ننگے بدن غسل جائز ہے یا نہیں از مفتی شان محمد القادری

موضع احتیاط میں ننگے بدن غسل جائز ہے

السلام علیکم ورحمۃاللہ

ایک سوال ہے کہ تنہا اور برہنہ ہوکر غسل کرنا کیسا ہے کیا اس طرح کرنے سے غسل ہو جائیگا

سائل:محمد نسیم اختر مجاہدی

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب ۔

١.تنہا برہنہ ہوکر غسل کرنا جائز ہے جبکہ ایسی جگہ ہو جہاں کسی کی نظر پڑنے کا احتمال نہ ہو کہ لوگوں کے سامنے ستر کھولنا حرام و گناہ ہے۔

٢۔برہنہ ہوکر غسل کرنے سے غسل ہو جاے گا۔

ہندیہ کے سنن و آداب غسل کے بیان میں ہے "وﺃﻥ ﻳﻐﺘﺴﻞ ﻓﻲ ﻣﻮﺿﻊ ﻻ ﻳﺮاﻩ ﺃﺣﺪ ﻭﻳﺴﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻻ ﻳﺘﻜﻠﻢ ﺑﻜﻼﻡ ﻗﻂ ﻭﺃﻥ ﻳﻤﺴﺢ ﺑﻤﻨﺪﻳﻞ ﺑﻌﺪ اﻟﻐﺴﻞ ﻛﺬا ﻓﻲ اﻟﻤﻨﻴﺔ” (ج١،ص١٤)۔

بہار شریعت میں ہے "اگر غُسل خانہ کی چھت نہ ہو یا ننگے بدن نہائے بشرطیکہ موضع احتیاط ہو تو کوئی حرج نہیں اھ”(ح٢،ص٣٢٠)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ: مفتی شان محمدالمصباحی القادری

٢٩مارچ٢٠٢٠

Leave a Reply