سورۂ اعراف کاایک عبرتناک قصہ سید متین احمد مصباحی

سورۂ اعراف کاایک عبرتناک قصہ سید متین احمد مصباحی

سابقہ اقوام کے کئی قصے قرآنِ کریم میں بیان فرمائے گئےہیں جن سے مقصود عقائد، کردار، اخلاق اور عمل وغیرہ کی مختلف خرابیوں پر متنبہ کرنا اور ان کی اصلاح کرناہے۔ یہ قصے قرآن کی کئی سورتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض قصے قرآن میں ایک سے زائد بار مختلف اسالیب کے ساتھ ذکر ہوئے ہیں اور بعض قصے صرف ایک ہی مرتبہ بیان ہوئے ہیں۔ یہ قصے جن سورتوں میں وارد ہوئےہیں، ان کے مزاج، فضا، اُسلوب اور مرکزی مضامین وغیرہ کے ساتھ گہرے طور پر مربوط ہیں۔زیرِنظر تحریرمیں سورۂ اعراف سے ایک قصہ اور اس سے حاصل ہونے والے سبق اورعبرتوں کو بیان کیا جاتا ہے۔پہلے یہ قصہ پڑھیے :

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ سَآءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوْا بِآيَاتِنَا وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَنْ يُضْلِلْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ۔

(سورۃالاعراف:آیت ۱۷۵تا۱۷۸)

آیات کامطلب:

(اے رسول !) ان کو اس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں، مگر وہ ان کو بالکل ہی چھوڑ نکلا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں کی بدولت اسے سربلند کرتے مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا رہااس لیے اس کی مثال اس کتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی وہ زبان لٹکا کر ہانپے گا اور اگر اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکا کر ہانپے گا۔ یہ ہے مثال ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا ہے لہٰذا تم یہ واقعات ان کو سناتے رہو، تاکہ یہ کچھ سوچیں۔ کتنی بری مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور جو اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے، بس وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے تو ایسے ہی لوگ ہیں جو نقصان اٹھاتے ہیں۔

عام طور پر مفسرین نے اس قصے میں’’ اس شخص‘‘سے مراد ایک متعین فرد لیا ہے۔ پھر اس متعین فرد کے بارے میں تین قول ہیں: ایک یہ کہ اس سے اُمیہ بن ابی الصلت مراد ہے جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں تھا اوراعلیٰ انسانی اوصاف کے ساتھ حکیمانہ کلام میں بھی ممتاز درجہ رکھتا تھا۔ اس کو جب معلوم ہوا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں ایک پیغمبر کے آنے کی پیشین گوئیاں موجود ہیں تو اس کا گمان ہوا کہ شاید وہ پیغمبر میں ہی ہوں۔ بعد میں جب اسے رسول اللہ ﷺ کے دعویِ نبوت کی خبر ملی اور اس نے آپ کا کلام سنا تو اس کو سخت مایوسی ہوئی اور وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف بن گیا۔

دوسرا قول زیادہ مفسرین نے بیان فرمایا ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل کا ایک عابد وزاہد اور عالم شخص ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانہ کا فرد تھا اور عراق یا کنعان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس شخص کا تذکرہ توریت(گنتی: باب ۲۲،۲۳،۲۴) میں بھی تفصیل سے آیا ہے ۔

تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے صیفی ابن الراہب مراد ہے۔

اس کے علاوہ دو قول اور ہیں جن میں’’اس شخص‘‘ سے مراد کوئی فرد نہیں بلکہ دو جماعتیں مراد ہیں۔ ایک قول کے مطابق اس سے خود قریش مراد ہیں جو نبی کریم ﷺ کے مخالف تھے۔ قدما میں یہ قول علامہ ابوحیّان اندلسی نے نقل کیا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے یہود بحیثیت قوم مراد ہیں۔

مذکورہ بالا گفتگو کی رو سے’’اس شخص‘‘ سے خواہ کوئی فرد مراد ہو یا جماعت، اس سے حسبِ ذیل اُمور ہمارے درس اور عبرت کے لیے سامنے آتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدابیر سے انسان کو کبھی بھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے، چاہے علم اور تقویٰ کے کتنے بلند مقام پر فائز ہو۔ اللہ کے سامنے صرف اور صرف عبدیت ہی کام آتی ہے، اس کے سامنے سرکشی اور ناز کی ادائیں بربادی کا سبب بن جاتی ہیں۔حضرت امیر خسرو کا فرمان ہے: اُو بہ نازِ عجبے، من بہ نیازِ عجبے
ظاہری اخلاق اور علم کے باوجود عین ممکن ہے کہ انسان اللہ کے دربار میں مردود ہواس لیے مردود ہونے کے خوف سے بے پروا نہیں ہو جانا چاہیے بلکہ آخری دم تک انسان کے لیے فکرمندی لازم ہے۔ عارفِ رومی فرماتے ہیں: اندر ایں رَہ می تراش ومی خراش- تادمِ آخر، دمے فارغ مباش (اس راہ کے اندر مسلسل تراش خراش میں لگے رہو اور آخری دم تک بھی چین سے نہ رہو۔)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:
إِنَّ الْحَيَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَيْهِ الْفِتْنَةُ.(ابو دائود:الزہد، ص۱۴۰)
ترجمہ:زندہ انسان فتنے میں پڑنے سے محفوظ نہیں ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ زندہ انسان کے احوال کس قدر اچھے کیوں نہ ہو جائیں، قضا وقدر کے احکامات کے مطابق اگر وہ کسی وقت بھی فتنے میں پڑ سکتا ہے جس سے اس کا دین وایمان جا سکتا ہے۔ اس لیے اللہ سے ان نعمتوں کی حفاظت کے لیے پورے صدقِ دل سے دعا مانگنی چاہیے۔ اللہ کے یہاں اخلاص اورصدق کی بڑی قدر ہے۔ اللہ کے مخلص بندوں کی سوانح میں یہ بات جا بجا ملتی ہے کہ انھیں کبھی اپنے عمل پر غرور نہیں ہوا۔ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ کاش میں کوئی تنکا ہوتا۔ حضرات صحابہ رضی اللہ عنہ کے احوال میں یہ بے نفسی جا بجا ملتی ہے۔
جس قدر علم اللہ دے، انسان کی ذمے داری اللہ کے حقوق کے باب میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔ زیادہ علم کے ساتھ بے عملی اور دنیا پرستی کا وبال بھی بڑا سخت ہے۔ بلعم بن باعور کا مقام کس قدر بلند تھا لیکن اللہ کے دیے ہوئے علم سے جب دنیا پرستی کی راہ پر چل پڑا تو اسے اس طرح سے پٹخا گیا کہ اللہ نے اس کو کتے سے تشبیہ دی ہے۔ قرآن کا یہ مقام اہلِ علم کے لیے شاید سب سے زیادہ ڈرانے والا مقام ہے۔ علامہ ابنِ عبدالبر حضرت حسن بصری کا فرمان نقل کرتے ہیں:
مَنْ أَفْرَطَ فِي حُبِّ الدُّنْيَا ذَهَبَ خَوْفُ الْآخِرَةِ مِنْ قَلْبِهِ، وَمَنِ ازْدَادَ عِلْمًا ثُمَّ ازْدَادَ عَلَى الدُّنْيَا حِرْصًا لَمْ يَزْدَدْ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُغْضًاوَلَمْ يَزْدَدْ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا بُعْدًا
(جامع بيان العلم وفضلہ:ج؍۱،ص۶۶۸)
ترجمہ:جو شخص دنیا سے بہت زیادہ محبت کرنے لگے، آخرت کا خوف اس کے دل سے رخصت ہو جاتا ہے۔ جو شخص علم میں تو بڑھتا جائے لیکن اس کے ساتھ دنیا کی حرص میں بھی بڑھتا چلا جائے، اس پر اللہ کا غصہ ہی بڑھتا چلاجاتا ہے اور دنیا اس سے دور ہی بھاگتی رہے گی۔
علمِ دین سے مقصود تقویٰ اور رضاے خداوندی کا حصول ہے۔ یہ عالی مقصود علم سے ہمیشہ پیشِ نظر رہنا ضروری ہے۔ اگر اس علم سے مقصود ہر جائز وناجائز طریقے سے دنیا کا مال ودولت سمیٹنا اور شہرت وحبِ جاہ ہو تو یہ علم اللہ سے دوریوں کا سبب بنتا ہے۔ (علمِ دین کی تدریس وغیرہ کے لیے وقت کے استعمال کی اجرت، علما کے یہاں بالاتفاق جائز ہے، خاص طور پر جب کہ کوئی اور پیشہ بھی نہ ہو۔)
اعمال کا مدار خاتمے پر ہے اس لیے حسنِ خاتمہ کی دعا تمام صالحین کی دعاؤں میں ایک مرکزی دعا کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے اس دعا کو اپنی دعاؤں کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
اُمیہ بن ابی الصلت باوجود علم اور اخلاقی اوصاف کے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں آ کر ناکام ہوا۔ اس سے اس بات کا پتا چلتا ہے کہ معاصرانہ حسد انسان کے برباد ہونے کی نہایت خطرناک گھاٹی ہے۔ بعض اوقات انسان اپنے عمل اور علم میں اچھا ہوتا ہے لیکن کسی معاصر کی خوبیوں سے وہ جل اٹھتا ہے اور اسے نقصان پہنچانے کے درپے ہو جاتا ہے۔ اس طرح حسد کا یہ مرض اس کی نیکیوں کو برباد کر ڈالتا ہے۔ شیطان کو حضرت آدم علیہ السلام کے مقابلے میں اسی حسد اور تکبر کے مرض نے ہلاک کیا اور علم والوں پر یہ مرض نہایت تیزی سے حملہ کرتا ہے۔ وہ کہنے کو علم والے ہوتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے بعض اوقات نہایت کٹ کھنے بن جاتے ہیں۔ یہیں سے علماے دنیا اور علماے آخرت کا فرق واضح ہوتا ہے۔ علماے آخرت دوسروں کی خوبیوں کو اللہ کی دَین اور تقسیم سمجھ کر تسلیم ورضا کی راہ اختیار کرتے ہیں، جب کہ علماے دنیا اس سے حسد میں مبتلا ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسروں سے خوبیاں سلب ہو جائیں اور وہ تنہا ان کے مالک ہوں۔ تعریف ہو تو انھی کی ہو اور نام وشہرت حاصل ہو تو انھیں کو ملے۔

