّی لَا تَحْتَاجُوا إِلَی الِاسْتِعَادَۃِ، وَثَانِیہَا:اسْمَعُوا سَمَاعَ قَبُولٍ وَطَاعَۃٍ وَلَا یَکُنْ سَمَاعُکُمْ سَمَاعَ الْیَہُودِ حَیْثُ قَالُوا:سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔
ترجمہ:امام ابوعبداللہ محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس آیت کامطلب یہ ہے کہ تم رسول اللہﷺ کی گفتگوکے لئے اپنے کانوں کو فارغ رکھوتاکہ میرے حبیب کریمﷺکو گفتگودہرانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
اورمحبوب کریمﷺ کاکلام بطور قبول واطاعت سنونہ کہ اس طرح جیسے یہودیوں نے سناکہنے لگے کہ {سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا}ہم نے سن لیاہے اورہم نے نافرمانی کی ہے۔
(التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۳:۶۳۵)
جوشخص رسول اللہ ﷺکاکلام توجہ کے ساتھ نہ سنے ؟
اسْمَعُوا مَا أُمِرْتُمْ بِہِ حَتَّی لَا تَرْجِعُوا إِلَی مَا نُہِیتُمْ عَنْہُ تَأْکِیدًا عَلَیْہِمْ، ثُمَّ إِنَّہُ تَعَالَی بَیَّنَ مَا لِلْکَافِرِینَ مِنَ الْعَذَابِ الْأَلِیمِ إِذَا لَمْ یَسْلُکُوا مَعَ الرَّسُولِ ہَذِہِ الطَّرِیقَۃَ مِنَ الْإِعْظَامِ وَالتَّبْجِیلِ وَالْإِصْغَاء ِ إِلَی مَا یَقُولُ وَالتَّفَکُّرِ فِیمَا یقول۔
ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن عمر الرازی المتوفی : ۶۰۶ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کامطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺجس چیز کاحکم دیںان کو اچھی طرح سنوتاکہ تم ممنوعات کاارتکاب نہ کرو، اس میں ان کے لئے تاکید ہے ۔
اس کے بعد فرمایاکہ اگریہ لوگ رسول اللہ ﷺکے ساتھ تعظیم وتوقیرکے ساتھ نہ چلیں اورانہوںنے آپ ﷺکی گفتگوکو توجہ سے نہ سنااوراس میں غوروفکرنہ کیاتوان کفارکے لئے دردناک عذاب ہے ۔
(التفسیر الکبیر: أبو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسن بن الحسین التیمی الرازی (۳:۶۳۵)
موہم تنقیص الفاظ کااستعمال حرام اوربولنے والے پر سزاجاری ہوگی
عَلَی تَجَنُّبِ الْأَلْفَاظِ الْمُحْتَمَلَۃِ الَّتِی فِیہَا التَّعْرِیضُ لِلتَّنْقِیصِ وَالْغَضِّ، وَیَخْرُجُ مِنْ ہَذَا فَہْمُ الْقَذْفِ بِالتَّعْرِیضِ، وَذَلِکَ یُوجِبُ الْحَدَّ عِنْدَنَا ۔
ترجمہ :امام ابوعبداللہ محمدبن احمدالقرطبی المتوفی ۶۷۱ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں ایسے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب لازم ہے جس میں رسول اللہ ﷺکی شان میں تنقیص اورعظمت میں کمی کااشارہ ہواوراس سے تعریضاً قذف کاسمجھنانکلتاہے ۔ ہمارے نزدیک یہ حد کاموجب ہے ۔
(تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر شمس الدین القرطبی (۲:۵۷)
راعناکامعنی
قالوا: راعنا، أی یا أحمق۔
ترجمہ :امام شہاب الدین محمدبن عبداللہ الحسینی الآلوسی المتوفی : ۱۲۷۰ھ) رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہودی جب رسول اللہ ﷺکی بارگاہ اقدس میں ’’راعنا‘‘کہتے تواس کامعنی ان کی زبان میں یہ ہوتا’’یااحمق ‘‘ نعوذ باللہ من ذلک ۔
(روح المعانی :شہاب الدین محمود بن عبد اللہ الحسینی الألوسی (۱:۳۴۸)
رسول اللہ ﷺکی ذات پاک کی عظمت وشان کے پیش نظرآپ کے متعلق ایساکلمہ بولناجو دومعنی رکھتاہوایک معنی توہین والااورایک معنی وہ ہوجس میں توہین کاشائبہ نہ ہوتوایساکلمہ بولناحرام اوررسول اللہ ﷺکی توہین اورگستاخی کے سبب وہ کلمہ کفرکہلائے گااوربولنے والادائرہ ایمان سے خارج ہوجائے گا۔اگرچہ وہ کہے کہ میں نے اس سے وہ معنی مراد نہیں لیاجوبے ادبی پر مشتمل ہے ۔اورجس طرح یہودیوں کو حضرت سیدناسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اگر تم نے دوبارہ لفظ راعناکہاتومیں تم کو قتل کردوں گا۔
اسی طرح بہت سے الفاظ جو ایک زمانہ میں بے ادبی شمار نہیں ہوتے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہی الفاظ عرف وزمانہ کے بدلنے سے بے ادبی اورگستاخی شمار ہوتے ہیں ۔ہمارے علماء کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہم نے اس طرح کی بہت سی اشیاء کوبیان کرنے سے منع فرمایاہے کہ اس زمانے میں یہ کام معززسمجھے جاتے تھے لھذااب ان کو بیان کرناجائز نہیں ہے ۔اس کی مثالیں ہم آگے چل کر نقل کریں گے ۔ ان شاء اللہ تعالی ۔
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رٰعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}سورۃ البقرۃ رقم الآیۃ ۱۰۴)
ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو :{رَاعِنَا}نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔
اس آیت مبارکہ سے یہ معلوم ہواکہ کوئی لفظ بظاہرکتناہی خوبصورت کیوںنہ ہواگراس کو سوء ادب کے لئے استعمال کیاجاسکتاہوتوایسالفظ رسول اللہ ﷺکے لئے بولناتوہین شمار ہوگا۔ لفظ راعنانہایت خوبصورت لفظ تھامگرمنافقین اوریہودیوں نے اسے بے ادبی کاذریعہ بنایاتواللہ تعالی نے اس سے منع فرمادیا۔

یہودیوں کی گستاخی پر حضرت سعدکاجواب

قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:کان المسلمون یقولون للنبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:رَاعِنَا:عَلَی جِہَۃِ الطَّلَبِ وَالرَّغْبَۃِمِنَ الْمُرَاعَاۃِ:أَیِ الْتَفِتْ إِلَیْنَا، وَکَانَ ہَذَا بِلِسَانِ الْیَہُودِ سَبًّا، أَیِ اسْمَعْ لَا سَمِعْتَ، فَاغْتَنَمُوہَا وَقَالُوا:کُنَّا نَسُبُّہُ سِرًّا فَالْآنَ نَسُبُّہُ جَہْرًا، فَکَانُوا یُخَاطِبُونَ بِہَا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیَضْحَکُونَ فِیمَا بَیْنَہُمْ، فَسَمِعَہَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَکَانَ یَعْرِفُ لُغَتَہُمْ، فَقَالَ لِلْیَہُودِ!عَلَیْکُمْ لَعْنَۃُ اللَّہِ :لَئِنْ سَمِعْتُہَا مِنْ رَجُلٍ مِنْکُمْ یَقُولُہَا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَہُ، فَقَالُوا:أَوَلَسْتُمْ تَقُولُونَہَا؟ فَنَزَلَتِ الْآیَۃُ، وَنُہُوا عَنْہَا لِئَلَّا تَقْتَدِی بِہَا الْیَہُودُ فِی اللَّفْظِ وَتَقْصِدُ الْمَعْنَی الْفَاسِدَ فِیہَِ۔
ترجمہ ـحضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ مسلمان نبی کریم ﷺکو راعناکہتے تھے یعنی ہماری رعایت فرمائیے اورہماری طرف نظرالتفات اورتوجہ فرمائیں جب کوئی بات سمجھ نہ آتی ۔یہودیوں کی لغت میں یہ لفظ بطورتوہین اوربطوربددعا استعمال ہوتاتھا، اوراس کامعنی تھا: سنوتمھاری بات نہ سنی جائے ، انہوںنے اس موقع کو غنیمت جانااورکہنے لگے کہ پہلے ہم رسول اللہ ﷺکوتنہائی میں بدعادیتے تھے اورتوہین کرتے تھے اوراب لوگوں میں برسرمجلس ان کو بددعادینے کاموقع ہاتھ آگیاہے تووہ نبی کریم ﷺکو مخاطب کرکے ’’راعنا‘‘کہتے تھے اورآپس میں ہنستے تھے ، حضرت سیدناسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی لغت کاعلم تھا، انہوں نے جب ان سے یہ لفظ سناتوانہوںنے فرمایا: تم پر اللہ تعالی کی لعنت ہو، اگرمیں نے آئندہ تم کو رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں یہ لفظ کہتے ہوئے سناتوتمھاری گردن اڑادوں گا، یہودیوں نے کہا: کیاتم لوگ یہ لفظ نہیں کہتے ؟ تواس موقع پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اورمسلمانوں سے کہاگیا( جب کوئی بات سمجھ نہ آئے تو) تم ’’راعنا‘‘ نہ کہوبلکہ ’’انظرنا‘‘کہو( ہم پر نظرکرم اورمہربانی فرمائیں )تاکہ یہویوں کو یہ موقع نہ ملے وہ صحیح لفظ کوغلط معنی میں استعمال کریں اورپہلے ہی رسول اللہ ﷺکی بات غورسے سن لیاکروتاکہ یہ نوبت نہ آئے ۔
(تفسیر القرطبی: أبو عبد اللہ محمد بن أحمد بن أبی بکر بن فرح الأنصاری الخزرجی شمس الدین القرطبی (۲:۵۷)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گستاخوں کے قتل کااعلان کردیا
عَن ابْن عَبَّاس فَقَالَ الْمُؤْمِنُونَ بَعْدَہَا{یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوا وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ أَلِیمٌ}مَنْ سَمِعْتُمُوہُ یَقُولُہَا فَاضْرِبُوا عُنُقَہُ، فَانْتَہَتِ الْیَہُودُ بَعْدَ ذَلِکَ۔
ترجمہ :حضرت سیدناامام ابونعیم رحمۃ اللہ تعالی علیہ نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے فرمایا: جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں کوئی ’’راعنا‘‘ نہ کہے بلکہ’’انظرنا‘‘کہے ، توصحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اعلان فرمادیاکہ آج کے بعد جو بھی رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں ’’راعنا‘‘ کالفظ بولے اسے وہیں پر قتل کردو، جب یہودیوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کااعلان سناتو یہودی اپنی غلیظ حرکت سے باز آگئے ۔
(دلائل النبوۃ لأبی نعیم الأصبہانی: أبو نعیم أحمد بن عبد اللہ بن أحمد (۱:۴۴)
(إمتاع الأسماع :أحمد بن علی بن عبد القادر، أبو العباس الحسینی العبیدی، تقی الدین المقریزی (۳:۱۰۹)

امام اہل سنت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں
کچھ یہودی جب دربار نبوت میں حاضر آتے اور حضوراقدس ﷺسے کچھ عرض کرنا چاہتے تویوں کہتے ، آپ سنائے نہ جائیں ، جس سے ظاہر تو دعا ہوتی یعنی حضورکوکوئی ناگوار بات نہ سنائے اور دل میں بددعا کا ارادہ کرتے کہ سنائی نہ دے اور جب حضوراقدس ﷺکچھ ارشاد فرماتے اور یہ بات سمجھ لینے کے لئے مہلت چاہتے تو راعنا کہتے جس کا ایک پہلو ئے ظاہر یہ کہ ہماری رعایت فرمائیں اور مراد خفی رکھتے،یعنی رعونت والا ، اور بعض زبان دبا کر راعینا کہتے یعنی ہمارا چر واہا۔ جب پہلودار با ت دین میں طعنہ ہوئی، تو صریح و صاف کتنا سخت طعنہ ہوگی بلکہ انصاف کیجئے تو ان باتوں کا صریح بھی ان کلمات کی شناعت کو نہ پہنچتا ۔بہرا ہونے کی دعا یا رعونت یا بکریاں چرانے کی طرف نسبت کو ان الفاظ سے کیا نسبت کہ شیطان سے علم میں کمتر یا پاگلوں چوپایوں سے علم میں ہمسراورخداکی نسبت وہ کہ جھوٹا ہے، جھوٹ بولتا ہے جو اسے جھوٹا بتائے مسلمان سنی صالح ہے ، والعیا ذ باﷲرب العالمین ۔
(فتاوی رضویہ لامام احمدرضاخان فاضل بریلوی (۳۰:۳۳۳)
اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکی توہین کرنادین میں طعن کرناہے
اگرتم نے راعنابولاتوتمھیں قتل کردوں گا

حضرت سیدناصدرالافاضل رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں
جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے۔ ”رَاعِنَا یارسول اللہ ” اس کے یہ معنی تھے کہ یارسول اللہﷺ! ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔ یہود کی لغت میں یہ کلمہ سوء ِادب کے معنی رکھتا تھا انہوں نے اس نیت سے کہنا شروع کیا ۔حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ یہود کی اصطلاح سے واقف تھے آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا: اے دشمنان خدا !تم پر اللہ کی لعنت، اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا اس کی گردن ماردوں گا یہود نے کہا :ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں اس پر آپ رنجیدہ ہو کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں ’’رَاعِنَا‘‘کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ ’’اُنْظُرْناَ‘‘کہنے کا حکم ہوا۔
مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں کلمات ادب عرض کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترک ادب کا شائبہ بھی ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔
(تفسیر خزائن العرفان از صدرالافاضل سیدنعیم الدین مرادآبادی :سورۃ البقرۃ رقم الآیۃ ۱۰۴)
حضرت سیدناسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے عمل مبارک سے واضح ہواکہ رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس کامسئلہ ہوتو پھرمسائل نہیں پوچھے جاتے بلکہ اسی وقت فیصلے کئے جاتے ہیں کیونکہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جب سناکہ وہ رسول اللہ ﷺکی توہین کرتے ہیں تو فوراً انہیں کہا:خبردار! آج کے بعد میں تمھاری زبان سے یہ لفظ نہ سنوں اگرمیں نے آج کے بعد تمھاری زبان سے یہ کلمہ سناتو تم کو قتل کردوں گا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوگیاکہ ایسالفظ بولناجس میں رسول اللہ ﷺکی توہین ہواوروہی لفظ اچھے معنی میں بھی استعمال ہوتاہوتواس کے قائل کو قتل کرنے کافتوی حضرت سیدناسعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کاہے ۔

رسول اللہ ﷺکے لئے ٹیچر،پروفیسراورلیڈرکالفظ بولناکیسا؟

رسول اللہ ﷺکے لئے لیڈر ،ٹیچراورپروفیسرکالفظ بولناحرام ہے اگرچہ ان کے معنی رہنمائی کرنے والا، تعلیم دینے والااورپڑھانے والاکے ہیں مگریہ الفاظ ایسے ہیں کہ ہر قسم کے لوگوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ عام طورپران کااطلاق سیاسی لوگوں پرہوتاہے اوراسی طرح ٹیچراورپروفیسر کااطلاق بھی دنیابھرکے کفار ومرتدین اوریہودی ، سکھ ، ہندواورتمام مشرکین کے لئے بھی یہی لفظ بولے جاتے ہیں ۔ اورخاص طور پر یہی الفاظ ہمارے مذہبی معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے ۔ اس کی وجہ بھی ظاہرہے ان الفاظ کااطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتاہے خواہ دیندارہوں یابے دین ، وہ مسلمان ہوں یاکافر، وہ مذہبی ہوں یا لبرل وسیکو لر۔ لھذااس قسم کے مشتبہ الفاظ رسول اللہ ﷺکے لئے ہرگزہرگز بولنے جائز نہیں ۔ ہمارے زمانے کے بعض مصنفین اورلبرل طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ رسول اللہ ﷺکے لئے ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جوقطعاً حرام ہیں ۔ اوراسی طرح بعض محافل میں بھی بعض لبرل علماء سے سناہے کہ حضرت سیدناابرہیم علیہ السلام نے جب کعبہ بنادیاتواللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کی : یااللہ ! یونیورسٹی میں نے بنادی ہے اب توپروفیسربھیج دے ۔ نعوذ باللہ من ذلک ۔
اسی آیت مبارکہ سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکے لئے ایسے الفاظ بولناہر گزہرگزمنع اورحرام ہیں جو مشتبہ معنی رکھتے ہوں اوروہ رسول اللہ ﷺکی عظت وشان کے خلاف ہوں ، اگرکوئی ایسی حرکت کرتاہے تو یادرکھے کہ کلمہ کفربولنے والے کے لئے اللہ تعالی نے دردناک عذاب تیارکررکھاہے ۔
حضرت استاذ العلماء مولاناعطاء محمدبندیالوی کی خوبصورت تقریر
سوال :جوآدمی انبیاء کرام علیہم السلام سے کسی ایک کی توہین کرتاہے اس کاکیاحکم ہے؟
جواب :اس کے متعلق عرض یہ ہے کہ قرآن کریم کی سورۃ بقرہ میں ہے کہ
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رٰعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}سورۃ البقرۃ رقم الآیۃ ۱۰۴)
ترجمہ کنزالایمان :اے ایمان والو :رَاعِنَانہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔
خلاصہ مطلب آیۃ کریمہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایاکہ اے مومنو!جب رسول اللہ ﷺکو کسی خاص موقع پر خطاب کرناچاہوتولفظ { رٰعِنَا }کے ساتھ خطاب نہ کروبلکہ ضروری ہے کہ لفظ {انْظُرْنَا }کے ساتھ خطاب کرواورجب رسول اللہ ﷺخطبہ یاتقریرفرمائیں توتوجہ اورکان لگاکرسنوتاکہ تم کو {انْظُرْنَا }کہنے کی بھی ضرورت نہ پڑے اورکافروں کے لئے سخت عذاب ہے۔
آیت مبارکہ کی تفصیل سے پہلے بندہ تین تمہیدی مقدمات ذکرکرتاہے تاکہ آیت مبارکہ کے سمجھنے میں آسانی ہو۔
مقدمہ اول
مذکورہ بالاآیت میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ایک لفظ سے نہی اورمنع فرمایااوروہ ہے { لَا تَقُوْلُوْا رٰعِنَا }یعنی { رٰعِنَا }نہ کہو۔ {لَا تَقُوْلُوْا }گرائمرکے لحاظ سے نہی کاصیغہ ہے اورنہی کے ذریعہ لفظ { رٰعِنَا }سے منع فرمایاہے اوراحناف کے نزدیک نہی میں اصل تحریم ہے یعنی جس شئی سے اللہ تعالی نہی اورمنع فرمادے وہ چیز نہی کے بعد حرام ہوجاتی ہے چونکہ آیت مذکورہ بالامیں لفظ { رٰعِنَا }سے منع فرمایاگیاہے لھذا بعد از نہی اس لفظ { رٰعِنَا }کاتلفظ مسلمانوں کے لئے حرام ہوگیا۔ نیز اسی آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو ایک لفظ کاامرکیاہے اورحکم فرمایاہے وہ ہے{قُوْلُوا انْظُرْنَا}یعنی {انْظُرْنَا}کالفظ کہو۔ {قُوْلُوا}کالفظ گرائمرکے لحاظ سے امرکاصیغہ ہے اوراس صیغہ امرکے ذریعے لفظ {انْظُرْنَا}کاحکم دیایہ اوراحناف کثرھم اللہ تعالی کے نزدیک امرمیں اصل ایجاب اوروجوب ہے یعنی جس شئی کااللہ تعالی امرکرے اورحکم فرمائے تووہ شئی بعد ازحکم مسلمانوں پر واجب ہوجاتی ہے ۔اوراس شئی کاترک حرام ہوجاتاہے چونکہ آیت مبارکہ میں لفظ {انْظُرْنَا}کاامرکیاگیاہے لھذابعد امر{انْظُرْنَا}کاتلفظ مسلمانوں پر واجب ہوگیا۔
یہاں مقدمہ اول ختم ہوا۔
مقدمہ دوم
انسان باعتبار ذہن اورذکاوت کے تین قسم ہیں :
قسم اول
ذکی کہ جب کوئی مسئلہ سناتوفوراسمجھ گیااگرچہ وہ مسئلہ پیچیدہ ہی کیوں نہ ہو۔
قسم دوم
متوسط : یعنی اس میں درمیانہ درجے کی ذکاوت ہواگرپہلی فرصت میں تومشکل مسئلہ سمجھ نہیں آتالیکن ذراغورکیاجائے تو سمجھ آجاتاہے ۔
قسم سوم
غبی : یعنی اس میں ذکاوت قسم دوم ،متوسط سے کم ہوتی ہے کہ مشکل مسئلہ تب سمجھتاہے کہ مقرریاتومسئلہ کوآہستہ آہستہ بیان کرے یاکہ مسئلہ کی تقریرمتعددبارکرے ۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ رسول اللہ ﷺجوتقریرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں فرماتے عموماً اس کو تین بار دہراتے تھے ۔ محدثین نے اس کی یہی وجہ بیان کی ہے کہ انسان عموماً ذکاوت کے حساب سے تین قسم ہوتے ہیں ۔اس لئے رسول اللہ ﷺتین دفعہ تقریرسے ہر طبقہ کی رعایت فرماتے تھے ۔
مقدم دوم ختم ہوا۔
مقدمہ سوم
آیت مذکورہ بالامیں جو لفظ { رٰعِنَا }ہے عربی گریمرکے لحاظ سے اس میں دواحتمال ہیں ۔
احتمال اول
’’راع‘‘ امر کاصیغہ ہے اورلفظ ’’نا‘‘ ضمیرمتکلم ہے اوریہ رعایت اورمراعاۃ سے مشتق ہے اورباب مفاعلہ سے ہے ،جس کایہ معنی ہے کہ یارسول اللہ ﷺ! اپنے خطاب اورتقریرمیں ہماری رعایت فرمائیں یعنی آپ ﷺ آہستہ آہستہ تقریرفرمائیں یاکہ دوبارہ تقریرفرمائیں تاکہ ہم مسئلہ اچھی طرح سمجھ جائیں جوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشکل مسائل کوپوراپورانہیں سمجھ سکتے تھے وہ { رٰعِنَا }کے لفظ کااستعمال کرتے تھے کہ آپ ﷺہماری رعایت فرمائیں اورتقریرآہستہ آہستہ کریں تاکہ ہم مشکل مسئلہ اچھی طرح سمجھ لیں ۔
اس احتمال اول میں کوئی گستاخی نہیں ہے ۔
احتمال دوم
یہ کہ لفظ { رٰعِنَا }اسم فاعل کاصیغہ ہے اوررعونۃ سے مشتق ہے جس کامعنی جہالت ہے اورراعن اسم فاعل کاصیغہ ہے اوراس کامعنی جاہل ہے اورآخر میں الف اطلاق کاہے جو عربی محاورہ میں آواز کو طویل کرنے کے لئے آتاہے اورحرف ندایہاں محذوف ہے ،جس طرح عربی محاورہ میں (یازیدا)مستعمل ہوتاہے ۔
اس احتمال دوم میں لفظ راعناکامعنی اے جاہل ہوگااوراس میں شدیدتوہین اورگستاخی ہے ۔
رسول اللہ ﷺکے زمانہ مبارک میں جو یہودی مدینہ منورہ میں رہتے تھے وہ لفظ راعنابول کریہ دوسرامعنی مراد لیتے تھے اوران کامقصدرسول اللہ ﷺکی توہین اورگستاخی تھااوریہ خبیث معنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل میں نہیں ہوتاتھابلکہ اس معنی خبیث کاصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تصورہی نہیں کیاجاسکتاتھا۔
ان تین مقدمات کے بعد بندہ آیت مذکورہ بالاکامطلب بیان کرتاہے ۔
رسول اللہ ﷺجب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مسائل کی تبلیغ فرماتے توجوصحابہ کرام رضی اللہ عنہم تقریرکو پورانہ سمجھ پاتے تو وہ { رٰعِنَا }کالفظ استعمال کرتے تھے ۔ جس کامطلب یہ تھاکہ یارسول اللہ ﷺ! تقریرمیں ہماری رعایت فرمائیں اورتقریرآہستہ آہستہ فرمائیں اوردوبارہ تقریرفرمائیں تاکہ ہم سمجھ جائیں ۔ مدینہ منورہ کے یہودی جو کہ رسول اللہ ﷺکے دشمن تھے اورآپ ﷺکی توہین اورگستاخی کاکوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے جب انہوںنے سناکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لفظ { رٰعِنَا }سے رسول اللہ ﷺکوخطاب کرتے ہیں اوران کی مراد رعایت اورمراعات ہے تویہودیوں نے رسول اللہ ﷺکو {رٰعِنَا }کہناشروع کردیااوروہ دل میں دوسرامعنی مراد لیتے تھے یعنی { رٰعِنَا }کورعونت سے مشتق خیال کرتے تھے اوران کامقصد گستاخی تھاتوچونکہ اللہ تعالی علام الغیوب اورعلیم بذات الصدور ہے اوریہودکے ارادہ بدکوجانتاتھااوراپنے حبیب ﷺ کی توہین اورگستاخی کو بہت ہی ناپسندفرماتاتھااس لئے اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی { رٰعِنَا }کے لفظ کے استعمال سے بھی منع کردیااگرچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لفظ { رٰعِنَا }سے گستاخانہ معنی مراد نہیں لیتے تھے لیکن یہودیوں کو اس لفظ { رٰعِنَا }سے گستاخی کاموقع مل گیااوریہ لفظ گستاخی کاسبب بن گیاتو اللہ تعالی نے مسلمانوں کو بھی یہ لفظ استعمال کرنے سے منع فرمادیااورفرمایاکہ تم رسول اللہ ﷺکو {انْظُرْنَا}سے خطاب کروجس کامعنی یہ ہے کہ یارسول اللہ ﷺ! ہماری طرف توجہ فرمائیں اورمسائل کی تقریراس طرح فرمائیں کہ ہم بھی سمجھ جائیں چونکہ لفظ {انْظُرْنَا}کے ایسے دومعنی نہیں کہ ایک گستاخانہ ہوتویہ لفظ گستاخی کاسبب نہیں بنے گا۔ اس آیت میں {وَاسْمَعُوْا}کالفظ ہے یہ اس لئے فرمایاکہ تم کو جو لفظ {انْظُرْنَا}کاحکم ہواہے اوراس کی اجازت مل گئی ہے تو لفظ کو بھی بے موقع اوربلاضرورت استعمال نہ کروبلکہ جب رسول اللہ ﷺتقریرفرمائیں توبڑی توجہ کے ساتھ سنوتاکہ تم کو {انْظُرْنَا}بھی کہنے کی ضرورت نہ پڑے ۔

غورفرمائیں کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب ﷺکی عزت وحرمت کاکس قدرلحاظ فرمایاہے ۔
اس کے بعد فرمایا: {وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}اورکافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔ یہاں پر بعض تفاسیر میں ایک اعتراض اوراس کاجواب ہے ۔
اعتراض یہ ہے کہ علم بلاغت کاقاعدہ ہے کہ جب ایک چیز کاذکر آجائے اورپھربعدمیں اسی چیز کاذکرکرناہوتواس کو ضمیرکے ساتھ ذکرکرتے ہیں ،تواس قاعدہ کے مطابق {وَ لِلْکٰفِرِیْن}کی جگہ{ ولھم عذاب الیم }کیوں نہیں لایاگیا؟
اس کاجواب دوطرح پر دیاگیاہے ۔
وجہ اول
اگرولھم کہاجاتاتویہ معلوم نہ ہوتاکہ اس نہی کے بعد اگرپھرکوئی {رٰعِنَا }کہہ دے تواس کاکیاحکم ہے توجب {وَ لِلْکٰفِرِیْن}کہاتوپتہ چلاکہ اس نہی کے بعد اگرکسی نے رسول اللہ ﷺکو {رٰعِنَا }کہہ دیاتواس نے رسول اللہ ﷺکی اہانت کی تووہ اہانت کی وجہ سے کافرہوجائے گااگرچہ یہ کہنے والامسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
وجہ دوم
{وَ لِلْکٰفِرِیْن}کی جگہ { ولھم عذاب الیم }کہاجاتاتویہ پتہ نہ چلتاکہ یہ عذاب شدیدان کو کیوں ہوگا۔ توجب {وَ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ}کہاگیاتوپتہ چلاکہ اگرایک لفظ کے دومعنی ہوں ایک معنی درست ہواوراس میں توہین کاشائبہ نہ ہواوردوسرے معنی میں توہین ہوتوایسالفظ رسول اللہ ﷺکے متعلق استعمال کرناکفرہے اگراستعمال کرنے والے کی مراد معنی اول ہواوراس کایہ عذرقبول نہ ہوگاکہ میری مراد اہانت والامعنی نہیں ہے بلکہ میری مراد وہ معنی ہے جس میں اہانت کااحتمال نہیں ہے ۔ آیت مذکورہ بالااگرچہ رسول اللہ ﷺکے متعلق ہے لیکن سب انبیاء کرام علیہم السلام کاحکم ایک ہے لھذاثابت ہواکہ ہر نبی ﷺ کی توہین کفر ہے ۔
(مقالات بندیالوی از مولاناعطاء محمدچشتی بندیالوی : ۵۱۰تا۵۰۶)

رسول اللہ ﷺکے بکریاں چرانے کامسئلہ

یہاں ہم دومسائل بیان کریں گے ایک تویہ کہ کیارسول اللہ ﷺلوگوں سے اجرت لیکر ان کی بکریاںچراتے تھے یارسول اللہ ﷺنے صرف اپنی بکریاں ہی چرائی ہیں ؟ دوسرامسئلہ یہ ہے کہ اب یہ بات بیان کرناکیساہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنی زندگی مبارک میں بکریاں چرائی ہیں ؟
بکریاں چرانے کی حکمت ومصلحت

حضرت امام بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں
فَإِن قلت مَتی کَانَ ہَذَا الرَّعْی فِی عمرہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ (قلت)علم بالاستقراء من کَلَام ابْن إِسْحَاق والواقدی أَنہ کَانَ وَعَمہ نَحْو الْعشْرین سنۃ (فَإِن قلت)مَا الْحِکْمَۃ فِیہِ (قلت)التقدمۃ والتوطئۃ فِی تَعْرِیفہ سیاسۃ الْعباد وَحُصُول التمرن علی مَا سیکلف من الْقیام بِأَمْر أمتہ (فَإِن قلت)مَا وَجہ تَخْصِیص الْغنم فِیہِ (قلت)لِأَنَّہَا أَضْعَف من غَیرہَا وأسرع انقیادا وَہِی من دَوَاب الْجنَّۃ (فَإِن قلت)مَا الْحِکْمَۃ فِی ذکرہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ ذَلِک(قلت)إِظْہَار تواضعہ لرَبہ مَعَ کَونہ أکْرم الْخلق عَلَیْہِ وتنبیہ أمتہ علی مُلَازمَۃ التَّوَاضُع وَاجْتنَاب الْکبر وَلَو بلغ أقْصَی الْمنَازل الدنیاویۃ وَفِیہ أَیْضا اتِّبَاع لأخوتہ من الرُّسُل الَّذین رعوا الْغنم وَفِی حَدِیث للنسائی قَالَ رَسُول اللہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ بعث مُوسَی وَہُوَ راعی غنم وَبعث دَاوُد وَہُوَ راعی غنم عَلَیْہِمَا وَعَلِیہِ صلوَات اللہ وَسَلَامہ دَائِما أبدا۔
ترجمہ : اگریہ سوال کیاجائے کہ نبی کریم ﷺنے کتنی عمر مبارک میں بکریاں چرائی تھیں ؟تواس کاجواب یہ ہے کہ امام ابن اسحاق اورامام واقدی رحمۃاللہ علیہماکی تصنیفات سے معلوم ہوتاہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺکی عمرمبارک بیس سال تھی ۔
اگریہ سوال کیاجائے کہ اس کی حکمت کیاتھی ؟ تواس کاجواب یہ ہے کہ بکریوں کی حفاظت اورنگہبانی کراکرامت کی حفاظت اورنگہبانی کی تربیت دینااورنبوت کی تمہیدمقصودتھی ۔ اوربکریوں کی تخصیص اس لئے تھی کہ وہ دوسرے جانوروں کی بانسبت زیادہ اطاعت شعارہوتی ہیں ۔اوراگریہ سوال کیاجائے کہ رسول اللہ ﷺنے جواپنی بکریاں چرانے کاذکرفرمایااس کی کیاحکمت ہے ؟ اس کاجواب یہ ہے کہ اس سے رسول اللہ ﷺکااپنے رب تعالی کے سامنے تواضع کااظہارمقصود تھاحالانکہ آپ ﷺاپنے رب تعالی کے نزدیک اس کی ساری مخلوق سے زیادہ مکرم تھے اوراپنی امت کو اس پر متنبہ کرناتھاکہ وہ ہمیشہ اپنے رب تعالی کے سامنے تواضع اختیارکریں اورتکبرکرنے سے اجتناب کریں خواہ ان کو دنیاکاسب سے بڑامرتبہ حاصل ہواورنیز آپ ﷺنے بکریاں چراکرانبیاء کرام علیہم السلام کی سنت کی پیروی کی ۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: أبو محمد محمود الحنفی بدر الدین العینی (۱۲:۷۹)
امام بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ روایت فرماتے ہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ المَکِّیُّ،حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی، عَنْ جَدِّہِ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَعَثَ اللَّہُ نَبِیًّا إِلَّا رَعَی الغَنَمَ، فَقَالَ أَصْحَابُہُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ:نَعَمْ، کُنْتُ أَرْعَاہَا عَلَی قَرَارِیطَ لِأَہْلِ مَکَّۃَ۔
ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی نے جس نبی علیہ السلام کو بھی بھیجاہے اس نے بکریاں چرائی ہیں ۔رسول اللہ ﷺکی بارگاہ اقدس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ! کیاآپ ﷺنے بھی بکریاں چرائی ہیں ؟ تورسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں نے مقام قراریط پر اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرائی ہیں ۔
(صحیح البخاری:محمد بن إسماعیل أبو عبداللہ البخاری الجعفی(۳:۸۸)

