ماہ رمضان میں مندروں میں کام کرنا اور روزہ نہ رکھنا کیسا ہے ؟

ماہ رمضان میں مندروں میں کام کرنا اور روزہ نہ رکھنا کیسا ہے ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم
علماء حضرات کی بارگاہ میں یہ سوال ہے میرا کہ کیا جو لوگ رمضان المبارک کا برکتوں والا مہینہ چھوڑ کر کٹڑا یا پھر ویشنوں ماتا ایسی جگہوں پر جاتے ہیں اور روزوں میں کھلم کھلا کھانا پینا عوام کے سامنے کرتے ہیں اور اگر ان سے کہا جائے کہ رمضان کے مہینے میں تم گھر لوٹ کر آ جاؤ تو کہتے ہیں کہ رمضان یہ ہے وہ ہے آئندہ پھر رکھ لیں گے تو اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ہمارے علماء حضرات جواب عنایت فرمائیں ۔

سائل:۔ قاری محمد شوکت امام و خطیب جامع مسجد بغلاں۔

باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب اللهم هداية الحق والصواب:۔

جن لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا ہے کہ رمضان کے روزے نہ رکھر ہندؤوں کے یاترا کرنے کی جگہ مزدوری کے لیے جاتے ہیں اور بلا عذر شرعی کھلم کھلا کھاتے پیتے ہیں اور سمجھانے پر روزوں کو اہمیت نہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ رمضان یہ ہے وہ ہے آئندہ رکھ لیں گے۔ ان کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اقوال وافعال قبیحہ کی وجہ سے، فساق وفجار،ظالم جفاکار، مرتکب حرام کبیرہ، مستحق عذاب نار ہیں۔ ایسے لوگوں کو شرعا قتل کرنے کا حکم ہے مگر ہمارے یہاں چونکہ اسلامی حکومت نہیں ہے کہ ان کو سزا دی جائے، لہذا ان پر لازم ہے کہ اپنی بری حرکتوں پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے علانیہ توبہ و استغفار کریں اور آئندہ بری باتوں اور کاموں سے باز رہیں اور اگر یہ لوگ توبہ و استغفار کرکے باز نہیں آتے ہیں تو علاقے کے مسلمانوں پر لازم کہ ان لوگوں پر سختی کریں تاکہ یہ باز آ جائیں اگر پھر بھی نہیں آتے ہیں تو مسلمان ان کا بائیکاٹ کریں ورنہ وہ بھی قابل مواخذہ ہوں گے۔

فتاوی فیض الرسول میں ہے: "ایسے لوگ جو کہ ماہ رمضان کے دنوں میں علانیہ قصداً بلا عذر کھاتے ہیں ظالم جفاکار سخت گنہگار مستحق عذاب نار ہیں بادشاہ اسلام کو حکم ہے کہ ایسے لوگوں کو قتل کردے در مختار میں ہے لو أکل عمدا شھرة بلا عذر يقتل، اسی کے تحت شامی جلد دوم صفحہ ١١٠ میں ہے قال الشرنبلالی لأنه مستهزئ بالدين أو منكر لما ثبت منه بالضرورة ولا خلاف فى حل قتله والأمربه اور جہاں بادشاہ اسلام نہ ہو مسلمانوں پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں پر سختی کریں اور ان کا بائیکاٹ کریں ورنہ وہ بھی گنہگار ہوں گے قال الله تعالٰی وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ”(ج ١ ص ٤٧٥ تا ٤٧٦/ ناشر:اکبر بک سیلرز لاہور) والله تعالیٰ أعلم بالصواب

کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر مقیم حال بالاسور اڑیسہ٣٠/رمضان المبارک ١٤٤٥ھ مطابق ١٠/ اپریل ٢٠٢٤ء

الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Leave a Reply