اورل سیکس (یعنی میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چوسنا) شرعاً کیسا ہے ؟

اورل سیکس (یعنی میاں بیوی کا ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چوسنا) شرعاً کیسا ہے ؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اورل سیکس (oral sex) ناجائز و ممنوع اور مکروہ و گناہ ہے اگرچہ منہ میں انزال نہ ہو اور اگر منہ میں انزال ہو تو سخت حرام ہے ۔
اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی شرمگاہ کو چوم بھی نہیں سکتے کیونکہ شوہر اگرچہ بیوی کے سر سے لیکر پاؤں تک جہاں سے چاہے لطف اندوز ہو سکتا ہے مگر جس کام سے شریعت نے منع کیا ہے وہ اپنی بیوی سے بھی نہیں کر سکتا ۔
چنانچہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے :

"وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَائِثَ "

ترجمہ: اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا ۔

(پارہ 9 سورۃ الاعراف آیت نمبر 157)

اس آیت کے تحت تفسیرِ خازن میں ہے :

"ھو کل ما یستخبثہ الطبع وتستقذرہ النفس”

یعنی اس سے مراد ہر وہ فعل ہے جس کو فطرتِ سلیمہ برا سمجھے ۔

(تفسیر خازن جلد اول صفحہ 155 درارالکتب العلمیہ بیروت)

تو اس آیت اور اسکی تفسیر سے یہ ثابت ہوا کہ اسلام چونکہ دین فطرت اور عقل سلیم کے عین مطابق ہے تو ہروہ فعل جو طبیعت سلیمہ کے خلاف ہو اور اس دیکھنے سے یا اس کا سوچنے سے انسان کو گھن آتی ہو جیسے اورل سیکس تو وہ شرعی طور پر اور عقلی طور پر ناجائز وممنوع ہو گا.

فتاوی عالمگیری میں ہے :
"اذا دخل الرجل ذکرہ فی فم امرأتہ قد قیل یکرہ”
یعنی جب مرد اپنے آلہ تناسل کو چھونے اپنی بیوی کے منہ میں داخل کرے توکہا گیا ہے کہ مکروہ (تحریمی) ہے ۔

(فتاوی عالمگیری جلد5 صفحہ 372 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
"مرد کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیوی کے سر سے لیکر پاؤں تک جیسے چاہے لطف اندوز ہو سوائے اس کے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے” ۔

(فتاوی رضویہ جلد 12 صفحہ 268 رضا فاؤنڈیشن لاہور )

نوٹ: البتہ میاں بیوی ایک دوسرے کی شرمگاہ کو ہاتھ کے ساتھ چھو سکتے ہیں.

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبـــــــــــــــہ : مفتی ابو اسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply