نکاح کا مہر تقریبا کتنا ہونا چاہیے

نکاح کا مہر تقریبا کتنا ہونا چاہیے ؟

الاستفتا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و
برکاتہ
حضرت نکاح کا مہر تقریبا کتنا ہونا چاہیے جبکہ سرکار کے زمانے میں میں چاندی چار سو درہم آج کے دور کے حساب سے تقریباً ایک کلو 306 گرام چاندی تھی آج کے دور میں 786 سی گیارہ سو 5000 مہر میں جو پیسے باندھے جاتے ہیں کیا یہ مہر کی رقم درست ہے اور ایسی صورت میں نکاح ہوگا یانہیں ؟۔
المستفتی۔ محمد عثمان رضا واحدی ضلع شاہ جہاں پور
5/ربیع النور شریف بروز اتوار 1441ھ

باسمہ تعالیٰ و تقدس

الجواب ۔ اللھم ھدایت الحق و الصواب

در صورتِ مسئولہ مستفسرہ مہر کم از کم دس درہم ہونا چاہئیے کہ شریعتِ غرا بیضا طاہرہ میں مہر کی اقل مقدار دس درہم بتائی گئی ہے جیساکہ ھدایہ اولین ص304 پر ہے:” و اقل المھر عشرة دراہم،،

اور درمختار مع شامی ،ج2، ص357 میں ہے :” اقلہ عشرة دراھم لحدیث البیہقی وغیرہ لا مہر اقل من عشرة دراھم فضة وزن سبعة مثاقیل مضروبة کانت او لا و لو دینارا عرضا قیمتہ عشرة وقت العقد،،

اور العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ، الجزء الخامس5، فی صف خمس مائة500، مرقوم ہے:” کم سے کم مہر دس درہم ہے یعنی دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی یا چاندی کے سوا اور کوئی شئ اتنی ہی چاندی کی قیمت کی،،۔

دس درہم کی موجودہ حیثیت باعتبارِ گرام و ملی گرام➖ 30 گرام 618ملی گرام چاندی۔
باعتبارِ ماشہ فقط➖ 5۔31 ماشہ چاندی۔
باعتبارِ تولہ و ماشہ➖ 2 تولہ ساڑھے سات ماشہ۔
باعتبارِ تولہ و گرام و ملی گرام➖ دو تولہ ، 10گرام ،270 ملی گرام۔
وزن مذکور کی قیمت فی الوقت تقریباً➖ 2000روپیے ہوتی ہے ۔
یہ بھی جان لینا ضروری ہے کہ شرع میں تولہ➖ 11/گرام 664/ملی گرام ہے۔

تو لازم ہے کہ مہر کم سے کم دس درہم رکھے اس سے کم مقرر کرنا یہ درست نہیں ۔ نکاح مگر پھر بھی ہوجائیگا اور اس پر مہر دس درہم ہی لازم ہوں گے ۔
جیساکہ رد المحتار، ج4، ص233 پر ہے:” وتجب العشر ان سماھا او دونھا،،۔
اور ھدایہ اولین ص304 پر ہے :” ولو سمی اقل من عشرة فلھا العشرة عندنا،،
اور بہار شریعت ،حصہ 7، ص55 پر ہے :” نکاح میں دس درہم سے یا اس سے کم مہر باندھا گیا تو دس درہم واجب اور زیادہ باندھا ہو تو جو مقرر ہوا واجب،،۔ اھ۔۔۔

لھذا 5000 ہزار روپیہ مہر مقرر کرنا تو درست ہے مگر سات سو چھیاسی 786روپیہ مقرر کرنا قطعاً صحیح نہیں، اس صورت میں بھی دس درہم ہی دینا لازم ہوگا۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ ✍ العبدالاثیم محمد امیر حسن امجدی رضوی خادم الافتا والتدریس الجامعة الصابریہ پریم نگر نگرہ جھانسی

Leave a Reply

%d bloggers like this: