شہر بریلی کو بریلی شریف کہنا کیسا ہے ؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی

شہر بریلی کو بریلی شریف کہنا کیسا ہے ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

بریلی شریف کا نام لیتے ہوئے لفظ شریف پر ایک دیوبندی سے میری سخت بحث ہوگئ ہے اس کا کہنا تھا کہ شریف آپ نے کیوں لگایا ہے اور کیسے لگایا ہے ۔ اس سلسلہ میں علمائے کرام سے میری گزارش ہے کہ آپ میری رہنمائی فرمائیں تاکہ میں اسے جواب دے سکوں۔

المستفتی: حاجی محمد افضل ضیا،تھنہ منڈی بذریعہ محمد عرفان بھٹی سربراہ اعلی سنی تحریک کونسل، راجوری،جموں وکشمیر

وعليكم السلام ورحمة الله تعالى وبركاته

باسمه تعالى وتقدس

الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب:

یوں تو اللہ رب العزت کی پیدہ کردہ ہر چیز بے مثال ہے خواہ جن وانس ہوں یا ملائکہ کرام آسمان ہو یا زمین وغیرہ لیکن جن خوش نصیبوں کو اللہ رب العزت نے اپنا قرب عطا فرمایا وہ جس خطہ ارضی پر جلوہ افروز ہوگئے وہ خطہ ہمیشہ کے لیے مقدس ہوگیا اور اسکو یہ شرافت اللہ والوں کی وجہ سے حاصل ہوئی یوں ہی جس زمانہ اور جس چیز کو اللہ والوں سے نسبت ہوگئی نسبت کی وجہ سے وہ بھی معزز ہوگئے مثلا جس زمانہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جلوہ گری ہوئی باری تعالی نے اس زمانے کی قسم کھائی اور جس شہر میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رونق افروز ہوئے اس شہر کی بھی قسم کھائی اور قسم کی وجہ یہ بتائی کہ محبوب تم اس زمانے اور شہر میں تشریف فرما ہو اور قسم محترم چیز ہی کی کھائی جاتی ہے،

چناچہ ارشاد باری تعالی ہے”والعصر” زمانہ محبوب کی قسم،

لفظ”والعصر” کی تفسیر میں صدر الافاضل فخر الاماثل علامہ نعیم الملة والدین قدس سرہ العزیز رقمطراز ہیں

” سب سے لذیذ وراجح تفسیر وہی ہے جو حضرت مترجم قدس سرہ نے اختیار فرمائی کہ زمانہ سے مخصوص زمانہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا مراد ہے جو بڑی خیر وبرکت کا زمانہ اور تمام زمانوں میں سب سے زیادہ فضیلت وشرف والا ہے اللہ تعالی نے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے زمانہ مبارک کی قسم یاد فرمائی اور جیسا کہ”لا اقسم بھذا البلد” میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مسکن ومکان کی قسم یاد فرمائی اور جیسا کہ (لعمرک) میں آپ کی عمر شریف کی قسم یاد فرمائی اور اسمیں شان محبوبیت کا اظہار ہے”(کنز الایمان مع خزائن العرفان ص ۱۰۸۲)

اور فرماتا ہے ۔ "لا اقسم بھذا البلد،وانت حل بھذا البلد(سورة البلد:آیت:۱، ۲)

ان آیات مقدسہ کی تفسیر میں حضور صدر الافاضل علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں

"(۲)یعنی مکہ مکرمہ کی(۳) اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ عظمت مکہ مکرمہ کو سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی رونق افروزی کی بدولت حاصل ہوئی”(حوالہ سابق ص ۱۰۷۱)

اور اصحاب کہف کے کتے کو اصحاب کہف سے نسبت ہوگئی تو نسبت کی وجہ سے وہ بھی ممتاز ہوگیا اور اللہ رب العزت نے اس کو وہ مقام عطا فرمادیا جو اسکے ہم مثلوں کو نہ مل سکا اللہ پاک نے اسے اتنا نوازا کہ اسکو ان حیوانات میں شامل فرما دیا جو جنت میں جائیں گے اور اسکی ادا اللہ پاک کو اتنی پسند آئی کہ آپنی مقدس کتاب قرآن عظیم میں بیان فرمائی چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے”وكلبهم باسط ذراعيه بالوصید” ان کے علاوہ اور بہت ساری مثالیں ہیں طوالت کی وجہ سے ہم انہیں پر اکتفا کرتے ہیں-

ألاشباه والنظائر اور اسکی شرح غمز عیون البصائر میں ہے

"ليس من الحيوان من يدخل الجنة الا خمسة:كلب اصحاب الكهف وكبش اسماعيل، وناقة صالح وحمار عزير،وبراق النبى صلى الله عليه وسلم-

قوله:ليس من الحيوان من يدخل الجنة الا خمسة الخ اي:من الحيوان الذى لا نطق له والا فالانسان حيوان. قال فى شرح شرعة الاسلام قال مقاتل رحمه الله:عشرة من الحيوانات تدخل الجنة:ناقة محمد عليه الصلاة والسلام-وناقة صالح عليه السلام-وعجل ابراهيم عليه السلام-وكبش اسماعيل عليه السلام-وبقرة موسى عليه السلام-وحوت يونس عليه السلام-وحمار عزير عليه السلام-ونملة سليمان عليه السلام-وهد هد بلقيس-وكلب أهل الكهف كلهم يحشرون كذا في مشكاة الانوار”(ج۴ ص ۱۳۱/المكتبة الشاملة الحديثة)

رہا دیوبندی کا اعتراض کہ بریلی شریف کے ساتھ آپ نے لفظ”شریف”کیوں لگایا ہے اور کیسے لگایا ہے اس سے اس کا مقصد یہ ہے کہ مقامات مقدسہ مثلا مدینہ شریف،بغداد شریف،اجمیر شریف،وغیرہ کے ساتھ لفظ شریف نہیں لگا سکتے تو اسکا یہ اعتراض بغض وعناد اور جہالت پر مبنی ہے ۔ اگر اسکو اللہ والوں سے محبت ہوتی تو ہرگز ایسی جراءت نہ کرتا اور اگر اس نے اپنے گھر کا فتوی ہی پڑھ لیا ہوتا تو اعتراض ہی نہ کرتا ۔ اب ہم اس سلسلہ میں دیوبند کا فتوی مع سوال وجواب نقل کرتے ہیں ۔

"سوال نمبر:37899
سوال:- کیا کسی شہر کو شریف کہہ سکتے ہیں؟جیسے بغداد شریف اور اجمیر شریف وغیرہ؟ اور کیوں؟

جواب نمبر:37899
بسم الله الرحمان الرحيم
جگہ میں شرافت ہونے کی صورت میں شریف کا استعمال اس جگہ کے لیے ہو سکتا ہے،اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہر جگہ زمین ہونے کے اعتبار سے برابر ہے،کسی جگہ کو کسی جگہ پر فضیلت نہیں ہے،البتہ اس جگہ کی فضیلت خارجی وجہ سے ہوتی ہے،مثلا کسی جگہ میں مسجد یا مدرسہ کی تعمیر کر لی جائے یا کسی جگہ کو نوافل اذکار وغیرہ کے لیے خاص کر لیا جائے تو اس جگہ کی فضیلت ان چیزوں کی وجہ سے ثابت ہو جائے گی،یہی حال اس جگہ کا بھی ہے،جس جگہ میں انبیائے کرام یا اولیائے عظام میں سے کوئی مدفون ہو،اسی وجہ سے علماء نے صراحت کی ہے کہ وہ جگہ جس میں آپ علیہ السلام مدفون ہیں،وہ عرش سے بھی افضل ہے،یہ اسی وجہ سےکہ سید الاولین والآخرین اس جگہ مدفون ہیں،ومكة أفضل منها على الراجح الا ما ضم أعضائه عليه الصلاة والسلام مطلقا حتى من الكعبة والعرش والكرسى(در مختار ۵۲ ۵۳/ ۴) واللہ تعالی اعلم دار الافتاء، دار العلوم دیوبند-

مقا مات مقدسہ مثلا مدینہ شریف، بغداد شریف،اجمیر شریف،بریلی شریف،شاہدرہ شریف،لار شریف وغیرہ کے ساتھ لفظ "شریف” لگانے میں شرعا کوئی قباحت نہیں بلکہ "شریف” لگانے میں فضل عظیم اور خیر کثیر ہے اور کاہلی وسستی کی وجہ سے نہ لگانے میں سخت بے برکتا اور انعامات مذکورہ سے محروم ہے-اگر نہ لگانا مذکورہ مقامات کی شرافت نہ ماننے کی وجہ سے ہو تو گمراہی وبددینی اور اللہ رب العزت سے دشمنی مول لینا ہے اور دشمن خدا کا ٹھکانہ جہنم ہے-

اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سے اسی طرح کا سوال ہوا کہ
"اگر کوئی مولوی اپنے مدرسہ کے دروازہ پر اور خلافت کے بورڈ پر اور خلافت کی ٹوپی پر اور خلافت کی رسید پر فقط اجمیر لکھے کیا اجمیر کے ساتھ لفظ شریف نہ لکھنا اور اصلی نام غلام معین الدین پر غلام نہ لکھنا خلاف عقیدہ اہلسنت ہے یا نہیں،بینوا توجروا،

الجواب:اجمیر شریف کے نام پاک کے ساتھ لفظ شریف نہ لکھنا اور ان تمام مواقع میں اس کا التزام کرنا اگر اس بنا پر ہے کہ حضور سیدنا خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ کی جلوہ افروزی حیات ظاہری ومزار پر انوار کو(جن کے سبب مسلمان اجمیر شریف کہتے ہیں) وجہ شرافت نہیں جانتا تو گمراہ بلکہ عدواللہ ہے،

صحیح بخاری شریف میں ہے،رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیه وسلم فرماتے ہیں،اللہ عزوجل فرماتا ہے،من عاد لی ولیا فقد آذنته بالحرب،اور اگر یہ ناپاک التزام بربنائے کسل وکوتہ قلمی ہے تو سخت بے برکت اور فضل عظیم وخیر جسیم سے محروم ہے،کما افادہ الامام المحقق محى الدين ابو زكريا قدس سره فى الترضى،اور اگر اس کا مبنی وہابیت ہے تو وہابیت کفر ہے،اس کے بعد ایسی باتوں کی کیا شکایت،ع ماعلی مثله یعد الخطاء- اپنے نام سے لفظ غلام کا حذف اگر اس بنا پر ہے کہ حضور خواجہ خواجگان رضی اللہ تعالی عنہ وعنہم کا غلام بننے سے انکار واستکبار رکھتا ہے،تو بدستور گمراہ اور بحکم حدیث مذکور عدواللہ ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم،قال تعالی "الیس فی جھنم مثوی للمتکبرین” اور اگر بر بنائے وہابیت ہے کہ غلام اولیائے کرام بننے والوں کو مشرک اور غلام محی الدین وغلام معین الدین کو شرک جانتا ہے،تو وہابیہ خود زندیق بے دین،کفار ومرتدین ہیں”وللکافرین عذاب مھین”واللہ تعالی اعلم،(فتاوی رضویہ ج ۶ ص ۱۸۷ تا ۱۸۸)

حاصل یہ کہ مقامات مقدسہ کے ساتھ لفظ شریف لگانا جائز ہے اور باعث خیر وبرکت ہے – واللہ تعالی اعلم بالصواب

کتبہ محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خادم دار العلوم نظامیہ نیروجال،راجوری،جموں وکشمیر

۲/جمادی الآخرہ ۱۴۴۳ھ مطابق ۶/جنوری ۲۰۲۲ء

الجواب صحيح : محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Leave a Reply

%d bloggers like this: