سوانح حیات امام شافعی علیہ الرحمۃ و الرضوان

سوانح حیات امام شافعی علیہ الرحمۃ و الرضوان

امام ابو عبداللہ بن محمد بن ادریس شافعی دوسری صدی ہجری کے عظیم امام اور مجتہد تھے، امام شافعی کا زمانہ علم اور عرفان کے عروج کا زمانہ تھا، ہر طرف علم و حکمت کے دھارے بہہ رہے تھے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی پہنچائی ہوئی احادیث تابعین کے سینوں میں موجزن تھیں، اور ان کے سینوں سے علوم و فنون کے سفینے منتقل ہو رہے تھے، امام شافعی کو امام مالک اور امام محمد بن حسن شیبانی جیسے یکتائے روزگار حضرات سے استفادہ کا فخر حاصل ہوا امام اعظم ابو حنیفہ کی تصانیف کے مطالعہ کا موقعہ ملا اور اخیار تابعین سے روایت کا شرف حاصل ہوا انہوں نے کتاب و سنت سے مسائل کے استخراج کے لیے اصول اور پیمانے وضع کیے اور فقہ میں بڑا نام پیدا کیا ان کی شہرت شرق و غرب میں پھیل گئی اور ان کے ماننے والوں میں بڑے بڑے دانائے روزگار پیدا ہوئے چنانچہ محدثین اور مفسرین کی بڑی اکثریت فقہ شافعی سے ہی تعلق رکھتی ہے اور آج انڈونیشیا ملیشیا مصر اور دیار عرب کے اکثر علاقوں میں آپ کے مقلدین موجود ہیں۔

ولادت و سلسلہ نسب:  امام شافعی کو یہ فخر حاصل ہے کہ ان کا سلسلہ نسب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ملتا ہے، حافظ ابونعیم نے ان کا سلسلہ نسب اس طرح ذکر کیا ہے۔ ابو عبداللہ بن محمد بن ادریس بن العباس بن عثمان بن شافع بن السائب بن عبید بن عبد یزید بن ہاشم بن عبدالمطلب بن عبد مناف غزہ یا عسقلان کے مقام پر ١٥٠ ہجری میں امام شافعی کی پیدائش ہوئی۔(حلیتہ الاولیاء جلد٣ صفحہ٦٧)

عام حالات دو سال کی عمر میں آپ کی والدہ آپ کو لے کر مکہ مکرمہ آگئیں اور آپ نے وہیں پرورش پائی اور سن تمیز سے ہی علوم وفنون کی طرف توجہ کرنی شروع کردی۔ ابتدأ شعر، لغت اور تاریخ عرب کی طرف توجہ تھی اس کے بعد تجوید و قرات اور حدیث وفقہ کی تحصیل شروع کی بارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے مؤطا کو حفظ کر لیا اور اس کے بعد امام مالک کی خدمت میں پہنچے اور ان پر مؤطا کی قرأت کی، امام شافعی نے علوم دینیہ کی طرف اپنے رحجان کا واقعہ خود اس طرح بیان فرمایا ہے کہ میں اشعار سے شغف رکھتا تھا اور عرب بدوؤں سے سماع کرتاتھا، ایک دن میں ذوق و شوق سے لبید کے اشعار پڑھ رہا تھا ناگاہ ایک حجبی نے مجھے نصیحت کی کہ اشعار میں پڑکر کیوں وقت ضائع کرتے ہو جاؤ جاکر فقہ کا علم حاصل کرو، امام شافعی فرماتے ہیں میرے دل پر اس کی بات کابڑااثر ہوا اور میں نے مکہ جاکر ابن عیینہ سےنوٹ لینے شروع کر دیے پھر مسلم بن خالد زنجی کی مجلس میں آیا اور اس کے بعد امام مالک بن انس کی خدمت میں پہنچا۔

اساتذہ: امام شافعی کو اپنے زمانہ میں بہترین افاضل اور یگانہ روزگار افاضل سے استفادہ کا شرف حاصل ہوا، حافظ ابن حجر عسقلانی نے ان اساتذہ میں مسلم بن خالد زنجی، مالک بن انس، ابراہیم بن سعد، سعید بن سالم القداح، دراوردی، عبدالوہاب ثقفی، ابن علیتہ، ابن عینیہ، ابی نمرہ، خاتم بن اسماعیل، ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ، اسماعیل بن جعفر، محمد بن خالد الجندی، عمر بن محمد بن علی بن شافع، عطاف بن خالد المخزومی اور ہشام ابن یوسف الصنعانی، حافظ ذہبی نے ان کے علاوہ محمد بن علی اور عبدالعزیز بن ماجشون کا بھی ذکر کیا ہے۔

امام محمد سے تلمذ یوں تو امام شافعی کے فن حدیث اور فقہ میں اساتذے کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن جس شخصیت کا رنگ ان میں سب سے زیادہ نظر آتا ہے وہ امام اعظم ابو حنیفہ کے شاگرد رشید امام محمد بن حسن شیبانی ہیں، علامہ حصکفی تحریر فرماتے ہیں کہ امام محمد کے مشہور تلامذہ میں سے ایک امام شافعی ہیں۔ امام محمد نے امام شافعی کی والدہ سے شادی کی اور اپنا تمام مال اور کتابیں امام شافعی کے حوالے کر دیں۔ اور امام محمد کی تصانیف کے مطالعہ سے ہی ان میں فقاہت کا ملکہ پیدا ہوا اور امام محمد کے اسی فیضان سے متأثر ہو کر امام شافعی نے کہا جو شخص فقہ میں نام کمانا چاہتا ہو وہ امام ابو حنیفہ کے اصحاب سے استفادہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے استنباط مسائل اور استخراج احکام کی را ہیں ان لوگوں پر کشادہ کر دی ہیں۔ نیز فرماتے ہیں کہ قسم بخدا مجھے فقہاہت ہر گز نصیب نہ ہوتی اگر میں امام محمد کی کتب کا مطالعہ نہ کرتا اور امام شافعی نیز فرماتے ہیں "امن الناس علی فی الفقہ محمد بن الحسن” جس شخص کا فقہ میں مجھ پر سب سے زیادہ احسان ہے وہ امام محمد بن حسن شیبانی ہیں۔

تلامذہ: امام شافعی کے حدیث اور فقہ میں بے شمار شاگرد ہیں جن چند حضرات کا حافظ ابن حجر عسقلانی نے ذکر کیا ہے وہ یہ ہیں سلیمان بن داؤد ہاشمی ، ابوبكر عبد الله بن الزبیر حمیدی، ابراهیم بن منذر جزامی، ابو ثور ابراهیم بن خالد ، احمد بن حنبل، ابو يعقوب يوسف بن یحییٰ مزنی، ربیع ابن سلیمان مرادی، ربیع بن سلیمان جنیدی، عمرو بن سواد عامری، حسن بن محمد بن صباح ، زعفرانی، ابوالولید موسیٰ بن جارود مکی ، یونس بن عبد الاعلی اور ابو یحییٰ محمد بن سعید بن غالب عطار۔

زہد و تقویٰ:  امام شافعی رضی اللہ عنہ علمی و وجاہت اور فقہی متانت کے باوجود عبادت وریاضت اور زہد و تقویٰ میں قدم راسخ رکھتے تھے۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ان کی عبادت کے جو واقعات بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے ہر واقعہ اپنی جگہ ایک خرق عادت اور مستقل کرامت معلوم ہوتا ہے۔
ربیع ابن سلیمان کہتے ہیں کہ امام شافعی رمضان کے نوافل میں ساٹھ مرتبہ قرآن کریم کو ختم کرتے تھے۔ عام ایام میں وہ رات کے تین حصے کرتے، پہلے حصے میں تصنیف و تالیف کا کام کرتے اور دوسرے میں نوافل پڑھتے اور تیسرے حصہ میں نیند کیا کرتے تھے۔ ابراہیم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی سے عمدہ کسی شخص کو نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ کہتے ہیں ان کی نماز مسلم بن خالد کے نماز کے مشابہ تھی اور ان کی نماز مسلم بن جریج کی نماز کے مماثل تھی اور مسلم بن جریج کی نماز عطاکی نماز سے اور عطاکی نماز عبداللہ بن زبیر سے اور عبداللہ بن زبیر کی نماز ابوبکر صدیق سے اور ابوبکر صدیق کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے اور رسول اللہ کی نماز جبریل امین کی نماز سے مشابہ تھی۔
ایک مرتبہ کوئی شخص قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کر رہا تھا "ھذا یوم لا ینطقون ولا یؤذن لھم فیعتذرون” اس آیت کو سنتے ہی امام شافعی کے چہرہ کا رنگ متغیر ہو گیا، جسم پرلرزہ طاری ہوا اور خوف الہٰی کی شدت سے ہوش وحواس جاتے رہے اور وہیں سربہ سجدہ ہو کر گر پڑے جب ہوش آیا تو کہنے لگے
"الھم انی اعوذبک من مقام الکذابین ومن اعراض الجاھلین ھب لی من رحمتک و جللنی بسترک واعف عنی بکرمک ولا تکلمنی الٰی غیرک ولا تقنطنی من خیرک (مرقاۃ ج١ص٢١)

پند و نصائح: امام شافعی کے نصیحت آمیز اقوال اور حکمت سے لبریز کلام کو بھی تذکرہ نویسوں نے جمع کیا ہے جس سے لوگوں کے لیے امام شافعی کی خیر خواہی کے جذبات کا پتہ چلتا ہے۔ امام شافعی طلباء کے بارے میں فرماتے ہیں کہ علم کی طلب کرنا نفلی نماز سے بہتر ہے اور جو شخص دنیا اور اخرت کی سعادت چاہتا ہو وہ علم اور اس کے مقتضی پر عمل کو لازم کرے، نیز فرمایا جو شخص اپنی عزت اور وجابت کو قائم رکھ کر انانیت سے علم حاصل کرنا چاہے وہ کبھی فلاح نہیں پا سکتا، اور جو عجز انکساری سے علم حاصل کرے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ علماء کے بارے میں فرماتے ہیں علماء کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی عیب نہیں کہ وہ دنیا میں رغبت اور آخرت سے زہد کریں، فرمایا علماء کا فقر اختیاری اور جو حال کا فقر اضطراری ہوتا ہے۔ نیز فرمایا جو شخص اپنے احباب کو تنہائی میں نصیحت کرتا ہے وہ اس کی خیر خواہی کرتا ہے۔ اور جو لوگوں کے سامنے اس کو نصیحت کرتا ہے وہ اس کو رسوا کرتا ہے۔ اور فرمایا تواضع بلند کردار لوگوں کی صفت ہے اور تکبر بد خلق لوگوں کا طریقہ ہے آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ اگر علماء اللہ تعالی کے اولیاء نہیں ہوتے تو پھر کوئی شخص اللہ کا ولی نہیں ہوتا کیونکہ وہ جاہلوں کو اپنا دوست نہیں بناتا۔

وصال : سترہ (١٧) امام شافعی پوری زندگی ملت اسلامیہ کی خدمت کرتے رہے، انہوں نے اپنی زندگی کی 54 بہاریں چمن اسلام کی نکھار میں گزار دی اور ماہ رجب کے آخری تاریخ کو جمعہ کی شب مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد (٢٠٤ھ) میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کا مزار مبارک مصر کے شہر قرافہ میں ہے۔ مزنی بیان کرتے ہیں کہ امام شافعی جب مرض موت میں مبتلا تھے میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے پوچھا حضور کیا حال ہے فرمایا دنیا سے کوچ اور احباب سے جدائی کا وقت ہے، موت کا پیالہ پیش ہوا چاہتا ہے، اور نتیجہ اعمال نکلنے والا ہے عنقریب اللہ کے دربار میں حاضری ہوگی، کون جانے کہ میری روح جنت کی طرف روانہ ہوگی جس پر میں اس کو مبارک باد دوں یا نار کی طرف جس پر میں اس سے تعزیت کروں پھر آپ پر گریہ طاری ہو گیا اور اپ وجد کی حالت میں بار بار یہ شعر پڑھتے رہے "تعاظمنی ذہنی فلما قرنتہ، بعفوک ربی کان عفوک اعظما” تو میرے گناہ بہت بڑے بڑے ہیں لیکن میں تیری رحمت کی طرف نظر کرتا ہوں تو وہ میرے گناہوں کی بنسبت کہیں زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

ازقلم؛ محمد اشفاق عالم امجدی علیمی (بچباری آبادپور کٹیہار) ألمتخصص فی الفقہ الحنفی
منجانب؛ المسائل بالدلائل گروپ و امجدی مشن کٹیہار 7866936010

Leave a Reply