مذکورہ بالا غلط طرزِ عمل کوئی فرد اختیار کرے یا جماعت، اس کا انجام اسے ضرور ملے گا۔ ماضی کی اقوام میں اس انجام کی نہایت عبرت ناک مثال قومِ یہود ہے۔ اللہ کی اس قوم پر بڑی عنایات تھیں لیکن اللہ کو مقصود بنانے کے بجائے دنیا کو مقصود بنانے سے اس کا وہ انجام ہوا کہ قرآن نے اس کو مغضوب عليهم (جن پر اللہ کا غضب ہوا) کا لقب دیا۔ قرآن نے بڑی تفصیل کے ساتھ سورۂ بقرہ میں اس قوم پر فردِ جرم عائد کی ہے اور پھر بڑی تفصیل کے ساتھ اس کے جرائم کو نمایاں کیا ہے۔ ان تمام جرائم میں قدرِ مشترک اللہ کی عطا کے جواب میں بے وفائی کی روش اپنانا ہے۔

ان آیات میں’’اس شخص‘‘ کی یہ تمثیل ہر اس شخص پر چسپاں ہوتی ہے جس میں یہ صفت پائی جاتی ہو۔وہ شخص جس کی یہ مثال یہاں پیش کی گئی ہے، آیاتِ الہی کا علم رکھتا تھا یعنی حقیقت سے واقف تھا۔ اس علم کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اس رویے سے بچتا جس کو وہ غلط جانتا تھا اور وہ طرزِ عمل اختیار کرتا جو اسے معلوم تھا کہ صحیح ہے۔ اسی عمل مطابقِ علم کی بدولت اللہ تعالیٰ اس کو انسانیت کے بلند مراتب پر ترقی عطا کرتا لیکن وہ دنیا کے فائدوں اور لذتوں اور آرایشوں کی طرف جھک پڑا۔ خواہشاتِ نفس کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس نے ان کے آگے سِپَر ڈال دی۔ معالی امور کی طلب میں دنیا کی حرص وطمع سے بالاتر ہونے کے بجائے وہ اس حرص وطمع سے ایسا مغلوب ہوا کہ اپنے سب اونچے ارادوں اور اپنی عقلی واخلاقی ترقی کے سارے امکانات کو طلاق دے بیٹھا اور ان تمام حدود کو توڑ پر نکل بھاگا جن کی نگہداشت کا تقاضا خود اس کا علم کر رہا تھا۔ پھر جب وہ محض اپنی اخلاقی کمزوری کی بنا پر جانتے بوجھتے حق سے منہ موڑ کر بھاگا تو شیطان، جو قریب ہی اس کی گھات میں لگا تھا، اس کے پیچھے لگ گیا اور برابر اسے ایک پستی سے دوسری پستی کی طرف لے جاتا رہا، یہاں تک کہ ظالم نے اسے ان لوگوں کے زُمرے میں پہنچا کر ہی دم لیا جو اس کے دام میں پھنس کر پوری طرح اپنی متاعِ عقل وہوش گم کر چکے ہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس شخص کی حالت کو کتے سے تشبیہ دیتا ہے جس کی ہر وقت لٹکی ہوئی زبان اور ٹپکتی ہوئی رال ایک نہ بھجنے والی آتشِ حرص اور کبھی نہ سیر ہونے والی نیت کا پتا دیتی ہے۔ بنائے تشبیہ وہی ہے جس کی وجہ سے ہم اپنی اردو زبان میں ایسے شخص کو جو دنیا کی حرص میں اندھا ہو رہا ہو، دنیا کا کتا کہتے ہیں۔ کتے کی جبلت کیا ہے؟ حرص وآز۔ چلتے پھرتے اس کی ناک زمین سونگھنے ہی میں لگی رہتی ہے کہ شاید کہیں سے بوئے طعام آ جائے۔ اسے پتھر ماریے تب بھی اس کی یہ توقع دور نہیں ہوتی کہ شاید یہ چیز جو پھینکی گئی ہے، کوئی ہڈی یا روٹی کا ٹکڑا ہو۔ پیٹ کا بندہ تو ایک دفعہ لپک کر اس کو بھی دانتوں سے پکڑ ہی لیتا ہے۔ اس سے بے التفاتی کیجیے تب بھی وہ لالچ کا مارا توقعات کی ایک دنیا دل میں لیے، زبان لٹکائے، ہانپتا کانپتا کھڑا ہی رہے گا۔ ساری دنیا کو وہ بس پیٹ ہی کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کہیں کوئی بڑی سی لاش پڑی ہو، جو کئی کتوں کے کھانے کو کافی ہو، تو ایک کتا اس میں صرف اپنا حصہ لینے پر اکتفا نہ کرے گا بلکہ اسے صرف اپنے ہی لیے مخصوص رکھنا چاہے گا اور کسی دوسرے کتے کو اس کے پاس نہ پھٹکنے دے گا۔ اس شہوتِ شکم کے بعد اس پر اگر کوئی چیز غالب ہے تو وہ ہے شَہْوتِ فَرْج۔ اپنے سارے جسم میں صرف ایک شرمگاہ ہی وہ چیز ہے جس سے وہ دل چسپی رکھتا ہے، اور اسی کو سونگھنے اور چاٹنے میں مشغول رہتا ہے۔ پس تشبیہ کا مدعا یہ ہے کہ دنیا پرست آدمی جب علم اور ایمان کی رسی تڑا کر بھاگتا ہے اور نفس کی اندھی خواہشات کے ہاتھ میں اپنی باگیں دے دیتا ہے تو پھر کتے کی حالت کو پہنچے بغیر نہیں رہتا، ہمہ تن پیٹ اور ہمہ تن شرم گاہ۔

ہماری جدیدطرززندگی آج ایسی ہی ہوگئی ہے ۔اس طرزِ زندگی نے بطن وفرج کے اس فتنے کو عالمی سطح پر اپنی پوری قوتِ ابلاغ کے ساتھ پھیلا دیا ہے اور اس کے پیچھے بڑے بڑے دماغ کارفرما ہیں۔ یہ طرزِ زندگی میڈیا کے راستے سے اس قدر چمک دمک کے ساتھ پیش ہو رہا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایمان، قوتِ ارادی اور روحانیت کی نہایت بڑی طاقت درکار ہے جس سے اس فتنہ سامانی کا مقابلہ ہو سکے۔ اس فتنے نے علمِ دین والے پر بھی اپنی پوری طاقت سے حملہ کر رکھا ہے کہ وہ چار دن کی زندگی میں یا تو پیٹ کے تقاضوں کی تکمیل میں لگا رہے، یا پھر فنا ہونے والے حسنِ مجازی کا غلام بن کر رہے۔ آخر یہ اسمارٹ فون جو ہماری خواب گاہ کی تنہائی میں بھی ہمارے ساتھ ہیں، اس فتنے کی تکمیل میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں، ہم میں سے ہر شخص اپنی تنہائی کا اخلاص سے محاسبہ کر کے خود ہی جان سکتا ہے۔

Leave a Reply