نعت میں دف بجانا کیسا بے ؟

نعت میں دف بجانا کیسا بے ؟

سائل : قاری احمد رضا کراچی
بسمہ تعالیٰ

الجواب بعون الملک الوھّاب

خوشی کے موقع پر دف بجانا چار شرطوں کے ساتھ جائز ہے جوکہ درج ذیل ہیں :
1- دف جھانج کے بغیر ہو۔
2- قواعدِ موسیقی (یعنی موسیقی کے سُرتال) پر نہ بجایا جائے۔
3- دف بجانے والے مرد یا عزت دار عورتیں نہ ہوں بلکہ نابالغ بچیاں یا ایسی کم حیثیت عورتیں بجائیں۔
4- جہاں دف بجایا جائے وہ فتنے کا محل نہ ہو۔
لیکن آجکل جو دف رائج ہے وہ موسیقی کی طرز میں بجایا جاتا ہے جس کا بجانا اور سننا شرعاً ناجائز و ممنوع ہے، لہٰذا نعت شریف پڑھنے کے دوران مُرَوَّجَہ انداز میں دف بجانا ناجائز و گناہ اور بے ادبی ہے اور ایسی نعت سننا بھی جائز نہیں ہے۔
چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں رحمة اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
”اوقاتِ سرور میں دف جائز ہے بشرطیکہ اس میں جلاجل یعنی جھانج نہ ہوں، نہ وہ موسیقی کے تال سُر پر بجایا جائے ورنہ وہ بھی ممنوع۔“
(فتاویٰ رضویہ جلد 24 صفحہ 137 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ایک اور مقام پر سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"دف کہ بے جلاجل یعنی بغیر جھانجھ کا ہو اور تال سم کی رعایت سے نہ بجایا جائے اور بجانے والے نہ مرد ہوں نہ ذی عزت عورتیں، بلکہ کنیزیں یا ایسی کم حیثیت عورتیں اور وہ غیر محل فتنہ میں بجائیں تو نہ صرف جائز بلکہ مستحب و مندوب ہے، للامر بہ فی الحدیث و القیود مذکورۃ فی ردالمحتار وغیرہ شرحناھا فی فتاوٰنا۔حدیث میں مشروط دف کے بجانے کاحکم دیا گیا اور اس کی تمام قیود کو فتاوٰی شامی وغیرہ میں ذکر کر دیا گیا اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تشریح کردی ہے۔”
(فتاوی رضویہ جلد 21 صفحہ 643 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مزید ایک اور مقام پر تحریر فرماتے ہیں :
"ہاں شرع مطہر نے شادی میں بغرض اعلان نکاح صرف دف کی اجازت دی ہے جبکہ مقصود شرع سے تجاوز کرکے لہو مکروہ و تحصیل لذت شیطانی کی حد تک نہ پہنچے، و لہٰذا علماء شرط لگاتے ہیں کہ قواعد موسیقی پر نہ بجایا جائے، تال سم کی رعایت نہ ہو نہ اس میں جھانج ہوں کہ وہ خواہی نخواہی مطرب وبناجائز ہیں۔ پھر اس کا بجانا بھی مردوں کو ہر طرح مکروہ ہے۔ نہ شرف والی بیبیوں کے مناسب بلکہ نابالغہ چھوٹی چھوٹی بچیاں یا لونڈیاں باندیاں بجائیں، اور اگر اس کے ساتھ کچھ سیدھے سادے اشعار یا سہرے سہاگ ہوں جن میں اصلاً نہ فحش ہو نہ کسی بے حیائی کا ذکر، نہ فسق و فجور کی باتیں، نہ مجمع زنان یا فاسقان میں عشقیات کے چرچے نہ نامحرم مردوں کو نغمہ عورات کی آواز پہنچے، غرض ہر طرح منکرات شرعیہ و مظان فتنہ سے پاک ہوں، تو اس میں مضائقہ نہیں۔ جیسے انصار کرام کی شادیوں میں سمدھیانے جا کر یہ شعر پڑھا جاتا تھا ؎
اتینا کم اتیناکم
فحیانا وحیاکم
یعنی ہم تمھارے پاس آئے ہم تمھارے پاس آئے، اللہ ہمیں زندہ رکھے تمھیں بھی جلائے یعنی زندہ رکھے۔