قراریط کامعنی بیان کرنے میں سوید بن سعید کی غلطی

حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ قَالَ:حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الْقُرَشِیُّ، عَنْ جَدِّہِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی أُحَیْحَۃَ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا بَعَثَ اللَّہُ نَبِیًّا إِلَّا رَاعِیَ غَنَمٍ ، قَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ: وَأَنْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ:وَأَنَا کُنْتُ أَرْعَاہَا لِأَہْلِ مَکَّۃَ بِالْقَرَارِیطِ قَالَ سُوَیْدٌ: یَعْنِی کُلَّ شَاۃٍ بِقِیرَاطٍ۔
ترجمہ :حضرت سیدناابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اللہ تعالی نے جس نبی علیہ السلام کو بھی بھیجاہے اس نے بکریاں چرائی ہیں ۔رسول اللہ ﷺکی بارگاہ اقدس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی : یارسول اللہ ﷺ! کیاآپ ﷺنے بھی بکریاں چرائی ہیں ؟ تورسول اللہ ﷺنے فرمایا: میں نے مقام قراریط پر اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرائی ہیں ۔
حضرت سوید بن سعید رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ’’قراریط ‘‘ کاترجمہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ ’’قراریط ‘‘ قیراط کی جمع ہے اوراس کامعنی (اجرت) ہے ۔اوررسول اللہ ﷺنے جوبکریاں اجرت پر چرائی تھیں ان میں ہر ایک بکری کی اجرت ایک قیراط تھی ۔
(سنن ابن ماجہ: ابن ماجۃ أبو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی، وماجۃ اسم أبیہ یزید (۲:۷۲۷)
حضرت سوید بن سعید کے بیان کردہ معنی کارد
قال محمد بن ناصر أخطأ سوید فی تفسیرہ القیراط بالذہب والفضۃ إذ لم یرع النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لأحد بأجرۃ قط وإنما کان یرعی غنم أہلہ۔
ترجمہ :الامام محمدبن ناصر رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ امام سوید بن سعید نے ’’قیراط ‘‘ کی تفسیر سونے اورچاندی سے کرکے خطاکی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺنے اپنی ساری عمر مبارک میں کبھی بھی کسی کی بکریاں اجرت پرنہیں چرائیں ۔ ہاں رسول اللہ ﷺنے صرف اپنی بکریاں چرائی ہیں ۔
(شرح الشفا: علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۵۶)
ملاعلی قاری حنفی کے نزدیک امام حربی کے موقف کی تائید
والصحیح ما فسرہ بہ إبراہیم بن إسحاق الحربی الإمام فی الحدیث واللغۃ وغیرہما أن قراریط اسم مکان فی نواحی مکۃ ۔
ترجمہ :حضرت سیدناملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ جو معنی امام ابراہیم بن اسحق الحربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بیان کیاہے وہ درست ہے ، کہ قراریط مکہ مکرمہ کے اطراف میں ایک جگہ کانام ہے۔اورانہیں کی بات زیادہ درست ہوسکتی ہے کیونکہ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حدیث شریف ، لغت اوردوسرے علوم کے ماہر ہیں ۔
(شرح الشفا: علی بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۵۷)

محدث ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی تائید
قَالَ إِبْرَاہِیم الْحَرْبِیّ: قراریط مَوضِع، وَلم یرد بذلک القراریط من الْفضۃ.
ترجمہ :امام ابراہیم الحربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ’’ قراریط‘‘ جگہ کانام ہے اس سے مراد چاندی کے سکے نہیں ہیں ۔
(کشف المشکل من حدیث الصحیحین:جمال الدین أبو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد الجوزی (۳:۵۴۶)
یادرہے امام ابراہیم بن اسحاق الحربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ حدیث ،لغت اوردوسرے علوم کے ماہر تھے آپ قراریط کامعنی بیان کرتے ہیں کہ ’’قراریط ‘‘سے مراد نقدی نہیں ہے (یعنی رسول اللہ ﷺنے اجرت پر کسی کی بکریاں کبھی بھی نہیں چرائیں )بلکہ اس سے مراد ایک مقام ہے جہاں پر رسول اللہ ﷺنے اپنے اہل خانہ کی بکریاں چرائی تھیں ۔
حضرت ملاعلی قاری حنفی کااجرت والے معنی کو رد کرنا
والمحققون أنہ علیہ الصلاۃ والسلام لم یرع لأحد بالأجرۃ وإنما رعی غنم نفسہ وہذا لم یکن عیبا فی قومہ ۔
ترجمہ :محققین علماء نے واضح طورپریہ کہاہے کہ رسول اللہ ﷺنے اجرت پرکسی کی بکریاں نہیں چرائیں ، ہاں آپ ﷺ نے اپنی بکریاں چرائیں اوریہ چیز عیب نہیں ۔
(شرح الشفا: علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۵۷)
تفسیر مذکور پردوسوالات اوران کے جوابات
وَقَالَ بَعضہم لَکِن رجح الأول لِأَن أہل مَکَّۃ لَا یعْرفُونَ مَکَانا یُقَال لَہُ قراریط (قلت)وَکَذَلِکَ لَا یعْرفُونَ القیراط الَّذِی ہُوَ من النَّقْد وَلذَلِک جَاء َ فِی الصَّحِیح ستفتحون أَرضًا یذکر فِیہَا القراط وَلَکِن لَا یلْزم من عدم معرفتہم القراریط الَّذِی ہُوَ اسْم مَوضِع والقراریط الَّتِی من النَّقْد لَا یکون للنَّبِی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ بذلک علم فالنبی صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ لما أخبر بِأَنَّہُ رعی الْغنم علی قراریط علمُوا فِی ذَلِک الْوَقْت أَنَّہَا اسْم مَوضِع وَلم یَکُونُوا علمُوا بِہِ قبل ذَلِک لکَون ہَذَا الِاسْم قد ہجر اسْتِعْمَالہ من قدیم الزَّمَان فأظہرہ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم َ فِی ذَلِک الْوَقْت۔
ترجمہ :امام بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے پہلے معنی ( یعنی سوید بن سعید رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بیان کردہ معنی کو ترجیح دی ہے ) وہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ مکرمہ تو ’’قراریط ‘‘ نامی کسی جگہ کو نہیں جانتے تھے ۔
میں نے (یعنی امام بدرالدین عینی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ) کہا: اگراہل مکہ مکرمہ ’’قراریط‘‘ نامی جگہ کو نہیں پہچانتے تھے تو اہل مکہ مکرمہ قیراط نامی سکہ اورنقدی کو بھی نہیں جانتے تھے کیونکہ رسول ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم ایک علاقہ فتح کروگے جس میں ’’قیراط ‘‘ نامی سکہ جاری ہوگا۔
دوسرے سوال کاجواب یہ ہے کہ اہل مکہ ’’قراریط ‘‘ نامی جگہ سے واقف نہ تھے اس سے یہ کہاں ثابت ہوتاہے کہ رسول اللہ ﷺبھی اس جگہ سے واقف نہ تھے ۔ہوسکتاہے کہ مقام اجیاد کے قریب جگہ کانام قراریط ہوبعد میں وہ متروک ہوگیاہو۔ پھررسول اللہ ﷺنے اس موقع پر ظاہر فرمادیاہو۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: أبو محمد محمود بن أحمد بن موسی بن أحمد بن حسین الغیتابی الحنفی بدر الدین العینی(۱۲:۸۰)
اس سے معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکے مبارک زمانے میں مکہ مکرمہ میں ’’قیراط ‘‘ نامی کوئی سکہ رائج ہی نہ تھاتورسول اللہ ﷺپھرکیسے ایک بکری ایک قیراط نقدی کے عوض چرایاکرتے تھے ۔اس ساری گفتگوسے واضح ہوگیاکہ رسول اللہ ﷺنے صرف اورصرف اپنی بکریاں ہی چرائی ہیں اورکسی اورشخص کی بکریاں اجرت پر ہرگزہرگز نہیں چرائیں ۔
امام ابراہیم الحربی کے معنی کی تائیدرسول اللہ ﷺکی تین احادیث مبارکہ سے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں :
خود رسول اللہ ﷺنے تصریح فرمادی
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ شُعْبَۃَ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ حَزْنٍ، قَالَ: افْتَخَرَ أَہْلُ الْإِبِلِ وَالشَّاۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بُعِثَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلَامُ وَہُوَ رَاعِی غَنَمٍ، وَبُعِثَ دَاوُدُ عَلَیْہِ السَّلَامُ وَہُوَ رَاعِی غَنَمٍ، وَبُعِثْتُ أَنَا أَرْعَی غَنَمًا لِأَہْلِی بِأَجْیَادَ۔
ترجمہ :حضرت سیدناابن حزن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اونٹوں والے اوربکریوں والے اپنے اپنے جانوروں پر فخرکیاکرتے تھے تورسول اللہ ﷺنے فرمایا: حضرت موسی علیہ السلام بھی بکریاں چرایاکرتے تھے اورحضرت دائود علیہ السلام بھی بکریاں چرایا کرتے تھے اورمیں بھی مقام اجیاد پر اپنی بکریاں چرایاکرتاتھا۔
(السنن الکبری: أبو عبد الرحمن أحمد بن شعیب بن علی الخراسانی، النسائی (۱۰:۱۷۱)
اس سے معلوم ہواکہ خود رسول اللہ ﷺنے اس بات کی وضاحت فرمادی کہ میں نے اجرت پر لوگوں کی بکریاں نہیں چرائیں بلکہ میں نے تواپنی بکریاں چرائیں ہیں ۔
یہی روایت امام احمدبن حنبل نے اپنی مسندشریف میں ،امام فاکہی نے اخبارمکہ میں،امام بخاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنی الادب المفرد میں نقل کی ہے اوریہی روایت مسندحمیدی میں بھی موجود ہے ۔

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی روایت سے استشہاد
وَحَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَزْدِیُّ، عَنِ الْہَیْثَمِ بْنِ عَدِیٍّ، عَنْ أَبِی الْیَقْظَانِ بْنِ أَبِی عُبَیْدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، عَنْ لُؤْلُؤَۃَ مَوْلَاۃِ عَمَّارٍ قَالَتْ:حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:کُنْتُ تِرْبًا لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَکُنْتُ أَرْعَی غَنْمَ أَہْلِی وَیَرْعَی غَنْمَ أَہْلِہِ فَوَعَدَنِی بِمَوْضِعٍ نَرْعَی فِیہِ غَنَمَنَا قَالَ: فَأَتَیْتُہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَبَقَنِی إِلَیْہَا وَإِذَا ہُوَ یُخَلِّی غَنَمَہُ عَنِ الرَّعْیِ فَقُلْتُ:یَا مُحَمَّدُ، مَا لَکَ تُخَلِّی غَنَمَکَ عَنِ الرَّعْیِ؟ فَقَالَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔وَاعَدْتُکَ وَلَمْ أَکُنْ لِأَدَعَہَا تَرْعَی حَتَّی تَأْتِیَ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ:التَّخْلِیَۃُ: الْمَنْعُ۔
ترجمہ :حضرت سیدناعمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے اعلان نبوت سے پہلے بھی میں رسول اللہ ﷺکادوست تھا،میں بھی اپنے گھروالوں کی بکریاں چرایاکرتاتھااوررسول اللہ ﷺبھی اپنے گھروالوں کی بکریاں چرایاکرتے تھے ، ایک دن رسول اللہ ﷺنے مجھ سے وعدہ فرمایاکہ کل ہم فلاں جگہ پربکریاں چرائیں گے ،جب دوسرادن آیاتو میں بکریاں لے کرنکلاتومیں نے دیکھاکہ رسول اللہ ﷺاپنی بکریاں لے کرروانہ ہوچکے ہیں ، جب میں مقررہ جگہ پر پہنچاتومیں نے دیکھاکہ رسول اللہ ﷺنے اپنی بکریاں چرنے سے روک رکھی ہیں ۔میںنے عرض کیا:حضور! آپ (ﷺ) نے بکریاں چرنے کے لئے چھوڑی کیوں نہیں؟ تورسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہم نے وعدہ کیاتھاکہ بکریاں اکٹھے چرائیں گے تو میں نے اس لئے تمھاراانتظارکیاکہ جب آپ آجائوگے تواکٹھے چرائیں گے ۔
محدث ابوسعید رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ (التخلیہ )کامعنی منع کرناہے ۔
(أخبار مکۃ فی قدیم الدہر وحدیثہ: أبو عبد اللہ محمد بن إسحاق بن العباس المکی الفاکہی (۳:۳۸۶)

حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکی روایت
حَدَّثَنَاہُ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإسْفَرَایِینِیُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاء ِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِیسَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا، أَنَّہُ قَالَ لِرَجُلٍ جَالِسٍ عِنْدَہُ وَہُوَ یُحَدِّثُ أَصْحَابَہُ: ادْنُ مِنِّی فَقَالَ لَہُ الرَّجُلُ: أَبْقَاکَ اللَّہُ، وَاللَّہِ مَا أُحْسِنُ أَنْ أَسْأَلَکَ کَمَا سَأَلَ ہَؤُلَاء ِ، فَقَالَ: ادْنُ مِنِّی فَأُحَدِّثُکَ عَنِ الْأَنْبِیَاء ِ الْمَذْکُورِینَ فِی کِتَابِ اللَّہِ أُحَدِّثُکَ عَنْ آدَمَ إِنَّہُ کَانَ عَبْدًا حَرَّاثًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ نُوحٍ إِنَّہُ کَانَ عَبْدًا نَجَّارًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ إِدْرِیسَ إِنَّہُ کَانَ عَبْدًا خَیَّاطًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ دَاوُدَ أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا زَرَّادًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ مُوسَی أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا رَاعِیًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ إِبْرَاہِیمَ أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا زَرَّاعًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ صَالِحٍ أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا تَاجِرًا، وَأُحَدِّثُکَ عَنْ سُلَیْمَانَ أَنَّہُ کَانَ عَبْدًا آتَاہُ اللَّہُ الْمُلْکَ وَکَانَ یَصُومُ فِی أَوَّلِ الشَّہْرِ سِتَّۃَ أَیَّامٍ وَفِی وَسَطِہِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَفِی آخِرِہِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ وَکَانَتْ لَہُ تِسْعُ مِائَۃِ سَرِیَّۃٍ، وَثَلَاثُ مِائَۃِ فِہْرِیَّۃٍ وَأُحَدِّثُکَ عَنِ ابْنِ الْعَذْرَاء ِ الْبَتُولِ عِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ أَنَّہُ کَانَ لَا یَخْبَأُ شَیْئًا لِغَدٍ وَیَقُولُ: الَّذِی غَدَّانِی سَوْفَ یُعَشِّینِی وَالَّذِی عَشَّانِی سَوْفَ یُغَدِّینِی، یَعْبُدُ اللَّہَ لَیْلَۃً کُلَّہَا یُصَلِّی حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَہُوَ بِالنَّہَارِ سَائِحٌ، وَیَصُومُ الدَّہْرَ کُلَّہُ، وَیَقُومُ اللَّیْلَ کُلَّہُ، وَأُحَدِّثُکَ عَنِ النَّبِیِّ الْمُصْطَفَی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ کَانَ یَرْعَی غَنْمَ أَہْلِ بَیْتِہِ بِأَجْیَادَ، وَکَانَ یَصُومُ فَنَقُولُ:لَا یُفْطِرُ، وَیُفْطِرُ فَنَقُولُ: لَا یَصُومُ، وَکُلُّہَا مَا رَأَیْنَاہُ صَائِمًا وَیَصُومُ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ، وَکَانَ أَلْیَنَ النَّاسِ جَنَاحًا وَأَطْیَبَہُمْ خَبَرًا، وَأَطْوَلَہُمْ عِلْمًا "، وَأُخْبِرُکَ عَنْ حَوَّاء َ أَنَّہَا کَانَتْ تَغْزِلُ الشَّعْرَ فَتُحَوِّلُہُ بِیَدِہَا فَتَکْسُو نَفْسَہَا وَوَلَدَہَا، وَأَنَّ مَرْیَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ کَانَتْ تَصْنَعُ ذَلِکَ۔
ترجمہ :حضرت سیدناوہب بن منبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکے پاس ایک شخص حاضرتھا، وہ اپنے ساتھیوں سے محوگفتگوتھا، آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایاکہ میرے قریب آجائیں ۔ اس شخص نے عرض کی: اللہ تعالی کی قسم ! جس طرح دوسرے لوگ سوالات کررہے ہیں اسی طرح میراآپ رضی اللہ عنہ سے سوال کرناکتناہی اچھاہے ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ میرے قریب آجائیں ، میں تمھیں ان انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں بتاتاہوں جن کاتذکرہ قرآن کریم میں موجود ہے ۔
٭حضرت سیدناآدم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔
٭حضرت سیدنانوح علیہ السلام بڑھئیوں کاکام کرتے تھے ۔
٭حضرت سیدناادریس علیہ السلام درزیوں کاکام کیاکرتے تھے ۔
٭حضرت سیدنادائود علیہ السلام زرہیں بنانے کاکام کیاکرتے تھے۔
٭حضرت سیدناموسی علیہ السلام بکریاں چرایاکرتے تھے ۔
٭حضرت سیدناابراہیم علیہ السلام کھیتی باڑی کرتے تھے ۔
٭حضرت سیدناصالح علیہ السلام تجارت کرتے تھے ۔
٭حضرت سیدناسلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالی نے شاندار حکومت عطافرمائی تھی ۔
آپ علیہ السلام ہر مہینے کے پہلے چھے دن اور درمیان میں تین دن اورآخر میں تین دن روزے رکھاکرتے تھے ۔ آپ علیہ السلام کے سات سو فوجی دستوں کی تعداد ایک ہزار ہے ۔ اورمیں تم کو یہ بتاتاہوں کہ حضرت سیدتنامریم علیہاالسلام کے بیٹے حضرت سیدناعیسی بن مریم علیہ السلام اگلے دن کے لئے کبھی بھی کچھ بچاکرنہیں رکھتے تھے اورفرمایاکرتے تھے کہ جس ذات نے مجھے ناشتہ عطافرمایاہے وہی ذات مجھے شام کاکھانابھی دے گی ، اورجس ذات نے مجھے شام کاکھانادیاہے وہی ذات مجھے ناشتہ بھی دے گی ، آپ علیہ السلام ساری ساری رات نماز میں گزار دیتے تھے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتاتھا، آپ علیہ السلام دن میں سیاحت کیاکرتے تھے ، آپ کاسارادن روزے سے گزرتا، اورتمام رات قیام میں گزرتی تھی۔ میں تمھیں رسول اللہ ﷺکے بارے میں بتاتاہوں آپ ﷺاپنے گھروالوں کی بکریاں چرایاکرتے تھے اورآپ ﷺروزے رکھتے رہتے تھے حتی کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اب آپ ﷺکبھی بھی روزہ ناغہ نہیں کریں گے اورجب آپ ﷺناغہ کرتے تھے توہم یہ سمجھتے کہ آپ ﷺاب روزہ نہیں رکھیں گے ، بہرحال ہم نے آپ ْﷺکو اکثرروزے سے دیکھا، آپ ﷺہر مہینے میں تین روزے رکھاکرتے تھے ، آپ ﷺسب سے زیادہ نرم مزاج اوراچھی خبردینے والے اورسب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے ۔ میں تمھیں حضرت سیدتناحواء رضی اللہ عنہماکے بارے میں بتاتاہوں: آپ رضی اللہ عنہماچرخہ کاتاکرتی تھیں ، آپ رضی اللہ عنہاروئی کات کراپنے ہاتھ سے اسے بن کراسے پہناکرتی تھیں اوراپنے بچوں کو پہنایاکرتی تھیں ۔ اورحضرت سیدتنامریم بنت عمران رضی اللہ عنہمابھی یہی کام کرتی تھیں ۔
(المستدرک علی الصحیحین: أبو عبد اللہ الحاکم محمد بن عبد اللہ النیسابوری المعروف بابن البیع (۲:۵۵۲)
اس روایت سے یہ مسئلہ معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺنے اپنی بکریاں چرائی ہیں ۔
حضرت بدرالفقہاء مفتی شاہ محمداجمل قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کافتوی مبارکہ

کیا نبی کریمﷺ نے کسی کی بکریاں چرائیں ؟

اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر ایسا عمل جو مخلوق کے لیے باعثِ نفرت ہو ، جیسے کہ خیانت ، جہل وغیرہ ، اور ہر ایسا مرض جو سببِ نفرت ہو ، جیسے کہ جذام ، برص وغیرہ ، اور ہر ایسا ذلیل پیشہ جسے لوگ عیب و نقص سمجھتے ہوں ، جیسے کہ حجامت اور اجرت پر ذلیل پیشہ ، تو انبیائے کرام علیہم السّلام ان سب سے منزہ اور پاک ہیں ۔
امام الکمال بن ابی شریف رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں
وشرط النبوۃ السلامۃ من دنائۃ الآباء ومن غمز الامھات ومن القسوۃ والسلامۃ من العیوب المنفرۃ کالبرص والجذام ومن قلۃ المروۃ کا لا کل علی الطریق ومن دناء ۃ الصناعۃ کالحجامۃ لان النبوۃ اشرف مناصب الخلق مقتضیۃ غایت الا جلال اللائق بالمخلوق فیعتبر لھا ما ینا فی ذلک ۔
ترجمہ :نبوت کی شرط پستی نسب اور اتہام امہات اور سخت دلی سے سلامتی ہے اور باعثِ نفرت عیبوں ، جیسے برص و جذام سے اور قلت مروت جیسے راستے میں کھانا کھانے سے اور پیشہ کی ذلت وپستی جیسے حجامت سے پاک ہونا ہے ؛ اس لیے کہ نبوت مخلوق کے منصبوں کا بہتر شرف اور اس کے لیے عزت کا انتہائی طالب ہے ، تو نبوت کے لیے اس کے منافی امور کا نہ ہونا اعتبار کیا گیا ۔
(کتاب المسامرہ فی شرح المسایرۃ فی علم الکلام الامام الکمال بن ابی شریف بن الہمام : ۹۳)

حضرت علامہ قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
قد اختلف فی عصمتھم (ای الانبیاء )من المعاصی قبل النبوۃ فمنعھما قوم وجوزھا اخرون والصحیح تنزیھھم من کل عیب وعصمتھم من کل یوجب الریب ۔
ترجمہ :انبیائے کرام علیہم السّلام کے قبل نبوت معاصی سے پاک ہونے میں اختلاف ہوا تو اس کو ایک قوم نے منع کیا اور دوسروں نے جائز رکھا اور صحیح مذہب یہ ہے کہ انبیاے کرام ہر عیب سے پاک ہیں اور ہر اس چیز سے جو شک پیدا کرے ، معصوم ہیں ۔
(شرح الشفا:علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۲۶۴)
اور یہ ظاہر ہے کہ اجرت پر (کسی کی)بکریاں چرانا ایسا ذلیل پیشہ ہے جو باعثِ ننگ و عار اور سبب عیب و نقص ہے ؛ اسی بنا پر شارح مشکوٰۃ شریف ، حضرت علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شرح شفا شریف میں خاص اسی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

حضرت ملاعلی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی عبارت
والمحققون علی انہ علیہ الصلاۃ والسلام لم یرع لا حد بالا جرۃ وانمار عی غنم نفسہ وھم لم یکن عیبا فی قومہ .
ترجمہ :اور محققین فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے اجرت پر کسی کی بکریاں نہیں چرائیں ۔ آپﷺ نے تو صرف اپنی بکریاں چرائیں اور اپنی بکریاں چرانا آپﷺ کی قوم میں عیب نہیں تھا ۔
(شرح الشفا: علی بن (سلطان) محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۴۸)

اس عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کرﷺ نے اجرت پر کسی کی بکریاں نہیں چرائیں ۔
بخاری ، مسلم و ابن ماجہ وغیرہ کتب حدیث میں ایک روایت ہے جس سے بعض لوگوں کو اشتباہ ہو گیا ؛ بخاری شریف میں ان الفاظ کے ساتھ روایت ہے :{کنت ارعاھا علی قراریط لا ھل مکہ} ان کلمات میں نہ تو کہیں اجرت کی تصریح ہے اور نہ اجرت پر دلالت کرنے والا کوئی کلمہ ہے ؛ اس حدیث میں لفظ ’’قراریط‘‘آیا ہے جسے بعض نے چاندی اور سونے کے سِکوں کے کسی جز کو سمجھ لیا ہے حالانکہ اس لفظ سے یہ معنی مراد لینا غلط ہے ۔ چنانچہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ محمد ابن ناصر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : حضرت سوید نے قراریط کی تفسیر سونے چاندی کے ساتھ کر کے خطا کی ، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی کسی کی بکریاں اجرت پر نہیں چرائیں ، آپﷺ تو اپنی بکریاں چراتے تھے ، اور قراریط کی صحیح تفسیر وہ ہے جو حدیث و لغت وغیرہ کے امام حضرت ابراہیم اسحاق رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمائی ، اور وہ یہ ہے کہ قراریط تو اسی مکہ میں ایک جگہ کا نام ہے ۔
(شرح الشفا:علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۶۰)

اس عبارت سے واضح ہو گیا کہ جب حدیث شریف کے لفظ قراریط سے سونے چاندی کے کوئی سکے مراد نہیں ہے بلکہ قراریط مکہ مکرمہ کے قریب ایک مقام کا نام ہے تو اب بخاری شریف کی اس حدیث کا ترجمہ یہ ہوا کہ میں تو اسی مکہ کے مقام قراریط میں (اپنی)بکریاں چراتا تھا ۔ اب بھی اگر کوئی اس حدیث کو دلیل بنا کر نبی کریمﷺ کو چرواہا ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ عدم محبت اور بغض کی نشانی ہے ۔
انبیائے کرام علیہم السّلام کے لیے کوئی ایسی بات کرنا بھی درست نہیں جس میں ادنیٰ توہین کا شائبہ بھی ہو اور سلف و خلف بھی اس کو ناجائز فرماتے ہیں ، چنانچہ عقائد کی کتاب شرحِ مواقف میں ہے کہ اجماع و نص سے یہ کہنا صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور یہ صحیح نہیں کہ اللہ تعالیٰ نجاستوں کا خالق ہے اور بندروں اور سوروں کا خالق ہے اگرچہ یہ اللہ تعالٰی کی ہی مخلوق ہیں ۔
(شرحِ موافق:۶۴۰)
نبی کریم ﷺ کو اجرت پر بکریاں چرانے والا ثابت کرنے کی وہی کوشش کرے گا جو تحقیر شان مصطفیﷺ کا عادی ہو ؛ ایسے لوگوں کا حکم یہ ہے
وکذالک اقول حکم من غمصہ اوغیرہ برعایۃ الغنم ای یرعیھا بالاجرۃ اوالسھو والنسیان مع انھما ثابتان عنہ الا انہ انما یکفر لا جل التعبیر سبب التحقیر ۔
ترجمہ :اسی طرح میں اس شخص کا حکم بیان کرتا ہوں جس نے حضورتاجدارختم نبوت ﷺ پر عیب لگایا یا اجرت پر بکریاں چرانے کے ساتھ تحقیر کی یا سہو ونسیان کے ساتھ حقارت کی، تو وہ کافر ہے تحقیر و تعبیر کے سبب سے ۔
(شرح الشفا:علی بن (سلطان)محمد، أبو الحسن نور الدین الملا الہروی القاری (۲:۴۰۲)
(فتاوی اجملیہ از بدرالفقہاء مولانامحمداجمل قادری رضوی ( ۱: ۴۴)
ایک دوسرے مقام پر علامہ مفتی محمد اجمل قادری لکھتے ہیں کہ
عرفی اعتبار سے وہ پیشہ وکسب ذلیل اور قابل عار ہوتا ہے جو دوسرے کے لیے کسی اجرت و نفع کے عوض کیا جائے اور جو کام اپنے لیے کیا جائے وہ اس کا پیشہ کہلاتا ہے نہ اسے اہل عرف ذلیل سمجھتے ہیں ۔ مثلاً کوئی شخص دوسرے کی بکریاں اجرت پر چرائے تو یہ پیشہ عیب و عار ہے اور جو شخص خود اپنی بکریاں چرائے وہ عیب نہیں ، چنانچہ رسول اکرمﷺنے اپنی بکریاں چرائیں ۔
علماء ومحققین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے اجرت پر بکریاں نہیں چرائیں ، بلکہ خود اپنی بکریاں چرائیں اورایساچراناعیب نہیں ہے ، اسی طرح اورانبیاء کرام علیہم السلام نے جو بھی کام کیے ہیں وہ خود اپنے کام ہیں ، کسی دوسرے کی اجرت پر نہیں ۔ تویہ امر ثابت ہوگیاکہ وہ پیشہ عیب وعار ہے جو دوسرے کے اجرت ونفع کے عوض میں کیاجائے اورجب خود اپناکام کیاتو عرف میںپیشہ کہلاتاہے نہ عیب وعار ہوتاہے ۔ بالجملہ کوئی پیشہ ورحضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے کسی فعل کو اپنے پیشہ کی سند میں نہیں لاسکتاکہ پیشہ ورکے فعل اورحضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے افعال میں چند وجہ سے فرق ہے ۔
٭یہ حضرات (انبیاء کرام علیہم السلام) اپناکام کرتے ہیں اورہر پیشہ وردوسرے کے لئے کام کرتاہے ۔
٭ان حضرات (انبیاء کرام علیہم السلام ) کے فعل مبارک کو اجرت سے کوئی علاقہ ( تعلق ) نہیں اورپیشہ وراجرت ونفع کے لئے ہی کام کرتاہے ۔
٭ان حضرات ( انبیاء کرام علیہم السلام ) کافعل مبارک نہ دوسرے کے لئے ہے اورنہ ہی بغرض اجرت ہے وہ عیب وعار نہیں ، اورپیشہ ور دوسرے کے لئے بغرض اجرت کرتاہے تو وہ عرفاً عاروعیب قرارپاتاہے ۔
(فتاوی اجملیہ از بدرالفقہاء مولانامحمداجمل قادری رضوی (۴:۵۷))
بکریاں چرانے کامسئلہ بیان کرنامنع

حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ کافتوی مبارکہ

امام عبداللہ بن زید القیروانی المالکی المتوفی (۳۸۶ھ) لکھتے ہیں
وقد روی ابن وہب عن مالک أنہ قال:فیمن عیر رجلا بالفقر، فقال لہ:تعیرنی بالفقر،وقد رعی النبی عَلَیْہِ السَّلَامُ الغنم؛ أنہ یؤدب؛ لأنہ عرض بذکر النبی عَلَیْہِ السَّلَامُ فی غیر موضعہ.
ترجمہ :حضرت سیدناامام ابن وہب رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدناامام مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت اقدس میں سوال کیاگیاکہ ایک شخص نے دوسرے کوبطور طعن فقیر کہاتواس نے جواباً کہا: تومجھے فقیر کہہ رہاہے حالانکہ رسول اللہ ﷺنے توبکریاں چرائی ہیں ۔ اس پر امام دارالہجرۃ امام مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس شخص نے رسول اللہ ﷺکاذکرمبارک مناسب جگہ اورمناسب طریقہ پر نہیں کیالھذااس پر تعزیرا ( سزا) لگائی جائے ۔
(النَّوادر والزِّیادات:أبو محمد عبد اللہ بن (أبی زید)عبد الرحمن النفزی، القیروانی، المالکی (۱۴:۵۲۹)

یہی امام ابن ابی مریم سے روایت ملتی ہے
ففی (النوادر)من روایۃ ابن أبی مریم عنہ فی رجل عیّر رجلا بالفقر، فقال:تعیرنی بالفقر وقد رعی النبی صلّی اللَّہ علیہ وسلّم الغنم؟ فقال مالک:قد عرض بذکر النبی صلّی اللَّہ علیہ وسلّم فی غیر موضعہ، أری أن یؤدب۔
ترجمہ:حضرت سیدناامام ابن ابی مریم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی خدمت اقدس میں سوال کیاگیاکہ ایک شخص نے دوسرے کو بطور طعن فقیر کہاتواس نے جواباً کہا: تومجھے فقیر کہہ رہاہے حالانکہ رسول اللہ ﷺنے توبکریاں چرائی ہیں ۔ اس پرآپ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا: اس شخص نے رسول اللہ ﷺکاذکرمبارک مناسب جگہ اورمناسب طریقہ پر نہیں کیالھذااس پر تعزیر ( سزا) لگائی جائے ۔

(إمتاع الأسماع:أحمد بن علی بن عبد القادر، أبو العباس الحسینی العبیدی، تقی الدین المقریزی (۱۴:۳۹۱)
ہرزمانے میں عرف بدلتارہتاہے

امام جلال الدین السیوطی المتوفی (۹۱۱ھ) فرماتے ہیں
رَعْیُ الْغَنَمِ لَمْ یَکُنْ صِفَۃَ نَقْصٍ فِی الزَّمَنِ الْأَوَّلِ، لَکِنْ حَدَثَ الْعُرْفُ بِخِلَافِہِ، وَلَا یُسْتَنْکَرُ ذَلِکَ فَرُبَّ حِرْفَۃٍ، ہِیَ نَقْصٌ فِی زَمَانٍ دُونَ زَمَانٍ، وَفِی بَلَدٍ دُونَ بَلَدٍ۔
ترجمہ :پہلے زمانے میں بکریاں چراناعیب اورنقص نہیں تھالیکن اب عرب میں اسے اچھاتصورنہیں کیاجاتااوربہت سے کام ایک دوراورشہر میں معززہوتے ہیں مگردوسرے دوراورشہر میں معزز نہیں مانے جاتے ۔
(الحاوی للفتاوی: عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۱:۲۸۲)
اس سے معلوم ہواکہ بکریاں چرانااس دورمبارک میں معززپیشہ سمجھاجاتاتھامگرہمارے دورمیں معززپیشہ نہیں رہالھذااللہ تعالی کے حبیب کریم ﷺکو بکریاں چرانے والاکہناجائز نہیں ہے ۔

بکریاں چرانے والاقصہ بیان کرنامنع ہے

وَسُئِلَ شَیْخُ الْإِسْلَامِ، وَالْحَافِظُ قَاضِی الْقُضَاۃِ شہاب الدین بن حجر بِمَا نَصُّہُ: مَا قَوْلُ أَئِمَّۃِ الدِّینِ فِی ہَذِہِ الْمَوَالِدِ الَّتِی یَصْنَعُہَا النَّاسُ مَحَبَّۃً فِی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ غَیْرَ أَنَّ بَعْضَ الْوُعَّاظِ یَذْکُرُونَ فِی مَجَالِسِہِمُ الْحَفْلَۃَ الْمُشْتَمِلَۃَ عَلَی الْخَاصِّ وَالْعَامِّ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء ِ مُجْرَیَاتٍ ہِیَ مُخِلَّۃٌ بِکَمَالِ التَّعْظِیمِ، حَتَّی یَظْہَرَ مِنَ السَّامِعِینَ لَہَا حُزْنٌ وَرِقَّۃٌ، فَیَبْقَی فِی حَیِّزِ مَنْ یُرْحَمُ لَا فِی حَیِّزِ مَنْ یُعَظَّم۔وَیَقُولُونَ: إِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَرْعَی غَنَمًا وَیُنْشِدُونَ:
بِأَغْنَامِہِ سَارَ الْحَبِیبُ إِلَی الْمَرْعَی … فَیَا حَبَّذَا رَاعٍ فُؤَادِی لَہُ یَرْعَی.
وَفِیہِ: فَمَا أَحْسَنَ الْأَغْنَامَ وَہُوَ یَسُوقُہَاوَکَثِیرٌ مِنْ ہَذَا الْمَعْنَی الْمُخِلِّ بِالتَّعْظِیمِ فَمَا قَوْلُکُمْ فِی ذَلِکَ؟ .
فَأَجَابَ بِمَا نَصُّہُ: یَنْبَغِی لِمَنْ یَکُونُ فَطِنًا أَنْ یَحْذِفَ مِنَ الْخَبَرِ مَا یُوہِمُ فِی الْمُخْبَرِ عَنْہُ نَقْصًا، وَلَا یَضُرُّہُ ذَلِکَ، بَلْ یَجِبُ ہَذَا جَوَابُہُ بِحُرُوفِہِ.
ترجمہ :شیخ الاسلام الحافظ قاضی القضاۃ شہاب الدین بن حجررحمۃ اللہ تعالی علیہ کی خدمت میں سوال کیاگیاکہ ائمہ دین اس بارے میں کیافرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺکی محبت میں میلاد شریف کی محافل منعقد کرتے ہیں ،ان محافل میں عوام وخواص یہاں تک کہ خواتین بھی شامل ہوتی ہیں ،واعظین ان محافل میں ایسی چیزیں بیان کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺکی کمال تعظیم میں خلل انداز ہوتی ہیں تاکہ عوام کے دلوں میں غم اوررقت طاری ہوبس وہ دلوں میں رسول اللہ ﷺکی عظمت بٹھانے کی بجائے دلوں میں رحم لے کر جاتے ہیں ۔ اوریہی لوگ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے بکریاں چرائی تھیں اوراس کے متعلق اشعاربھی پڑھتے ہیں ۔آپ ! اس کے متعلق کیافرماتے ہیں ؟
امام ابن حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جواباًفرمایا: ہر سمجھ دار شخص کے لئے لازم ہے کہ وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے ہر اس چیز کو حذف کردے جس میں آپ ﷺکے بارے میں حقارت ونقص کاشبہہ ہونے کاخدشہ ہوایساکرنااس کے لئے ہرگزہرگزنقصان دہ نہیں بلکہ ایساکرنااس پر واجب ہے ۔
(الحاوی للفتاوی: عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی (۱:۲۸۲)

ایساکہنے والے کو سخت سزادی جائے

الشیخ حسین بن ابراہیم المغربی المصری المتوفی (۱۲۹۲ھ)کافتوی
(ما قولکم)فی رجل عیرہ آخر بکونہ کثیر القرض، أو کونہ کثیر السفر، أو کونہ فقیرًا، فقال لمن عیرہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم اقترض ومات غریبًا وعاش فقیرًا۔
یشدد فی الأدب علی قائل ہذا بالاجتہاد خصوصًا فی مسألۃ الفقر، وإنما لم یکفر لأنہ لم یقصد تنقیص النبی صلی اللہ علیہ وسلم وإنما قصد دفع العار عن نفسہ کما قال سیدی خلیل أو تعیرنی بالفقر والنبی صلی اللہ علیہ وسلم قد رعی الغنم اہـ وإنما شدد علیہ لأن أحوال الأنبیاء لیست کأحوالنا، فإنہم أعرضوا عن أمور الدنیا لخستہا عند ربہم، فلا یقاس حالنا بحالہم صلوات اللہ وسلامہ علیہم أجمعین اہـ بتوضیح۔
ترجمہ :کیافرماتے ہیں علماء کرام اس شخص کے بارے میں جس کو کسی نے عاردلائی کہ وہ بہت زیادہ مقروض ہے یابہت زیادہ سفرکرتاہے یاوہ فقیرہے توآگے سے جس کو عاردلائی جارہی تھی نے کہا: کہ رسول اللہ ﷺنے بھی قرض لیاتھا، رسول اللہ ﷺکاوصال شریف بھی غربت کی حالت میں ہوااوررسول اللہ ﷺنے زندگی بھی فقرمیں گزاری ہے؟
الجواب
ایسے شخص کو پوری کوشش کرکے سخت سے سخت سزادی جائے تاکہ اس کو رسول اللہ ﷺکی بارگاہ کاادب آئے خصوصاً فقروالے مسئلہ میں ، اس کو کافرنہیں کہاجائے گاکیونکہ اس کی نیت رسول اللہ ﷺکی توہین کی نہ تھی بلکہ اپنی ذات سے وہ عارکو دورکرناچاہتاتھا، جیسے میرے سردارحضرت سیدناخلیل رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال کیاگیاتھاکہ کسی شخص نے کسی کو فقرکے ذریعے عاردلائی تو اس نے کہا: تم مجھے عاردلاتے ہوں کہ میں غریب ہوں حالانکہ رسول اللہ ﷺنے بھی توبکریاں چرائی ہیں ۔ تومیرے سردارجناب خلیل رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جواب دیا کہ اس شخص کو بہت سخت سزادی جائے گی ۔ اس لئے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال ہمارے احوال کی طرح نہیں ہیں۔بے شک انبیاء کرام علیہم السلام نے توامور دنیاسے اعراض فرمایااس لئے کہ اموردنیامیں مشغول ہوناان کے رب تعالی کے نزدیک خسیس کام ہے ، پس ہمارے احوال کو انبیاء کرام علیہم السلام کے احوال پر قیاس نہیں کیاجاسکتا۔
(قرۃ العین بفتاوی علماء الحرمین:حسین بن إبراہیم المغربی أصلاً المصری ، المکی:۳۰۶)
جوشاعراپنے کلام میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ان کو عبرت حاصل کرنی چاہئے ۔اورجو لوگ ان کو سن کر واہ واہ کرتے ہیں وہ بھی اس جرم میں برابرکے شریک ہیں ۔

معارف ومسائل

(۱)ا س آیت سے واضح ہوتاہے کہ مسلمان اپنی محافل میں دشمن کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ آنے دیں ، یہاں تک کہ ایک چھوٹاساجملہ جو غلط مقاصدمیں دشمن کے لئے مقام بحث بن سکے ، اس سے بھی اجتناب کرناچاہئے ۔ قرآن کریم چاہتاہے کہ اہل ایمان ایک لفظ بھی ایسانہ بولیں جس کے ایسے مشترک معنی ہوں کہ رسول اللہ ﷺکے گستاخ جس کے دوسرے معنی کو غلط استعمال کرسکے ۔ اوراہل ایمان کی نفسیاتی کمزوری کاباعث بنے ۔ جب دامن کلام اورتعبیرسخن وسیع ہے توکیاضرورت ہے کہ انسان ایسے جملے استعمال کرے جو قابل تحریف ہوں اورغلط مفاد کاباعث ہوں۔
(۲)اس سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی کی بارگاہ عالیہ میں رسول اللہ ﷺکی بے حد عزت ہے ، اس نے اپنے بندوں کواپنے حبیب کریم ﷺکی بارگاہ میں عرض ومعروض کرنے کاطریقہ تعلیم فرمایااورعرض کرنے کے الفاظ بھی خود ارشادفرمائے ، قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں حاضری دینے کے آداب ، بیٹھنے ، اٹھنے کے طریقے ، کھانے پینے کے آداب ، گفتگوکے طریقے بھی بتلائے۔
(۳) رسول اللہ ﷺکی تعظیم اورادب تمام عبادات سے مقدم ہے اورسب سے بڑھ کراہم فرض رسول اللہ ﷺکی تعظیم ہے ۔ کیونکہ قرآن کریم نے نماز وروزہ کے احکام میں اتنی سختی نہیںفرمائی جتنی یہاں فرمائی ، یعنی حکم کے بعد ’’اسمعوا ‘‘ بھی فرمایایعنی خوب سن لواورخلاف ورزی کرنے والوں کو کافربھی فرمایا۔
(۴) للکافرین سے اشارۃ ً معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکی شان میں گستاخی کالفظ بولناکفرہے ، اگرچہ اس کاارادہ نہ ہولھذا ہر وہ شخص جو بھی رسول اللہ ﷺکی شان اقدس میں ایسالفظ بولے جو گستاخانہ ہوتو اس کاقصد نہیں جاناجائے گابلکہ اس کو کافرکہاجائے گا۔
(۵) قرآن کریم میں اٹھاسی مقامات پر لفظ ’’یاایہاالذین آمنوا‘‘ مذکورہے ۔ اوریہ مقام سب سے پہلاہے جہاں اللہ تعالی نے ’’یاایہاالذین آمنوا‘‘ ذکرفرمایا۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ قرآن میں پہلامقام جہاں یہ جملہ مذکورہواوہ مقام ہی ناموس رسالت کے تحفظ کاہے ۔ اس سے ہر شخص بخوبی جان لے کہ رب تعالی اہل ایمان سے یہی چاہتاہے کہ وہ اس کے حبیب کریم ْﷺ کی عزت وتعظیم بڑھ چڑھ کرکریں اورکوئی بھی شخص رسول اللہ ﷺکی بے ادبی نہ کرے اوراس آیت میں اہل ایمان کو یہ بھی سبق دیاگیاہے کہ میرے حبیب کریم ﷺکی عزت وناموس پرپہرہ آپ نے دیناہے نہ کہ یہودیوں اورکافروں نے ۔
(۶) اس آیت مبارکہ کے شان نزول سے ہی یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس کی بات آئے توپھرایسے ہوگی جیسے رسول اللہ ﷺکے سچے غلام حضر ت سیدناسعد رضی اللہ عنہ نے کی کہ رسول اللہ ﷺکے سامنے ہی کھڑے ہوگئے اوررسول اللہ ﷺکے گستاخوں کو للکاردیااوریہ نہ دیکھاکہ میں رسول اللہ ﷺکے سامنے ایسے کلام کس طرح کروں ۔ اوررسول اللہ ﷺکاخاموشی اختیارکرنایہی ظاہرکرتاہے کہ رسول اللہ ﷺبھی یہی چاہتے ہیں کہ جب بھی میری عزت وناموس کی بات ہوتواسی طرح ہو۔
(۷) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس کی بات آئے تو یہ نہیں کہناکہ ہم یہودیوں اورکفارسے بات کریں گے بلکہ بات ایسے کرنی ہے جیسے رسول اللہ ﷺکے مبارک زمانے میں حضرت سیدناسعدرضی اللہ عنہ نے کی کہ آج کے بعد کسی یہودی نے یہ لفظ رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں بولاتومیں اس کی گردن اتاردوں گااورآج کے دور میں ہمارے امیر المجاہدین مولاناحافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ تعالی نے ہالینڈ کے گستاخ خنزیرکو کی کہ ہم نے ان پر بم چلادیناہے ۔ اس سے معلوم ہواکہ آج کے دور میں اگرکوئی مسئلہ ناموس رسالت میں کوئی شخص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سہی جانشینی کاحق اداکررہاہے تو وہ امیرالمجاہدین حفظہ اللہ تعالی کی ذات ہے ۔
(۸) اس شان نزول سے یہ بھی معلوم ہواکہ غیرکی بولی جاننے کانفع تب ہوتاہے جب انسان کے اندرغیرت ایمانی ہو، دیکھیں رسول اللہﷺکے سچے غلام حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ نے بات کی کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ یہودکی لغت سے واقف تھے توجیسے ہی ان کے منہ سے رسول اللہ ﷺکے متعلق گستاخی کے کلمات سنے فوراً ان کوٹوکااورتلوار نکال کر گویاہوئے کہ آج کے بعد کسی نے یہ کلمہ کہاتومیں اس کوقتل کردوں گا، آج توجتنے بھی انگریزی سیکھتے جاتے ہیں بے دین ہوتے جاتے ہیں اورانگریزوں کی بولی بولتے ہیں اوران کے وکیل بلاتوکیل بنتے جاتے ہیں اوریہی وہ طبقہ ہے جو رسول اللہ ﷺکی گستاخی پر بالکل برانہیں مانتے بلکہ یہ ذلیل طبقہ اہل ایمان کو غیرت ایمانی کے اظہارپر برابھلاکہتارہتاہے ۔
(۹) اس سے ان لوگوں کارد ہوگیاجو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکوجوبھی گالیاں دیتاتھاآپ ﷺاسے دعائیں دیاکرتے تھے ۔ اس حدیث شریف کودیکھیں کہ جب حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو للکاراتورسول اللہ ْﷺنے خاموشی اختیارکرکے حضرت سیدناسعد رضی اللہ عنہ کی تائیدفرمائی اوراللہ تعالی نے قرآن کریم نازل فرماکر یہ بات واضح فرمادی کہ جب بھی میرے حبیب کریم ﷺکی عزت وناموس کی بات آئے توبات ایسے ہی کی جائے جیسے سعد رضی اللہ عنہ نے کی ہے ۔
(۱۰) اس سے معلوم ہوگیاکہ جولوگ رسول اللہ ﷺکی عزت وناموس کی بات کرتے ہیں ان لوگوں کو رسول اللہ ﷺاوراللہ تعالی کی تائیداورمددحاصل ہے ۔
(۱۱) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ جو لوگ قیامت تک رسول اللہ ﷺکی گستاخی اوربے ادبی کے مرتکب ہوں گے وہ سب کے سب یہودیوں کے پیروکارہیں۔
(۱۲)اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہواکہ عنداللہ رسول اللہ ﷺکے غلاموں کی شان کتنی بلندہے کہ پہلے خطاب صرف اورصرف انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ ہوتاتھامگر جب بات آئی محبوب کریم ﷺکی امت کی تواللہ تعالی نے اس امت کو بھی خطاب فرمایا۔اوریہ ذہن میں رہے ان خطابات کے اولین مخاطبین رسول اللہ ﷺکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں ۔ اوران کے بعد جتنے لوگ اہل ایمان ہیں ان کوخطاب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تبعیت میں ہے ۔
(۱۳) اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ رسول اللہ ﷺکی اشارۃً اورکنایۃ ً ہر طرح بے ادبی اورگستاخی کفرہے اورایساشخص کافرہے ، اس لئے کہ یہودی رسول اللہ ﷺکی گستاخی صراحتاً نہیں کرتے تھے بلکہ وہ کنایۃ ً کرتے تھے ۔ اللہ تعالی نے ان کو کنایۃ ً اوراشارۃ ً گستاخی کرنے پر کافرقراردیاہے۔
(۱۴)جس لفظ سے فاسد معنی کاوہم پیداہوتاہواس لفظ کااستعمال بھی رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں کفرہے اورایساشخص کافرہے ۔
(۱۵)اس سے یہ معلوم ہواکہ دشمن کے مکروخیانت سے ہر حال میں بچناچاہئے اوراس کو کسی بھی قسم کی چال بازی اوراستخفاف فی الدین کاموقع نہیں دیناچاہئے ، جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس لفظ کو ترک کردیں گے تو دشمن بھی اس طرح کالفظ کبھی بھی نہیں بولیںگے۔
(۱۶) اس آیت کی ایک کڑی کو سورۃ حجرات کی ابتدائی کڑیوں کے ساتھ ملانے سے ایک اہم اورعالمگیرعشق ومحبت اورخلوص اورادب واحترام کاجذبہ نمایاں ہوگاکہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم ﷺکی عظمت وشان اوربلندی مقام کاکتنازیادہ خیال رکھاہے اورپھرآپﷺ کی محبت کے لئے جن لوگوں کاانتخاب فرمایاہے وہ کتناعظیم انتخاب ہے کہ جنہوںنے زندگی کے ہر میدان میں جان نثاری کے اعلی ثبوت فراہم کئے ہیں اورکبھی بھی رسول اللہ ﷺکانام لے کرنہیں پکارااورآپ ﷺکے کسی بھی فرمان شریف کے ماننے میں کوئی تامل اورچوں چرانہیں کی ، اورکبھی بھی رسول اللہ ﷺکے چہرہ مبارک کی طرف نظرجماکرنہیں دیکھااورنہ ہی ان کو کبھی ایسی ہمت ہوئی ۔
یہ آداب کسی بھی اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی کتابوں میں کہیں بھی نہیں ملیں گے ، یہود ونصاری کے نافرمان لوگوں نے کبھی بھی اپنے انبیاء کرام علیہم السلام کو صحیح معنوں میںماناہی نہیں ہے ۔ ان عظیم ہستیوںپر طرح طرح کے الزامات لگائے اوران پر بہتان طرازیاں کی ہیں ، کبھی انہوںنے انبیاء کرام علیہم السلام کو شہیدکیاہے توکبھی انبیاء کرام علیہم السلام کی سرعام گستاخیاں کی ہیں۔ اسی لئے یہ لوگ ملعون بھی بنے اورمغضوب علیہم بھی قرارپائے ۔ رحمت کالقب صرف اورصرف اس آخری امت کے لئے ہی خاص ہے ۔ الحمدللہ علی ذلک۔
(۱۷) اس سے معلوم ہواکہ انبیاء کرام علیہم السلام کی تعظیم اوران کاادب فرض عین ہے توجوشخص اس میں کمی لائے وہ کافرہوجاتاہے ۔
(۱۸) اس سے معلوم ہواکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نعوذ باللہ گستاخی کی نیت سے یہ لفظ ’’راعنا‘‘ نہ بولتے تھے وہ تورسول اللہ ﷺکادل وجان سے ادب کیاکرتے تھے مگرچونکہ اللہ تعالی کے ہاں یہ لفظ گستاخی کاباعث تھااس لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ لفظ بولنے سے منع کردیاگیا۔
(۱۹) اس سے ان لوگوں کارد ہوگیاجو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آزادی اظہاررائے ہوناچاہئے ۔ اللہ تعالی نے یہودیوں کی اس منطق پرمکمل طورپرپابندی لگادی کہ کوئی بھی شخص میرے حبیب کریم ﷺکی شان میں کوئی بھی لفظ گستاخی والانہ بولے ۔ ہاں یہ لوگ آزادی اظہاررائے ضرورکریں مگراپنے باپ کے بارے میں اوراپنے حکمرانوں اوراپنے ملکی قوانین کے بارے میں بولیں تاکہ ان کو اس آزادی اظہاررائے کی جلدی سمجھ آجائے ۔
(۲۰) ’’عذاب الیم ‘‘اورکافروں کے لئے دردناک عذاب ہے ۔یہاں عام کفرمراد نہیں ہے بلکہ یہاں مراد وہ کفرہے جو رسول اللہﷺ کی صحبت میں اپنے خبث باطن کے باعث الفاظ کے غلط استعمال سے پیداہوتاہے ۔ یعنی اگرتم ’’راعنا‘‘جیسالفظ اداکرتے ہواوراس سے میرے حبیب کریم ﷺکی شان میں گستاخی ہوتی ہے تویہ وہ کفرہے کہ جس کاارتکاب کرنے والوں کو قیامت میں صرف عذاب نہیں بلکہ عذاب الیم ہوگا۔ الیم کامعنی ہے’’دردناک‘‘یعنی وہ عذاب اس قدرشدیدہوگاکہ خود عذاب بھی اس عذاب سے عذاب میں ہوگا، کیونکہ دردناک اس درد کو کہتے ہیں جس سے دردبھی درد محسوس کرے جیساکہ رسول اللہﷺ کافرمان عالی شان ہے کہ جہنم کی بعض وادیاں ایسی ہیں جس سے باقی جہنم پناہ مانگتاہے یعنی جہنم بھی اس کی ہولناکی سے درداورعذاب محسوس کرتاہے ۔

Leave a Reply