پیر صاحب کو خدا کہنا کیسا ہے؟

پیر صاحب کو خدا کہنا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔

مسئلہ ذیل کے بارے میں ضرور رہنمائی فرمائیں کہ محفل سماع میں کسی پیر صاحب کا نام لیکر اس طرح کا شعر پڑھنا شرعاً کیسا ؟
"ہوا میں تیرا دیوانہ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔
تجھے اپنا خدا مانا جو ہوگا دیکھا جائے گا۔
تمہیں خدا کہوں یا خدا کو خدا کہوں۔”
اور اس پر پیر صاحب جھومے اور وہاں موجود مریدین و معتقدین عوام و خواص نے خوشی سے اچھل کود کی اور قوالوں پر نوٹ برسایا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں قوالوں و پیر صاحب اور مریدین و معتقدین عوام وخواص پر حکم شرع کیا عائد ہوگا۔ قرآن وحدیث اور فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی۔
المستفتی: محمد جمیل اختر مان سنگھا راج محل جھارکھنڈ انڈیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

لفظ خدا بلا اضافت اللہ رب العزت کے لئے خاص ہے اس کے غیر پر اس کا اطلاق کفر ہے۔ اور رضا بالکفر بھی کفر ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں جس نے پیر کو خدا کہا اور جو اس سے راضی رہے وہ سب کافر و مرتد ہوگئے ان پر توبہ تجدید ایمان و نکاح لازم مرید ہوں تو تجدید بیعت بھی کریں۔
فتاوی تاج الشریعہ میں ہے:
"عجم میں لفظ خدا ذات باری تعالیٰ کے لئے خاص ہے جس طرح لفظ اللہ عربیت میں علم ذات اقدس ہے” اھ(ج١، ص١٩٧، کتاب العقائد، مطبوعہ مرکز الدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا بریلی شریف)
غیاث اللغات میں ہے:
"چوں لفظ خدا مطلق باشد بر غیر ذات باری تعالیٰ اطلاق نہ کنند”
یعنی جب لفظ خدا مطلق ہو تو غیر خدا پر اس کا اطلاق نہیں کرتے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولو قال من خدایم علی وجہ المزاح یعنی خودآیم فقد کفر کذا فی التتارخانیہ” اھ (ج٢، ص٢٨٤، کتاب السیر، باب احکام المرتدین، مطبوعہ دار الكتب العلميه بيروت لبنان)
یعنی اگر کسی نے دل لگی کے طور پر خود آیم کے بجائے من خدایم (میں خدا ہوں) کہا تو کافر ہوگیا ایسا ہی تتار خانیہ میں ہے۔
اعلی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالی عنہ نے اشعار کفریہ سے متعلق سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے:
"صورۃ مذکورہ میں زید یقیناً کافر و مرتد ہے اس کے کلام سرتاپا کفر سے بھرے ہوئے ہیں مثلاً زید و عمر و بکر سب کو خدا کہنا” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١٥، ص٢٧٩، کتاب السیر، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے: ’’الرضا بالکفر کفر‘‘ اھ (ج٦، ص۳۳٦، کتاب الجہاد، مطلب: فی تمیز اھل الذمۃ، مطبوعہ دار عالم الکتب الریاض)
یعنی کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہ ﷺ اعلم بالصواب۔

کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔
صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ ٨شعبان المعظم ٤٤٤١؁ھ مطابق ١مارچ ٣٢٠٢؁ء

1 thought on “پیر صاحب کو خدا کہنا کیسا ہے؟”

Leave a Reply