نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا از مفتی محمد رضا مرکزی

نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا

سوال: سورہ فاتحہ کا پڑھنا نمازجنازہ میں کیسا ہے؟

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نماز جنازہ دراصل دعائے مغفرت ہے من کل وجوہ پنجگانہ نماز کی طرح نہیں ہے۔ مثلاً فرض نماز کے لیے وقت سبب ہے، نماز جنازہ کے لیے نہیں ہے۔ فرض نمازوں میں سجدہ، رکوع، تشہد وغیرہ ہوتے ہیں مگر جنازہ میں نہیں ہوتے۔ اسی طرح فرض، سنت اور نفل نمازوں میں فاتحہ واجب مطلق، قراءت فرض جبکہ نماز جنازہ میں نہیں ہے۔

اس لیے نماز جنازہ میں فاتحہ بطور قراءت واجب نہیں ہے، البتہ بطور دعا پڑھی جائے تو کوئی حرج نہیں، درست ہے۔ امام بخاری نے عبداللہ بن عوف سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

صليت خلف ابن عباس علی جنازة فقراء لفاتحة الکتاب و قال يستعلموا انها سنة.

(صحيح، البخاری، ج : 1، ص : 871)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نماز جنازہ میں فاتحہ پڑھی تاکہ لوگ سیکھیں کہ یہ سنت ہے تو اس روایت سے فقط سنت ثابت ہے نہ کہ واجب۔

نمازِ جنازہ میں بقصدِ دعا و ثنا سورہ فاتحہ پڑھنا جائز ہے، البتہ بقصدِ قراءت پڑھنے کی اجازت نہیں۔

مراقي الفلاح میں ہے:

"و” الثانية "الثناء بعد التكبيرة الأولى” وهو سبحانك اللهم وبحمدك إلى آخره، وجاز قراءة الفاتحة يقصد الثناء، كذا نص عليه عندنا، وفي البخاري عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه صلى على جنازة فقرأ بفاتحة الكتاب وقال: "لتعلموا أنه من السنة”، وصححه الترمذي وقد قال أئمتنا بأن مراعاة الخلاف مستحبة”.

حاشية الطحطاوي على المراقيمیں ہے:

"وفي العيني على البخاري: وأجاب عنه الطحاوي بأن قراءة الفاتحة من الصحابة لعلها كانت على وجه الدعاء لا على وجه التلاوة، وقد قال مالك: قراءة الفاتحة ليس معمولاً بها في بلدنا في صلاة الجنازة اهـ قوله: "وقد قال أئمتنا بأن مراعاة الخلاف مستحبة الخ” فيه نظر إذ ما ذكره من استحباب مراعاة الخلاف ليس على إطلاقه، بل مقيد بما إذ لم يلزم عليه ارتكاب مكروه مذهبه، فكان الاعتماد على ما هو مصرح به في كتب المذهب كالمحيط والتجنيس والولوالجية وغيرها من أن قراءتها بنية القراءة لاتجوز معللاً بإنها محل الدعاء دون القراءة، كذا في السيد مختصراً. قوله: "فلا مانع من قصد القرآنية الخ” فيه أنهم صرحوا بعدم الجواز فتكون مكروهةً تحريماً ولاتتأدى به السنة فكيف يطلب منه تلاوتها بقصد القرآنية”. (فصل الصلاة عليه، ١/ ٥٨٤)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

  مفتی محمدرضا مرکزی

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

خادم التدریس والافتا

الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Leave a Reply

%d bloggers like this: