سولر انرجی سے گرم شدہ پانی سے وضو و غسل

سولر انرجی سے گرم شدہ پانی سے وضو و غسل

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

سوال : دھوپ سے گرم شدہ پانی سے وضو یا غسل کرنا مضر صحت ہے آج کل کئ جگہوں پر مساجد وغیرہ ایک جدید قسم کا ہٹکر لگاتے ہیں جو سورج کی شعاعوں سے پانی گرم کرتا ہے جس سے رات بھر پانی گرم رہتا ہے کیا وہ پانی بھی دھوپ سے گرم شدہ مانا جائے گا ۔ایسے پانی سے وضو اور غسل کا کیا حکم ہے؟

ساٸل:محمد حسین نعمانی گجرات کچھ

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب۔

اس پانی سے گرم ہونے کی حالت میں بھی وضو و غسل کرنا بلا کراہت جائز اور غیر مضر ہے کہ وہ پانی دھوپ سے گرم شدہ پانی نہیں ہے بلکہ سورج کی شعائیں اس ہیٹر میں اپنا عمل کرتی ہیں اور پانی میں وہ ہیٹر اپنا عمل کرکے گرم کرتا ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے بجلی کا آلہ کہ بجلی اس آلہ میں اور آلہ پانی میں عمل کرکے گرم کرتا ہے اور کراہت تنزیہی و اندیشہ برص اس وقت ہے جب گرم ملک اور گرم موسم میں سونے چاندی کے سوا دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم شدہ پانی سے وضو و غسل کیا جاے۔

فتاوی رضویہ میں ہے "گرم ملک گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہوجائے وہ جب تک ٹھنڈا نہ ہولے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے غسل سے نہ پینے سے یہاں تک کہ جو کپڑا اس سے بھیگا ہو جب تک سرد نہ ہوجائے پہننا مناسب نہیں کہ اُس پانی کے بدن کو پہنچنے سے معاذ اللہ احتمالِ برص ہے”(ج٢، ص٤٦٥)

واللہ تعالی اعلم

مفتی شان محمد القادری المصباحی

٢٩نومبر٢٠١٩

Leave a Reply

%d bloggers like this: