سونے کے بعد نظر آنے والی مذی کا حکم

سونے کے بعد نظر آنے والی مذی کا حکم

خواب میں برے خیالات دیکھ کر مذی نکلنے سے غسل فرض ہو گا کہ نہیں ۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں

سائل:سلطان خان

الجواب بعون الملک الوہاب .

خواب دیکھ کر نکلنے والی تری کے مذی ہونے کاعلم خواب ہی میں ممکن نہیں بلکہ بیدار ہونے کے بعد علم ہوگا کہ منی ہے یا مذی یا ودی بہرحال بیدار ہونے پر تری نظر آئی اور اس تری کے مذی ہونے کا یقین ہے تو غسل واجب ہے اور اگر مذی ہونے کا احتمال ہے تو خواب میں احتلام یاد ہونے کی صورت میں غسل واجب اور خواب یاد نہ ہونے کی صورت میں غسل واجب نہیں۔

فتاوی رضویہ میں ہے "اب رہیں تین صورتیں (٤) اُس تری کے منی ہونے کا احتمال ہو (٥) مذی ہونے کا علم ہو(٦) منی نہ ہونا تو معلوم مگر مذی ہونے کا احتمال ہو۔پس اگر خواب میں احتلام ہونا یاد ہے تو ان تینوں صورتوں میں بھی بالاتفاق نہانا واجب ہے۔

"فی رد المحتار یجب اتفاقا اذا علم انہ مذی اوشک مع تذکر الاحتلام اھ”(ردالمحتار کتاب الطہارۃ ۱ /۱۱۰)

اور اگر احتلام یاد نہیں تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک ان تینوں صورتوں میں اصلا غسل نہیں وھو الاقیس وبہ اخذ الامام الاجل العارف باللّٰہ خلف بن ایوب والامام الفقیہ ابو اللیث السمرقندی کما فی الفتح وغیرہ۔

شکل اخیر یعنی ششم میں طرفین یعنی حضرت سیدنا امام اعظم وامام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہما بھی امام ابویوسف کے ساتھ ہیں یعنی جہاں نہ منی کا احتمال نہ مذی کا یقین بلکہ مذی کا احتمال ہے غسل بالاتفاق واجب نہیں فی رد المحتارلایجب اتفاقا فیما اذا شک فی الاخیرین (یعنی المذی والودی) مع عدم تذکر الاحتلام۔(ردالمحتار، کتاب الطہارۃ،۱/

(فتاوی رضویہ،ج١،ص٦٢٧ تا ٦٣٢)۔

واللہ تعالٰی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمد مصباحی قادری

١٤جون٢٠٢١

Leave a Reply

%d bloggers like this: