قسم کا کفارہ، قسم کھا لے تو اب کیا کرے؟

قسم کا کفارہ، قسم کھا لے تو اب کیا کرے؟

سوال : ایک انسان اللہ کی قسم کھا کر عہد کرے کہ میں آئندہ یہ کام نہیں کروں گا مگر وہ پھر وہی کام کر گزرے تو اس صورت میں قسم کا کفارہ کیا ہو گا؟

سائل: محمد وسیم نوری پونہ

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قسم اور قسم کے کفارہ کے بارے میں اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتا ہے..

لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ۔ 

(المائدة، 5 : 89)

اللہ تمہاری بے مقصد (اور غیر سنجیدہ) قَسموں میں تمہاری گرفت نہیں فرماتا لیکن تمہاری ان (سنجیدہ) قَسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم (ارادی طور پر) مضبوط کر لو، (اگر تم ایسی قَسم کو توڑ ڈالو) تو اس کا کفّارہ دس مسکینوں کو اوسط (درجہ کا) کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا (اسی طرح) ان (مسکینوں) کو کپڑے دینا ہے یا ایک گردن (یعنی غلام یا باندی کو) آزاد کرنا ہے، پھر جسے (یہ سب کچھ) میسر نہ ہو تو تین دن روزہ رکھنا ہے ۔

یہ تمہاری قَسموں کا کفّارہ ہے جب تم کھا لو (اور پھر توڑ بیٹھو)، اور اپنی قَسموں کی حفاظت کیا کرو، اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیتیں خوب واضح فرماتا ہے تاکہ تم (اس کے احکام کی اطاعت کر کے) شکر گزار بن جاؤ ۔

مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے مطابق غلام تو آج کل موجود نہیں ہیں، لہٰذا قسم توڑنے والا دس مسکینوں/ فقیروں کو اوسط درجہ کا کھانا کھلائے یا ان کو کپڑے پہنائے۔ اگر کھانا یا کپڑے دستیاب نہ ہوں تو تین دن مسلسل روزے رکھے تو کفارہ ادا ہو جائے گا۔

دس مسکینوں / فقیروں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلانا۔
دس مسکینوں / فقیروں کو کپڑے دینا۔
غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا (مگر آج کے دور میں یہ سہولت موجود نہیں ہے، لہٰذا پہلی تینوں آپشن دستیاب نہ ہونے کی صورت میں چوتھی آپشن پر عمل کیا جائے گا.
تین دن کے مسلسل روزے رکھنا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

کتبـــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی
خادم التدریس والافتا
الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Leave a Reply

%d bloggers like this: