رکاڈنگ یا لائیو آیتِ سجدہ سننے سے سجدہ کا حکم

رکاڈنگ یا لائیو آیتِ سجدہ سننے سے سجدہ کا حکم

ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ

کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ رکا ڈنگ یا ٹیلی ویژن پر لائیو آیت سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت واجب ہوگا یا نہیں؟

الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب

مذکورہ صورت میں موبائل یا ٹیلی ویژن پر آیتِ سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوگا چاہے لائیو(براہِ راست) سنی ہو یا ریکارڈنگ کے ذریعے سنی ہو کیونکہ یہ صدائے بازگشت(گونج) کے حکم میں ہے اور فتویٰ اسی پرہے کہ جو تلاوت صدائے بازگشت کے حکم میں ہو اس پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہوگا-
صدائے بازگشت سے مراد وہ آواز ہے جو پہاڑ یا صحراء وغیرہ میں آپ کو آپ کی آواز کی طرح جواب دیتی ہے-

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فتاویٰ رضویہ شریف میں اس پر بڑا تحقیقی جواب تحریر فرمایا ہے
جس کا خلاصہ یہ ہے- کہ گنبد کے اندر یا پہاڑ یا چکنی گچ کردہ دیوار کے پاس اور کبھی صحرا میں بھی خود اس پنی آواز پلٹ کر دوبارہ سنائی دیتی ہے جسے عربی میں صدا کہتے ہیں، ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس کے سننے سے بھی سجدہ واجب نہیں ہوتا، نہ خود قاری پر نہ سامع اول پر جس نے تلاوت سن کر دوبارہ یہ گونج سنی نہ نئے پر جس نے پہلی تلاوت نہ سنی تھی اور یہ صداہی سنی کہ حکم مطلق ہے-
(فتاویٰ رضویہ جلد23، صفحہ 448- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
(مزید فرماتے ہیں مختصر یہ ہے کہ سجدہ سماعِ اول پر ہے، نہ کہ مُعاد پر، اگرچہ خاص اس سامع کی نظر سے مکرر نہ ہو اور شک نہیں کہ سماعِ صدا، سماعِ معاد ہے اور فونو کی تو وضع ہی اعادہ سماع کے لئے ہوئی ہے، لہٰذا ان سے ایجابِ سجدہ، سجدہ واجب)نہیں-
(فتاویٰ رضویہ جلد23، صفحہ 452- رضا فاؤنڈیشن لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ

1 thought on “رکاڈنگ یا لائیو آیتِ سجدہ سننے سے سجدہ کا حکم”

  1. ماشاء اللہ بہت بہترین کام کررہےہیں آپ حضرات،
    اللہ تعالٰی آپ حضرات کے علم وعمل میں خوب خوب برکتیں عطا فرمائے

    جواب دیں

Leave a Reply