رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟

سوال : ایک ماں کی دور لڑکیاں ہیں. بڑی لڑکی کا نام ہاجرہ ہے اور چھوٹی کا نام آمنہ ۔ ان دونوں کی ماں کا انتقال ہوگیا آمنہ گود میں تھی تو ہاجرہ نے اپنی بہن کو دودھ پلایا اب آمنہ بالغ ہو گئی اور اس کی شادی بھی ہوگئی اور ایک لڑکی پیدا ہوئی تو آمنہ کی اس لڑکی کا نکاح حاضرہ کے لڑکے کے ساتھ کرنا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

صورت مستفسرہ میں آمنہ کی لڑکی کا نکاح ہاجرہ کے لڑکے سے کرنا حرام ہے ہر گز جائز نہیں. اس لئے کہ وہ ایک دوسرے کے رضاعی ماموں بھانجی ہیں اور ماموں بھانجی کا نکاح جیسا کہ نسبا حرام ہے رضاعا بھی حرام ہے ۔

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب ۔

هذا ما عندي والعلم عند الله تعالى ورسوله وجل جلالہ وصل المولى تعالى عليه وسلم

كتبــــــــــــــــــــــه : مفتی جلال الدين احمد الامجدي
ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 717 کتاب الرضاع

Leave a Reply