کیا سب سے پہلے رمضان المبارک کی خبر دینے سے دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے ؟

کیا سب سے پہلے رمضان المبارک کی خبر دینے سے دوزخ کی آگ حرام ہو جاتی ہے اور کیا ایسی کوئی روایت بھی ہے ؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

        کسی بندے کے جھوٹا ہونے کیلیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں پر یقین کرلے اور ان کو کنفرم کیۓ بغیر آگے پھیلانا شروع ہوجائے، یہی حال آجکل سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کا بنتا جا رہا ہے کہ جو بھی چیز آئی، اس کو سوچے سمجھے بغیر دَھڑا دَھڑ شیئر کرنا شروع کردیا اور بعض تو پڑھے بغیر، شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں اور بعض کو تو اپنی پوسٹ کو عام کرنے کا اتنا شوق اور جنون ہوتا ہے کہ معاذاللہ ساتھ لکھ دیتے ہیں کہ اگر مسلمان ہو تو لازمی شیئر کرو تو گویا ان کی نکمی اور فضول پوسٹ شیئر کرنے پر مسلمانی موقوف ہے۔

بہرحال اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ پوسٹ ہے، جس میں لکھا ہے کہ :

"رمضان کا پہلا روزہ 6 مئی 2019 بروز سوموار کو ہو گا اور حدیث میں ہے کہ جو شخص رمضان کی خبر کسی کو سب سے پہلے دے گا اس پر دوزخ کی آگ حرام ہے”۔

یہ پوسٹ بہت زیادہ وائرل ہو رہی ہے، حالانکہ یہ موضوع روایت (یعنی جھوٹی گھڑی ہوئی روایت) ہے، لہذا اس کو ہرگز شیئر نہ کیا جائے ۔

اور احتیاط کا تقاضہ ہے کہ جب تک حوالہ نہ ہو اور خود اصل کتاب سے تشفی و تسلی نہ کرلی جائے یا کسی سنی مفتی یا سنی عالم سے تصدیق نہ کروالی جائے، تو تب تک کسی بھی حدیث یا دینی مسئلے کو شیئر نہ کیا جائے، کیونکہ یہ بہت نازک معاملہ ہے، بالخصوص جھوٹی حدیث گھڑنے کے متعلق آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے :

"مَنْ کَذَبَ عَلیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّءْ مَقْعَدَہٗ مِنَ النَّارِ”

او کما قال صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

یعنی جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا (یعنی ایسی چیز کو میری جانب منسوب کیا جس کو وہ جانتا ہے کہ جھوٹ ہے) تو اپنا ٹھکانہ جھنم بنالے۔

{صحاح ستہ}

جبکہ بے علمی کیوجہ سے جھوٹا اور غلط مسئلہ بیان کرنے کے متعلق آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

"مَنِ افْتٰی بِغَیْرِعِلْمٍ لَعَنَتْہٗ مَلاَئِکَةُ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ”

یعنی جو بغیر علم کے فتوی دے، اس پر آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔

(کنزالعمال جلد 10 رقم الحدیث: 29014 بیروت)

نوٹ: اس پر خود بھی عمل کیجیے اور دوسروں بھائیوں تک پہنچا کر ثواب حاصل کیجیے۔

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: