مشروط وعدہ طلاق کی صورت میں طلاق کا حکم؟ از مفتی کمال احمد علیمی

مشروط وعدہ طلاق کی صورت میں طلاق کا حکم؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید اور ہندہ کے درمیان آپسی رنجش تھی کہ اسی درمیان ہندہ نے زید کا موبائل چھپا دیا زید بہت پریشان تھا اپنے پورے روم میں تلاش کیا نہیں ملا ۔ ہندہ سے پوچھا کیا آپ نے لیا ہے ۔ ہندہ نے انکار کر دیا ۔ پھر زید نے کہا

خدا کی قسم کھا کر کہو کہ موبائل نہیں لی ہوں ۔ ہندہ نے قسم بھی کھا لی ۔  پھر زید نے کہا اگر میرا موبائل نہیں دو گی تو ہم تمہیں طلاق دے دیں گے ۔ پھر تھوڑی دیر بعد ہندہ نے موبائل واپس کیا ۔ لیکن اب ہندہ کا کہنا ہے کہ میری طلاق ہو گئی ہے آپ مجھ سے دور رہیں ۔
کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گی ۔
اگر واقع ہو گئ تو ایک ہونے کی صورت کیا ہوگی ۔
المستفتی : عبداللہ

الجواب بعون الملک الوھاب:

مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی، کیوں کہ شوہر نے موبائل نہ دینے کی صورت میں طلاق نہیں دی ہے بلکہ طلاق دینے کا وعدہ کیا ہے اور طلاق دینے اور وعدہ طلاق میں بہت فرق ہے اسی لیے یہ کہنے سے طلاق نہیں ہوتی کہ میں طلاق دے دوں گا ۔ اس لئے صورتِ مسئولہ میں اگر وہ موبائل نہ بھی دیتی تب بھی طلاق واقع ہونے کا حکم نہ ہوتا ۔ فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ہے ۔

ذیل میں سوال اور جواب دونوں نقل کیا جارہا ہے:

"زید اپنی ساس ہندہ کے یہاں رہتا تھا ہندہ نے اس سے مکان خالی کرنے کو کہا اس نے انکار کیا ۔ اس نے اس کا اسباب پھینک دینا چاہا ۔ اُس نے کہا اگر میرا اسباب پھینکوگی تو میں تمہاری لڑکی کو طلاق دے دوں گا ۔ اس پر دو۲مرد اور ایک عورت تویہ گواہی دیتے ہیں کہ زید نے ہمارے سامنے طلاق دے دی، اور دو۲ مرد کہتے ہیں اس نے صرف یہ کہا کہ مال پھینکا تو طلاق دے دُوں گا ۔ نہ اس نے پھینکا نہ اس نے طلاق دی ۔ زید بھی طلاق دینے سے انکار کرتا ہے ۔ اس صورت میں طلاق ثابت ہے یانہیں؟بینواتوجروا ۔

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ

ان دو۲ مردوں اور ایک عورت جو مدعی طلاق تھے ایک مرد کی نسبت معلوم ہوا کہ بے قید آدمی ہے یہاں تک کہ نماز کا بھی پابند نہیں، اور ایک مرد پہلے کہتا تھا اب وُہ منکر ہے کہ میرے سامنے طلاق نہ دی میں سُنی سُنائی کہتا تھا اور اس عورت کی عدالت معلوم نہیں، اور ہو بھی تو ایک عورت

کی گواہی سے ثبوت نہیں ہوتا اور زید نے ہمارے سامنے حلف شرعی کے ساتھ کہا کہ میں نے ہرگزطلاق نہ دی میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ مال پھینکوگی تو طلاق دے دوں گا، پس اس صورت میں طلاق ثابت نہیں۔”
(فتاوی رضویہ ج۵)
اسی میں ہے:
"زید نے اپنی بی بی سے کہا کہ اگر تو میکے سے میرے گھر نہ آئی تو تجھ کو طلاق دے دوں گا، عورت دوبرس اپنے میکے میں رہی، پھر اس عورت نے دوسرے مرد کے ساتھ نکاح ثانی کرنے کا قصد کیا ، شوہر نے کہا کہ میں نے تجھے طلاق نہیں دی تو نکاح کیسا کرتی ہے اگر مجھ کو سو۱۰۰روپےدے تو میں تجھے طلاق دے دوں، عورت نے سو۱۰۰ روپے دے دئے شوہرنے طلاق دے دی، اب اس پر عدت پوری کرنا چاہئےیا نہیں ؟ بینواتوجروا ۔

الجوابـــــــــــــــــــــ

ضرور، اور اس کا دوبرس خواہ دس برس شوہر سے جدا رہنا مسقط عدت نہیں ہوسکتا،لاطلاق قولہ تعالٰی والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء”
(فتاوی رضویہ ج۵)
واللہ اعلم بالصواب ۔

کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
١٩ جمادی الأولی ١٤٤٣/ ٢٣ دسمبر ٢٠٢١.
الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

Leave a Reply