شہوت کنٹرول کرنے کے لیے مشت زنی کرنا کیسا ہے؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری

شہوت کنٹرول کرنے کے لیے مشت زنی کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ
مفتیان عظام کی بارگاہ میں سوال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ "ناکح الید ملعون ” مگر کوئی شخص اپنی شھوت کنڑول کرنے کیلئے ہمیشہ مشت زنی کرتا ہے تو کیا صورت حال ہوگی اور یہ بھی بتادے کہ اگر شخص عادی ہے تو کیسے اس عادت سے بچے اور مشت زنی کے نقصانات شرعی نظریہ سے بتائے جواب عنایت فرمائے.
سائل :محمد عمران

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ

قرآنِ مقدس نے جنسی شہوت پوری کرنے کے لیے دو طریقے (١) بیوی اور(٢) کنیز یعنی باندی بیان فرمائے اور ان دو کے علاوہ کسی اور طریقہ کو سرکشی قرار دیا۔ ارشاد ہے:
"والذين هم لفروجهم حٰفظون الا على أزواجهم او ما ملكت ايمانهم فإنهم غير ملومين، فمن ابتغى وراء ذلك فاولئك هم العادون”
(اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر اپنی بیویوں اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی کنیزوں سے، کہ ان پر کچھ ملامت نہیں۔ تو جو ان دو کے سوا اور چاہے وہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔سورہ مومنون: آیت 7/6/5)

اسی لیےجس شخص کو یہ اندیشہ یعنی ظنِ غالب ہو کہ اگر نکاح نہیں کرلیتا تو مشت زنی کی نوبت آجائے گی تو ایسے شخص کو نکاح کرلینا واجب ہے، بشرطے کہ نان و نفقہ پر قدرت کے سبب نکاح کی استطاعت ہو۔

صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
"شہوت کا غلبہ ہے کہ نکاح نہ کرے تو معاذ اللہ اندیشۂ زنا ہے اور مہر ونفقہ کی قدرت رکھتا ہو تو نکاح واجب۔یوں ہی جبکہ اجنبی عورت کی طرف نگاہ اُٹھنے سے روک نہیں سکتا یا معاذ اللہ! ہاتھ سے کام لینا پڑے گا تونکاح واجب ہے”
(بہارِ شریعت ح٧ ص٦)

ہاں! اگر کسی غیر شادی شدہ شخص پر اتنا زیادہ شہوت کا غلبہ ہے کہ لوگوں کے پاس بیٹھنے یا کسی کام کی طرف دھیان لگانے غرض کسی تدبیر سے جوش کم نہ ہو جس کی وجہ سے زنا کاری کا اندیشہ یا یقین ہو تو صرف تسکینِ شہوت کی نیت سے مشت زنی منع نہیں ہے ۔ لیکن پھر بشرطِ استطاعت اس کو نکاح کی تدبیر کرنی لازم ہے نہ یہ کہ اس عمل کو عادت بنالے ۔

امام اہلِ سنت مجددِ دین وملت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
"ہاں اگر کوئی شخص جوان تیز خواہش ہو کہ نہ زوجہ رکھتا ہو نہ شرعی کنیز، اور جوشِ شہوت سخت مجبور کرے اوراس وقت کسی کام میں مشغول ہوجانے یا مردوں کے پاس جابیٹھنے سے بھی دل نہ بٹے، غرض کسی طرح وہ جوش کم نہ ہو یہاں تک کہ یقین یاظنِ غالب ہوجائے کہ اس وقت اگر یہ فعل نہیں کرتا تو حرام میں گرفتار ہوجائے گا تو ایسی حالت میں زنا ولواطت سے بچنے کے لئے صرف بغرضِ تسکینِ شہوت نہ کہ بقصدِ تحصیلِ لذت و قضائے شہوت اگر یہ فعل واقع ہو تو امید کی جاتی ہےکہ اللہ تعالٰی مواخذہ نہ فرمائے گا۔

پھر اس کے ساتھ ہی واجب ہے کہ اگر قدرت رکھتا ہو فورا نکاح یا خریداری کنیزِ شرعی کی فکر کرے ورنہ سخت گنہ گار ومستحق لعنت ہوگا۔ یہ اجازت اس لئے نہ تھی کہ اس فعلِ ناپاک کی عادت ڈال لے اور بجائے طریقہ پسندیدہ خدا ورسول اسی پر قناعت کرے۔

طریقہ محمدیہ میں ہے :اما الاستمناء فحرام الا عند شروط ثلثۃ ان یکون عزبا و بہ شبق وفرط شہوۃ (بحیث لو لم یفعل ذٰلک لحملتہ شدۃ الشہوۃ علی الزناء اواللواط والشرط الثالث ان یرید بہ تسکین الشہوۃ لاقضائھااھ مزیدا من شرحھا الحدیقۃ الندیۃ۔(فتاوی رضویہ ج٢٢ص١٩٨ دعوت اسلامی ایپ)

علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں:
"وَكَذَا الِاسْتِمْنَاءُ بِالْكَفِّ وَإِنْ كُرِهَ تَحْرِيمًا لِحَدِيثِ «نَاكِحُ الْيَدِ مَلْعُونٌ» وَلَوْ خَافَ الزِّنَى يُرْجَى أَنْ لَا وَبَالَ عَلَيْهِ.”
(در مختار، کتاب الصوم)
علامہ شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:
” (قَوْلُهُ: وَكَذَا الِاسْتِمْنَاءُ بِالْكَفِّ) أَيْ فِي كَوْنِهِ لَا يُفْسِدُ، لَكِنَّ هَذَا إذَا لَمْ يُنْزِلْ أَمَّا إذَا أَنْزَلَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ، كَمَا سَيُصَرِّحُ بِهِ وَهُوَ الْمُخْتَارُ، كَمَا يَأْتِي لَكِنَّ الْمُتَبَادَرَ مِنْ كَلَامِهِ الْإِنْزَالُ بِقَرِينَةِ مَا بَعْدَهُ فَيَكُونُ عَلَى خِلَافِ الْمُخْتَارِ (قَوْلُهُ: وَلَوْ خَافَ الزِّنَى إلَخْ) الظَّاهِرُ أَنَّهُ غَيْرُ قَيْدٍ ، بَلْ لَوْ تَعَيَّنَ الْخَلَاصُ مِنْ الزِّنَى بِهِ وَجَبَ؛ لِأَنَّهُ أَخَفُّ۔ وَعِبَارَةُ الْفَتْحِ فَإِنْ غَلَبَتْهُ الشَّهْوَةُ فَفَعَلَ إرَادَةَ تَسْكِينِهَا بِهِ فَالرَّجَاءُ أَنْ لَا يُعَاقَبَ اهـ زَادَ فِي مِعْرَاجِ الدِّرَايَةِ وَعَنْ أَحْمَدَ وَالشَّافِعِيِّ فِي الْقَدِيمِ التَّرَخُّصُ فِيهِ، وَفِي الْجَدِيدِ يَحْرُمُ وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَمْنِيَ بِيَدِ زَوْجَتِهِ وَخَادِمَتِهِ اهـ وَسَيَذْكُرُ الشَّارِحُ فِي الْحُدُودِ عَنْ الْجَوْهَرَةِ أَنَّهُ يُكْرَهُ ، وَلَعَلَّ الْمُرَادَ بِهِ كَرَاهَةُ التَّنْزِيهِ، فَلَا يُنَافِي قَوْلَ الْمِعْرَاجِ يَجُوزُ، تَأَمَّلْ۔ وَفِي السِّرَاجِ إنْ أَرَادَ بِذَلِكَ تَسْكِينَ الشَّهْوَةِ الْمُفْرِطَةِ الشَّاغِلَةِ لِلْقَلْبِ وَكَانَ عَزَبًا لَا زَوْجَةَ لَهُ وَلَا أَمَةَ أَوْ كَانَ إلَّا أَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْوُصُولِ إلَيْهَا لِعُذْرٍ قَالَ أَبُو اللَّيْثِ أَرْجُو أَنْ لَا وَبَالَ عَلَيْهِ، وَأَمَّا إذَا فَعَلَهُ لِاسْتِجْلَابِ الشَّهْوَةِ فَهُوَ آثِمٌ اهـ.

بَقِيَ هُنَا شَيْءٌ وَهُوَ أَنَّ عِلَّةَ الْإِثْمِ هَلْ هِيَ كَوْنُ ذَلِكَ اسْتِمْتَاعًا بِالْجُزْءِ كَمَا يُفِيدُهُ الْحَدِيثُ، وَتَقْيِيدُهُمْ كَوْنَهُ بِالْكَفِّ، وَيَلْحَقُ بِهِ مَا لَوْ أَدْخَلَ ذَكَرَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ مَثَلًا حَتَّى أَمْنَى، أَمْ هِيَ سَفْحُ الْمَاءِ وَتَهْيِيجُ الشَّهْوَةِ فِي غَيْرِ مَحَلِّهَا بِغَيْرِ عُذْرٍ، كَمَا يُفِيدُهُ قَوْلُهُ : وَأَمَّا إذَا فَعَلَهُ لِاسْتِجْلَابِ الشَّهْوَةِ إلَخْ؟ لَمْ أَرَ مَنْ صَرَّحَ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ، وَالظَّاهِرُ الْأَخِيرُ؛ لِأَنَّ فِعْلَهُ بِيَدِ زَوْجَتِهِ وَنَحْوِهَا فِيهِ سَفْحُ الْمَاءِ لَكِنْ بِالِاسْتِمْتَاعِ بِجُزْءٍ مُبَاحٍ، كَمَا لَوْ أَنْزَلَ بِتَفْخِيذٍ أَوْ تَبْطِينٍ بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ بِكَفِّهِ وَنَحْوِهِ، وَعَلَى هَذَا فَلَوْ أَدْخَلَ ذَكَرَهُ فِي حَائِطٍ أَوْ نَحْوِهِ حَتَّى أَمْنَى، أَوْ اسْتَمْنَى بِكَفِّهِ بِحَائِلٍ يَمْنَعُ الْحَرَارَةَ يَأْثَمُ أَيْضًا، وَيَدُلُّ أَيْضًا عَلَى مَا قُلْنَا مَا فِي الزَّيْلَعِيِّ حَيْثُ اسْتَدَلَّ عَلَى عَدَمِ حِلِّهِ بِالْكَفِّ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ} [المؤمنون: 5] الْآيَةُ وَقَالَ فَلَمْ يُبَحْ الِاسْتِمْتَاعُ إلَّا بِهِمَا، أَيْ بِالزَّوْجَةِ وَالْأَمَةِ اهـ فَأَفَادَ عَدَمَ حِلِّ الِاسْتِمْتَاعِ أَيْ قَضَاءِ الشَّهْوَةِ بِغَيْرِهِمَا هَذَا مَا ظَهَرَ لِي۔
(رد المحتار، مطلب فی حکم الاستمناء بالکف)

اور جہاں تک مشت زنی کی غلط عادت سے بچنے کے طریقہ کا سوال ہے تو اس کی تدبیر حدیث شریف میں نکاح بتائی گئی ہے:
"عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ؛ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

(یعنی:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے جوانو! تم میں جو کوئی نکاح کی استطاعت رکھتا ہے وہ نکاح کرے کہ یہ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے سے نگاہ کو روکنے والا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے اور جس میں نکاح کی استطاعت نہیں وہ روزے رکھے کہ روزہ قاطع شہوت ہے۔)

لہذا ایسا شخص نکاح کرے یا روزہ رکھے، لاحول کی کثرت کرے ۔ نماز کی پابندی کرے ۔ فجر بعد پابندی سے سورہ اخلاص کا ورد کرے۔
اعلی حضرت علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
"اسے چاہئے لاحول شریف کی کثرت اور جب شیطان اس حرکت کی طرف بلائے فورا دل سے متوجہ بخدا ہوکر لاحول پڑھے، نماز پنجگانہ کی پابندی کرے، نماز صبح کے بعد بلاناغہ سورۃ اخلاص شریف کا ورد رکھے۔”
(فتاوی رضویہ ج٩ نصف آخر ص١٦٨)

ایک تدبیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس فعلِ بد کے دور رس نقصانات اورمضرتوں کے بارے میں حاذق اور ماہر اطباء نے جو لکھا ہے اس کا مطالعہ کرے۔بالخصوص اس بارے میں خلیفہ اعلی حضرت، مبلغ اسلام حضرت علامہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی علیہ الرحمہ کی شاہکار تصنیف "بہارِ شباب” کا مطالعہ کرے ۔

واللہ الھادی الی الصواب وھو سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔
١١/جمادی الآخرة١۴۴٣ھ//١۵/جنوری٢٠٢٢ء

Leave a Reply

%d bloggers like this: