کیا سب سے پہلے ربیع الاول کی مبارک باد دینے سے جنت واجب ہو جاتی ہے

کیا سب سے پہلے ربیع الاول کی مبارک باد دینے سے جنت واجب ہو جاتی ہے اور کیا ایسی کوئی روایت بھی ہے ؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

کسی بندے کے جھوٹا ہونے کیلیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرلے اور ان کو کنفرم کیۓ بغیر آگے پھیلانا شروع ہوجائے۔

جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے :

"کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ماسمع”

یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات بیان کردے۔

(صحیح مسلم جلد اول صفحہ 9 قدیمی کتب خانہ کراچی)

یہی حال آجکل سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کا بنتا جارہا ہے کہ جو بھی چیز آئی اس کو سوچے سمجھے بغیر دھڑا دھڑ شیئر کرنا شروع کردیتے ہیں اور بعض تو پڑھے بغیر شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور بعض کو تو اپنی پوسٹ کو عام کرنے کا اتنا شوق و جنون ہوتا ہے کہ معاذاللہ ساتھ لکھ دیتے ہیں کہ اگر مسلمان ہو تو لازمی شیئر کرو تو گویا ان کی نکمی اور فضول پوسٹ شیئر کرنے پر مسلمانی موقوف ہے۔

بہرحال اسی سلسلےکی ایک کڑی یہ پوسٹ ہے، جس میں لکھا ہے :

"مبارک ہو

31 اکتوبر جمعرات کو ربیع الاول شروع ہونے والا ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "جس نے سب سے پہلے کسی کو ربیع الاول کی مبارک دی اس پر جنت واجب ہو گی”

یہ پوسٹ بہت زیادہ وائرل کی جارہی ہے حالانکہ یہ کسی بھی حدیث کی کتاب میں نہیں ملی جس سے یہی لگتا ہے کہ یہ موضوع روایت (یعنی جھوٹی گھڑی ہوئی روایت) ہے لہذا اس کو ہرگز شیئر نہ کیا جائے اور احتیاط کا یہی تقاضہ ہے کہ جب تک حوالہ نہ ہو اور خود اصل کتاب سے تشفی و تسلی نہ کرلی جائے یا کسی سنی عالم سے تصدیق نہ کروالی جائے تو تب تک کسی بھی حدیث یا دینی مسئلے کو شیئر نہ کیا جائے۔

کیونکہ یہ بہت نازک معاملہ ہے بالخصوص جھوٹی حدیث گھڑنے کے متعلق آقا ﷺ کا فرمان ہے:

"مَنْ کَذَبَ عَلیَّ مُتَعَمِّدًافَلْیَتَبَوَّءْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ”

یعنی جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا (ایسی چیز کو میری جانب منسوب کیا جس کو وہ جانتا ہےکہ جھوٹ ہے) تو اپنا ٹھکانہ جھنم بنالے ۔

(صحیح بخاری جلد اول صفحہ 21 قدیمی کتب خانہ کراچی)

جبکہ بےعلمی کیوجہ سے جھوٹا اور غلط مسئلہ بیان کرنے کے متعلق آقا ﷺ نے فرمایا:

"مَنِ افْتٰی بِغَیْرِعِلْمٍ لَعَنَتْہٗ مَلاَئِکَةُ السَّمَاءِوَالْاَرْضِ”

یعنی جو بغیر علم کے فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔

{کنزالعمال جلد10حدیث نمبر 29014بیروت}

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: