پیشاب کے قطروں والا وضو کیسے کرے | معذور کا حکم

وضو کے سلسلہ میں معذور کا حکم | معذور کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ

کسی انسان کو بار بار پیشاب کے قطرات آتے رہتے ہوں وہ اس حالت میں نماز کیسے ادا کریگا اور اگر ہفتہ میں کسی مخصوص دن آتا ہو تو اسکے لئے کیا حکم ہے؟

المستفتی:محمد عرفان رضا ازہری کانپور

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب۔

جس انسان کو پیشاب کے قطرات آتے ہیں تو جس دن اس پر نماز کا ایک پورا وقت ایسا گزرا کہ وہ وضو کے ساتھ نماز ادا نہ کر سکا اس وقت سے وہ معذور ہے ۔ اور اگر ایسی حالت پیدا نہ ہوئی تو وہ معذور نہیں، اور جب تک پیشاب کے قطرات ہر وقت میں ایک بار بھی آتے رہیں وہ معذور رہے گا ۔ اور جس دن ایک پورا وقت ایسا گزر جاے گا کہ جس میں قطرات نہ آے تو اس وقت وہ معذور نہ رہے گا اور پھر جب حالت مذکورہ پیدا ہوجاے تو معذور ہو جاے گا۔

اس کیلئے حکم یہ ہے کہ وہ وقت میں وضو کرے اور آخر وقت تک اس وضو سے جتنی نمازیں چاہے پڑھے پیشاب کے قطرات سے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا البتہ دوسرے نواقض وضو سے کوئی ناقض پایا گیا تو وضو ٹوٹ جاے گا اسی طرح وقت ختم ہونے سے۔

پیشاب کے قطرات سے کپڑے اگر ایک درہم سے زائد نجس ہوجاتے ہوں اور یہ جانتا ہو کہ دھل کر پاک کپڑے سے نماز پڑھ سکوں گا تو دھلنا فرض اور ایک درہم کی صورت میں واجب اور اس سے کم میں سنت اور اگر جانتا ہو کہ دوران نماز پھر نجس ہوجائیں گے تو دھلنا ضروری نہیں۔

یہی حکم ہر اس شخص کا ہے جو معذور ہو مثلا دست آنا، پھوڑے یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا وغیرہ ۔

در مختار و ردالمحتار میں ہے "و ﺻﺎﺣﺐ ﻋﺬﺭ ﻣﻦ ﺑﻪ ﺳﻠﺲ ﺑﻮﻝ ﻻ ﻳﻤﻜﻨﻪ ﺇﻣﺴﺎﻛﻪ ﺃﻭ اﺳﺘﻄﻼﻕ ﺑﻄﻦ ﺃﻭ اﻧﻔﻼﺕ ﺭﻳﺢ ﺃﻭ اﺳﺘﺤﺎﺿﺔ ﺃﻭ ﺑﻌﻴﻨﻪ ﺭﻣﺪ ﺃﻭ ﻋﻤﺶ ﺃﻭ ﻏﺮﺏ ﻭﻛﺬا ﻛﻞ ﻣﺎ ﻳﺨﺮﺝ ﺑﻮﺟﻊ ﻭﻟﻮ ﻣﻦ ﺃﺫﻥ ﻭﺛﺪﻱ ﻭﺳﺮﺓ ﺇﻥ اﺳﺘﻮﻋﺐ ﻋﺬﺭہ ﺗﻤﺎﻡ ﻭﻗﺖ ﺻﻼﺓ ﻣﻔﺮﻭﺿﺔ بان ﻻ ﻳﺠﺪ ﻓﻲ ﺟﻤﻴﻊ ﻭﻗﺘﻬﺎ ﺯمنا ﻳﺘﻮﺿﺄ ﻭﻳﺼﻠﻲ ﻓﻴﻪ ﺧﺎﻟﻴﺎ ﻋﻦ اﻟﺤﺪﺙ ﻭﻟﻮ ﺣﻜﻤﺎ ﻷﻥ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﻴﺴﻴﺮ ﻣﻠﺤﻖ ﺑﺎﻟﻌﺪﻡ ﻭﻫﺬا ﺷﺮﻁ العذر ﻓﻲ ﺣﻖ اﻻﺑﺘﺪاء ﻭﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﺒﻘﺎء ﻛﻔﻰ ﻭﺟﻮﺩﻩ ﻓﻲ ﺟﺰء ﻣﻦ اﻟﻮﻗﺖ ﻭﻟﻮ ﻣﺮﺓ ﻭﻓﻲ ﺣﻖ اﻟﺰﻭاﻝ ﻳﺸﺘﺮﻁ اﺳﺘﻴﻌﺎﺏ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ ﺗﻤﺎﻡ اﻟﻮﻗﺖ ﺣﻘﻴﻘﺔ ﻷﻧﻪ اﻻﻧﻘﻄﺎﻉ اﻟﻜﺎﻣﻞ۔

ﻭﺣﻜﻤﻪ اﻟﻮﺿﻮء ﻻﻏﺴﻞ ﺛﻮﺑﻪ وﻧﺤﻮﻩ ﻟﻜﻞ ﻓﺮﺽ اللام ﻟﻠﻮﻗﺖ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ (ﻟﺪﻟﻮﻙ اﻟﺸﻤﺲ) [اﻹﺳﺮاء: 78] ﺛﻢ ﻳﺼﻠﻲ ﺑﻪ ﻓﻴﻪ ﻓﺮﺿﺎ ﻭﻧﻔﻼ ﻓﺪﺧﻞ اﻟﻮاﺟﺐ ﺑﺎﻷﻭﻟﻰ ﻓﺈﺫا ﺧﺮﺝ اﻟﻮﻗﺖ ﺑﻄﻞ۔

ﻭﺇﻥ ﺳﺎﻝ ﻋﻠﻰ ﺛﻮﺑﻪ ﻓﻮﻕ اﻟﺪﺭﻫﻢ ﺟﺎﺯ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻻ ﻳﻐﺴﻠﻪ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻟﻮ ﻏﺴﻠﻪ ﺗﻨﺠﺲ ﻗﺒﻞ اﻟﻔﺮاﻍ منھا ﺃﻱ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺇﻻ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﻗﺒﻞ ﻓﺮاﻏﻪ ﻓﻼ ﻳﺠﻮﺯ ﺗﺮﻙ ﻏﺴﻠﻪ ﻫﻮ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﻟﻠﻔﺘﻮﻯ” ملتقطا(ردالمحتار ،ج١،ص٥٥٣تا٥٥٧)۔

ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ٣٨٥تا٣٨٧ پر ہے۔

مخصوص دن کا بھی یہی حکم ہے۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

٥مئی٢٠٢٠

Leave a Reply