مختصر سوانح حیات علامہ سید میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ عنہ

Sawaneh Hayat Allama Sayyad Meer Abdul Wahid Bilgarami

مختصر سوانح حیات علامہ سید میر عبدالواحد بلگرامی رضی اللہ عنہ
از : محمد سلمان رضا واحدی امجدی
مہتمم مدرسہ غوث العلوم گلشن رضا سندیلہ ہر دوئی

تمہید : دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج و اشاعت میں اولیاۓ کرام وصوفیاۓ عظام اور علماۓاسلام نےجو نمایا کردا پیش فرمایا وہ اپنی مثال آپ ہے بلا شبہ انھیں اولیا ۓ کرام وصوفیاۓ عظام میں ایک مجدد اسلام شیخ المشاٸخ قطب الاولیا ٕ علامہ الشاہ سید میر عبد الواحد بلگرامی بھی تھے آپ کا نامِ نامی آب زر سے لکھنے کےقابل ہےآپ آسمانِ علم وفضل اور تصوف و سلوک کےوہ نیر اعظم تھے جن کےعلم و معرفت کی ضیاباریوں سے ایک عالم روشن ہو گیا آپ اپنے دور کے نامور شیخ طریقت اور مشہور مصنف و شاعر تھے ۔۔

سلسلہ نسب اس طرح ہے ۔ حضرت میر سید عبدالواحد بن میر سید ابراہیم بن میر سید قطب الدین بن میر سید ماہرو بن میر سید بڈھ بن میر سید کمال الدین بن میر سید قاسم بن میر سید حسین بن میر سید نصیر بن میر سید حسین بن میر سید عمر بن میر سید دعوة الصغریٰ بن میر سید علی بن میر سید حسین بن میر سید ابوالفرح بن میر سید ابو الفراس بن میر سید ابو الفرح واسطی بن میر سید داٶد بن میر سید حسین بن میر سید یحيٰ بن میر سید زید بن میر سید عمر بن میر سید علی بن میر سید حسن بن میر سید عراقی بن میر سید حسین بن میر سید علی بن میر سید محمد بن میر سید عیسیٰ موتم الاشتبال بن میر سید زید شہید بن میر سید امام زین العابدین بن میر سید امام حسین بن سیدہ فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالی عنہا بنت داناۓ غیوب سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔

تاریخ ولادت :

آپ کی ولادت با سعادت ٩١٢ھ یا ٩١٥ ھ میں ضلع ہردوٸی کے قصبہ سانڈی میں ہوٸی۔

تحصیل علم :

حضرت میر عبدالواحد بلگرامی کے جد اعلی میر بڈھ کے زمانے سے ان کا خاندان باڑی وسانڈی میں مقیم تھا لھذا تعلیم تحصیل علوم اسی علاقے میں ان کے بزرگوں کے زیر تربیت ہوٸی ہوگی آپ کے علمی آثار وسوانح سے اندازہ ہوتا ہے کہ کہ آپ نے علوم متداولہ کی پورے طور سے تحصیل کی تھی آپ اپنے ہم عصر اصحاب علم وفضل میں ممتاز تھے آپ اپنے شیخ طریقت شیخ صفی کے بھی مورد الطاف خاص رہے ہیں آپ نے ان سے ظاہرو باطن استفادہ حاصل کیا شیخ وقت شیخ حسین سکندرہ نے بھی خوب تربیت فرماٸی اور آپ کو ظاہری اور باطنی علوم سے بہرہ ور فرمایا ۔

آپ تحصیل علم میں بلند ہمت رکھتے تھے بعض مشکل مساٸل کے حل کے لٸے آپ نے سیر کا منصوبہ بنایا مگر وہ آپ کے مرشد شیخ صفی کی خاص توجہ کی بدولت حل ہوگۓ ۔۔

میر غلام علی آزاد بلگرامی ان الفاظ میں آپ کا ذکر کرتے ہیں قطبِ فلک و ولایت ومرکز داٸرہ ہدایت بود صاحب آیات ظاہرہ و کرمات باہرہ ۔
(ماثرالکرام ص ٢٥)

بیعت و خلافت : آپ نے شیخ طریقت شیخ صفی سے بیعت حاصل کیا حضرت شیخ صفی کی آپ پر خاص نظر وعنایت تھی آپ اٹھارہ سال کے تھے کہ شیخ صفی کا انتقال ہوگیا ان کے خلیفہ خاص شیخ حسین بن بنی اسراٸیل ساکن سکندرہ نے آپ کی تربیت فرماٸی اور خرقہ خلافت سے سر فراز فرمایا ۔

شیخ حسین نے سلسلہ چشتیہ کے علاوہ آپ کو سلسلہ قادریہ سہروردیہ میں بھی خلافت سے سرفراز فرمایا ۔۔۔۔
(سبع سنابل شریف ص ١١ )

تصانیف اور علمی خدمات:

آپ کو تصنیف و تالیف سے خاص مناسبت تھی آپ کا خاص ماضوع تصوف تھا آپ نے نحو کی مشہور کتاب کافیہ کی شرح تصوف میں لکھی آپ کی تصانیف میں مندرجہ ذیل کتابوں کے نام ملتے ہیں ۔

١ دیوان ٢ ساقی ٣ شرح گلشن راز ٤ شرح مصطلحات دیوان حافظ ٥ شرح الکافیہ فی التصوف ٦ حقاٸق ہندی ٧ شرح نزہة الارواح ٨شرح غوثیہ ٩مکاتیب ثلاثہ ١٠ حل شبہات ١١ انبہ و خرپزہ ١٢ شرح معمہ قصبہ چہار برادر ١٣ تفسیر مفیض المحبت ١٤ مجموعہ اوراد ١٥ سبع سنابل شریف
( اصح التواریخ ص ١١٩ )

بارگاہ مصطفی میں سبع سنابل شریف کی مقبولیت:: ایک موقع پر رمضان المبارک کی مہینے میں ١١٣٥ھ حضرت علامہ غلام علی أزاد بلگرامی نے دار الخلافت شاہجہاں آباد میں شاہ کلیم اللہ چشتی کی زیارت کی حضرت سید میر عبد الواحد کا ذکر درمیان میں آیا شیخ نے حضرت میر صاحب کے مناقب ومأثر دیر تک بیان کۓ اور فرمایا ایک رات میں مدینہ منورہ میں سو رہا تھا خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں اور سید صبغت اللہ بروجی ایک ساتھ رسالت پناہ صلی اللہ علہ وسلم کی پاک مجلس میں حاضر ہیں صحابہ کرام اور اولیاۓ امت کی ایک جماعت موجود ہے ان میں ایک شخص ہے جس کے ساتھ حضور مسکرا کر گفتگو فرما رہے ہیں اور پوری طرح متوجہ ہیں ۔۔ جب آپ کی مجلس اختتام پذیر ہوٸی تو میں نے سید صبغت اللہ سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس کی طرف حضور کی اس قدر توجہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ میر عبد الواحد بلگرامی قدس سرہ ہیں ان کی طرف زیادہ توجہ کا سبب یہ ہے کہ ان کی کتاب ” سبع سنابل شریف ” حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مقبول ہو گٸ ۔۔۔۔۔۔۔
حضرت میر عبد الواحد بلگرامی کی تمام زندگی رشد و ہدایت تعلیم و تذکیر اصلاح و تربیت تصنیف و تالیف سے عبارت رہی۔

عقد و اولاد:

آپ نے یکے بعد دیگرے دو عقد کٸے اور دونوں سےصاحبِ اولاد تھے پہلی بیوی سے میر عبد الجلیل رحمہ اللہ علیہ اور ایک صاحبزادی بی بی مریم تھیں پہلی بیوی شیخ عبد الداٸم عثمانی بلگرامی( محلہ قاضی پورہ ) کی صاحبزادی تھیں۔۔
دوسری بیوی قنوج کی تھیں ان کے بطن سے تین صاحبزادے میر فیروز علیہ الرحمہ میر یحيٰ علیہ الرحمہ میر طیّب علیہ الرحمہ اور ایک بیٹی بی بی شاہا تھیں
( سبعِ سنابل شریف ص ١٨)

آپ کی عمر اور تاریخِ وفات :: آپ نے سو سال سے زیادہ عمر پاٸی آ پ سکندر لودی کے عہد میں پیدا ہوۓ اور جہانگیر کے زمانے میں آپ کا وصال رمضان المبارک کی تیسری تاریخ ایک ہزار سترہ ھجری۔ ١٠١٧ ھ میں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
( ماثر الکرام فی تاریخ بلگرام ص ٨٩ )

مجددِ دین وملت الشاہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی نے آپ کی بارگاہ میں منظوم خراج عقیدت یوں پیش فرمایا ۔

اللہ اللہ عز و شان و احترامِ بلگرام
عبد واحد کے سبب جنت ہے نامِ بلگرام

روز عرس آوارگان دشت غربت کے لٸے
من و سلویٰ ہیں مگر خبز و ادامِ بلگرام

اللہ تعالی ہمیں بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنے کی تو فیق عطا فر ماۓ ۔آمین بجاہ طہ و یس

Leave a Reply