صدری یاجاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کر نماز پڑھنا، کیسا ہے ؟ 

صدری یاجاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کر نماز پڑھنا، کیسا ہے ؟

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

الـســــــوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ حالتِ نماز میں جاکیٹ یہ صدری وغیرہ کی چین یہ بٹن کھلی ہوتو کیا نماز میں کوئی کمی تو نہیں آئےگی شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

المستفتی نظام رضا کانپوری یوپی

وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ

الجـــــوابــــــــــــــــــ: بعون الملک الوہاب

صدری یا جاکیٹ کی چین یا بٹن کھول کراگر نماز پڑھی گئی تو نماز میں کوئی کمی نہیں آئےگی .
چنانچہ سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: کہ انگرکھے پر جو صَدری یا چُغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں ان کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے، تو اس میں بھی حرج نہیں ہونا چاہئے، کہ یہ خلاف معتاد نہیں ۔
(( فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 386، رضا فاؤنڈیشن، لاھو ر))

نیز فتاوی فقیہ ملت میں ہے: کہ اس طرح کپڑا پہن کر نماز پڑھی کہ نیچے کرتے کا سارا بٹن بند ہے اور اُوپر شیروانی یا صَدری کا کل یا بعض بٹن کھلا ہے، تو حرج نہیں ۔

( فتاوی فقیہ ملت، جلد اول، صفحہ ۱۷۴، مکتبہ,شبیر برادرز، لاھور )

والله تعالی اعلم بالصواب

کتبـــــــــــہ : محمد نورجمال رضوی دیناج پوری
مؤرخہ:(۰۶) جمادی الاول ١٤٤١؁ھ بروز منگل

Leave a Reply

%d bloggers like this: