ایک رکعت میں دو بار سورہ فاتحہ پڑھ دیا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟ از مفتی طیب علیمی

ایک رکعت میں دو بار سورہ فاتحہ پڑھ دیا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

سوال : عرض یہ ہے کہ نماز میں دوران تلاوت سجدہ تلاوت آگیا
سجدہ تلاوت کر کے جیسے قیام میں آیا تو پڑھنی تھی سجدہ تلاوت سے اگلی آیت تو میں نے پہلے سہواً فاتحہ پڑھی پھر سجدہ تلاوت والی آیت سے آگے پڑھا،،تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟
جواب عنایت فرمادیں جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔

الجواب بعون الملک الوہاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم
صورت مسئولہ میں سجدہ تلاوت سے قبل اگر آپ نے تین آیت کی مقدار پڑھ لی تھی تو نماز ہوگئی اور اگر تین آیت کی مقدار نہیں پڑھی تھی تو دوبارہ سورہ فاتحہ پڑھنے سے واجب
ترک ہوا، اس لئے کہ ہر رکعت میں سورت سے پہلے صرف ایک بار ہی سورہ فاتحہ کا ہونا واجبات نماز میں سے ہے۔چنانچہ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ واجبات نماز بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"ہر رکعت میں سورت سے پہلے ایک ہی بار الحمد پڑھنا”(ج 3 ص 517 مطبوعہ دعوت اسلامی)
اور سہوا ترک واجب پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: واجبات نماز میں سے جب کوئی واجب بھولے سے رہ جائے تو اس کی تلافی کے لئے سجدہ سہو واجب ہے۔ (بہار شریعت ح 4 ص 708 مطبوعہ دعوت اسلامی)

اب اگراسی نماز میں آپ نے سجدہ سہو کرلیا ہوگا تو نقصان کی تلافی ہو گئی۔ اور نماز مکمل ہو گئی۔ اور اگر آپ نے سجدہ سہو نہ کیا ہو تو اس نماز کا اعادہ واجب ہے۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں: یونہی اگر سہوا واجب ترک ہوا اور سجدہ سہو نہ کیا جب بھی اعادہ واجب ہے۔(بہار شریعت ح 4 ص 708 مطبوعہ دعوت اسلامی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔

(اعتذار: جواب میں شروع کا پیراگراف رہ گیا تھا، ناظرین اصلاح فرمالیں)

مزید پڑھیں 

اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا کہنا کیسا ہے ؟

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: محمد طیب جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی
15 جمادی الاولی 1443ھ
الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Leave a Reply