اپنے رشتہ داروں کو زکوۃ اور صدقات واجبہ دینا

اپنے رشتہ داروں کو زکوۃ اور صدقات واجبہ دینا

ہمارے علاقے میں تقریباً پچانوے (95) فیصد عباسی اور کچھ اعوان کی رہائش ہے، علاقہ پسماندہ اور غریب قوم ہے اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی ہیں تو کیا صاحبِ نصاب لوگ اپنی زکوة و صدقاتِ واجبہ اپنے عزیز و اقارب کو دے سکتے ہیں ؟

سائل : محمد عباس عباسی ایبٹ آباد

بسمہ تعالیٰ

الجواب بعون الملک الوھّاب

اللھم ھدایۃ الحق و الصواب

حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد کو عباسی کہا جاتا ہے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد چونکہ بنو ہاشم میں سے ہے، اور تمام بنی ہاشم پر زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ لینا حرام ہے لہٰذا عباسی حضرات کو زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ نہیں دے سکتے۔

اسی طرح کئی ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق اعوان بھی علوی ہوتے ہیں یعنی حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم کی اولاد میں سے ہیں، اور جب اعوان حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم کی اولاد سے ہیں تو ہاشمی ہوئے کیونکہ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجھہ الکریم ہاشمی ہیں اور تمام بنی ہاشم پر زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ لینا حرام ہے، لہٰذا ان کو بھی زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ نہیں دے سکتے۔

لہٰذا مالدار حضرات کو چاہیئے کہ بطورِ ہدیہ عباسی اور اعوان حضرات کی خدمت زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ اپنے دوسرے مال سے کریں اور اس کو اپنی سعادت مندی سمجھیں اور اگر ایسی صورتحال ممکن نہ ہو تو پھر کسی شرعی فقیر مستحقِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ کا مالک بنادیں پھر اسے عباسی و اعوان حضرات کی خدمت میں پیش کرنے کا مشورہ دیں ۔

چنانچہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :

’’إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس، وإنها لاتحل لمحمد، ولا لآل محمد

یعنی یہ صدقات تو لوگوں کے مَیل ہیں، اور بےشک یہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے نہیں حلال ہیں اور نہ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی آل کے لئے حلال ہیں۔

(صحیح مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب ترک استعمال۔۔۔الخ، رقم الحدیث : 1072، صفحہ 540، دار ابن حزم بیروت)

اس حدیثِ مبارکہ کے تحت حکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

’’یہ حدیث ایسی واضح اور صاف ہے جس میں کوئی تاویل نہیں ہو سکتی یعنی مجھے اور میری اولاد کو زکوٰۃ لینا اس لئے حرام ہے کہ یہ مال کا میل ہے، لوگ ہمارے میل سے ستھرے ہوں ہم کسی کا میل کیوں لیں۔‘‘

(مراٰۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد 3، صفحہ 60، حسن پبلیشرز اردو بازار لاہور)

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف ابنِ ہمام رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

"لایدفع الی بنی ھاشم و ھو ظاھر الروایۃ”

یعنی بنو ہاشم کو (زکوٰۃ و صدقہ واجبہ) نہیں دیا جائے گا اور یہی ظاہر الروایۃ ہے۔

(فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 211، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"و لایدفع الی بنی ہاشم و ھم آل علی و آل عباس و آل جعفر و آل عقیل و آل الحرث بن عبدالمطلب کذا فی الھدایۃ و یجوز الدفع الی من عداھم من بنی ہاشم کذریۃ ابی لھب لانھم لم یناصروا النبی صلی اللہ علیہ وسلم کذا فی السراج الوھاج ھذا فی الواجبات کالزکاۃ و النذر و العشر و الکفارۃ فاما التطوع فیجوز الصرف الیھم کذا فی الکافی”

یعنی (زکوٰۃ اور دیگر صدقہ واجبہ) بنو ہاشم کو نہیں دیا جائے گا اور بنو ہاشم سے مراد (پانچ خاندان) آلِ علی، آلِ عباس، آلِ جعفر، آل عقیل اور آلِ حارث بن عبدالمطلب ہیں، ایسے ہی "الھدایہ” میں ہے۔ ان (پانچ خاندانوں) کے علاوہ بنی ہاشم کو (زکوۃ اور صدقہ واجبہ) دینا جائز ہے جیسے ابولہب کی کی اولاد کو، اس لئے کہ انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِعانت نہیں کی، ایسے ہی "السراج الوھاج” میں ہے۔ یہ حکم واجبات میں ہے جیسے زکوٰۃ، نذر، عشر اور کفارہ۔ پس بہرحال انہیں نفلی صدقہ دینا جائز ہے،ایسے ہی "الکافی” میں ہے۔

(فتاویٰ عالمگیری، کتاب الزکوٰۃ، الباب السابع فی المصارف، جلد 1، صفحہ 189، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

’’باتفاقِ ائمہ اربعہ بنوہاشم اور بنو عبدالمطلب پر صدقہ فرضیہ حرام ہے۔‘‘

(فتاویٰ رضویہ، جلد 10، صفحہ 99، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

"بنی ہاشم کو زکاۃ نہیں دے سکتے۔ نہ غیر انہیں دے سکے، نہ ایک ہاشمی دوسرے ہاشمی کو۔

بنی ہاشم سے مُراد حضرت علی و جعفر و عقیل اور حضرت عباس و حارث بن عبدالمطلب کی اولادیں ہیں۔ ان کے علاوہ جنہوں نے نبی صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اعانت نہ کی، مثلاً ابولہب کہ اگرچہ یہ کافر بھی حضرت عبدالمطلب کا بیٹا تھا، مگر اس کی اولادیں بنی ہاشم میں شمار نہ ہوں گی۔”

(بہارِشریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 931، مکتبۃ المدینہ کراچی)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ "فتاویٰ امجدیہ” میں تحریر فرماتے ہیں :

"سید کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اور دیں گے تو تو ادا نہ ہوگی۔ حدیث میں فرمایا : انما الصدقات اوساخ الناس لاتحل لمحمد و لا لآل محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، اگر وہ ِحاجت مند ہوں تو، اور اموال سے خدمت کریں اور زکوٰۃ ہی کا پیسہ دینا چاہیں تو کسی مستحقِ زکوٰۃ کو دیں اوت مالک کر دیں اوت اس سے کہدیں کہ تو اپنی طرف سے فلاں کو دیدے۔”

(فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، صفحہ 390، مکتبہ رضویہ کراچی)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: