پان کھانے والوں کا وضو ہوتا ہے یا نہیں ؟ مفتی نظام الدین رضوی

پان کھانے والوں کا وضو ہوتا ہے یا نہیں ؟ مفتی نظام الدین رضوی

پان کھانے سے جو دانتوں میں داغ پڑ جاتے ہیں ان کے اندر پانی سرایت نہیں کرتا ہے توکیا وہ نیل پالش (Nail polish) کے

حکم میں ہیں اگر ہیں تو جن کے دانتوں میں یہ داغ لگے ہوئے ہیں کیا ان کا وضو اور غسل درست ہوگا، یا پھروضو و غسل ک

وقت ان دانتوں کو بھگوناپڑے گا ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ

ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ نیل پالش کا مسئلہ الگ ہے ۔اور اس کا الگ نیل۔ پولش کو عورتیں استعمال کرتی ہیں اور یہ زینت

کے لئے ہے اس سے اور کوئی فائدہ مقصود نہیں ہے نیز اس کی تہ جم جاتی ہے، اس کے برخلاف پان کی تہ ابتداء نہیں

جمتی اور یہ زینت کے لئے نہیں، جن لوگوں کو پان کی عادت ہے اگر وہ پان نہ کھائیں تو بے قرار ہو جاتے ہیں ، ایک طرح سے

وہ ان کے مریض ہیں دنیا میں ان کا آسان علاج کچھ نہیں سواے پان کے ۔ اب بار بار پان کھانے سے اس کی تہ جم جاتی ہے

اور گویا وہ دانت کے درجے میں ہو جاتی ہے لہذا اس کے ساتھ ان کا وضو و غسل درست ہے کیونکہ اگر وہ ان کو صاف کرنے

کی کوشش کریں گے تو دانتوں میں سوراخ ہو جائے گا ، خون آئے گا اور اس کے علاوہ دوسری پریشانیاں ہوں گی اس لئے

حکم یہ کہ اگر آسانی سے چونا وغیرہ چھوٹ جائے تو اسے صاف کرنا واجب ہے ورنہ معاف ہے ۔

اس کے برخلاف نیل پالش ناخن پر لگائی جاتی اور یہ زینت آرائش کے سوا اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں، یہ نہ تو کوئی مرض

ہے اور نہ ہی کسی مرض کا علاج یہ محض زینت ہے اس لئے اس کا حکم الگ ہے اور پان کا حکم الگ ۔

والله تعالى اعلم بالصواب

Leave a Reply

%d