(سنن ابن ماجہ، ابواب النکاح، باب فی الغناء و الدف، صفحہ 138، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

پس اس قسم کے پاک و صاف مضمون ہوں، اصل حکم میں تو اسی قدر کی رخصت ہے مگر حال زمانہ کے مناسب یہ ہے کہ مطلق بندش کی جائے کہ جہال حال خصوصا زنان زمان سے کسی طرح امید نہیں کہ انھیں جو حد باندھ کر اجازت دی جائے اس کی پابند رہیں اور حد مکروہ و ممنوع تک تجاوز نہ کریں۔ لہذا سرے سے فتنہ کا دروازہ ہی بند کیا جائے نہ انگلی ٹیکنے کی جگہ پائیں گی نہ آگے پاؤں پھیلائیں گی، خصوصا بازاری فاجرہ فاحشہ عورتوں، رنڈیوں، ڈومنیوں کو تو ہر گز ہرگز قدم نہ رکھنے دیں کہ ان سے حد شرع کی پابندی محال عادی ہے۔ وہ بے حیائیوں فحش سرائیوں کی خوگر ہوتی ہیں منع کرتے کرتے اپنا کام کر گزریں گی بلکہ شریف زادیوں کا ان آوارہ بد وضعوں کے سامنے آنا ہی سخت بیہودہ و بیجا ہے۔ صحبت بد زہر قاتل ہے اور عورتیں نازک شیشیاں ہیں جن کے ٹوٹ جانے کے لئے ایک ادنی سی ٹھیس بھی بہت ہوتی ہے، اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے "یا انجشۃ رَوَیْدا بالقواریر” (اے انجشہ! ٹھہر جاؤ کہیں کانچ کی شیشیاں ٹوٹ نہ جائیں) فرمایا۔ (صحیح بخاری، کتا ب الادب، جلد 2 صفحہ 908- 910 قدیمی کتب خانہ کراچی، صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب رحمتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم النساء، جلد 2 صفحہ 255، قدیمی کتب خانہ کراچی، مسنداحمد بن حنبل، عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ، جلد 3 صفحہ 254، المکتب الاسلامی بیروت)

ھذا کلہ ظاہر بین عند من نور ﷲ تعالٰی بصیرتہ و جمیع مانھینا عنہ فان علیہ دلائل ساطعۃ من القراٰن العظیم و الحدیث الکریم و الفقۃ القویم بیدان وضوح الحکم اغنانا عن سردھا فلنذکر بعض دلائل علی ما ذکرنا اباحتہ فانا نرٰی ناسا یشد دون الامر یطلقون القول بالتحریم و منھم من یبیح ضرب الدف بشرط ان لایکون معہ شیئ من الشعر وانما یکون محض دف مع ان الاحادیث ترد ذٰلک کما ستعلم مما ھنالک اخرج الامام البخاری فی صحیحہ من الربیع بنت معوذ بن عفرا قالت جاء النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ والہ وسلم فدخل حسین بن علی فجلس علی فراشی کمجلسک منی فجعلت جویریات لنا یضربن بالدف ویندبن من قتل من اٰبائی یوم بدر، الحدیث

یہ سب کچھ اچھی طرح واضح ہے ہر اس بندے پر جس کو اللہ تعالٰی نے دل کی روشنی بخشی ہے اور تمام وہ باتیں جن سے ہم نے منع کیا ہے کیونکہ اس پر قرآن عظیم، حدیث مبارک اور فقہ قویم کے روشن دلائل موجود ہیں لہٰذا واضع حکم نے ہمیں اس کی تفصیل سے بےنیاز کر دیا ہے پھر ہم بعض دلائل بیان کرتے ہیں اس مسئلہ پر جس کی اباحت ہم نے پہلے ذکر کر دی کیونکہ کچھ لوگوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ معاملہ میں سختی کرتے ہیں اور مطلق تحریم کا قول ذکر کرتے ہیں (قول بالتحریم مطلق بیان کرتے ہیں) اور کچھ وہ لوگ ہیں جو دف بجانا مباح کہتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ اشعار نہ پڑھے جائیں بلکہ صرف دف بجائی جائے حالانکہ حدیث میں اس کی تردید آئی ہے اور جو کچھ یہاں مذکور ہوگا عنقریب تم جان لوگے امام بخاری نے اپنی صحیح میں ربیع بنت معوذ بن عفراء کے حوالہ سے تخریج فرمائی کہ اس بی بی نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے تو حضرت حسین بن علی حاضر خدمت ہوئے اور میرے بچھونے پر اس طرح تشریف فرما ہوئے جیسے تمھارا میرے پاس بیٹھنا ہے اور ہماری کچھ بچیاں دف بجا بجا کر ہمارے اکابر شہداء بدر کے مرثیے پڑھتی رہیں، الحدیث۔
(صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب ضرب الدف بالنکاح، جلد 2 صفحہ 773، قدیمی کتب خانہ کراچی)

"واخرج ایضا عن ام المومنین الصدیقۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہا انھا زفت امرأۃ الی رجل من الانصار فقال نبی ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ماکان معکم لھو فان الانصار یعجبھم اللھو”

اور یہ بھی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی سند سے تخریج فرمائی کہ ایک دلہن اپنے انصاری شوہر کے گھر رخصت کی گئی تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمھارے پاس کوئی کھیل (گانے بجانے) کا سامان نہ تھا کیونکہ انصار اس سے جوش میں آتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔
(صحیح البخاری، باب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ، جلد 2 صفحہ 775، قدیمی کتب خانہ کراچی)
"و اخرج القاضی المحاملی عن جابر بن عبدﷲ رضی ﷲ تعالٰی عنھما فی ھذا الحدیث انہ صلی ﷲ تعالٰی علیہ و سلم قال ادرکیھا یا زینب امرأۃ کانت تغنی بالمدینۃ”
قاضی محاملی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اس حدیث کی تخریج فرمائی کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :
اے زینب! کسی ایسی عورت سے رسائی حاصل کرو جو مدینہ منورہ میں گانے والی ہو، (فتح الباری بحوالہ المحاملی، کتاب النکاح، باب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ، جلد 11، صفحہ 13، مصطفی البابی مصر، عمدۃ القاری، کتاب النکاح، باب النسوۃ اللاتی یہدین المرأۃ الخ، جلد 20، صفحہ 149، ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت)

"و اخرج ابن ماجۃ عن ابن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما قال انکحت عائشۃ رضی ﷲ تعالٰی عنہا ذات قرابۃ لھا من الانصار فجاء رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اھدیتم الفتاۃ قالوا نعم قال الا ارسلتم معھا من تغنی قالت لا فقال رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان الانصار قوم فیھم غزل فلو بعثتم معھا من یقول اتینکم اتینکم فحیا نا و حیاکم”

محدث ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کے حوالے سے تخریج فرمائی (اللہ تعالٰی دونوں سے راضی ہو) انھوں نے فرمایا :
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے قبیلہ انصار میں اپنی ایک قربتدار کا نکاح کیا تو حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم تشریف لائے اور ارشاد فرمایا کیا تم نے اس نوجوان لڑکی کو کوئی ہدیہ (تحفہ) دیا ہے؟
گھر والوں نے عرض کی :
جی ہاں،
پھر فرمایا :
کیا تم نے اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھیجی ہے ؟
سیدہ نے عرض کی :
جی نہیں۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
انصار کچھ ایسے لوگ ہیں کہ جن میں غزلیات پڑھنے کا رواج ہے لہٰذا اگر تم لوگ اس دلہن کے ساتھ کوئی ایسا شخص بھیجتے جو کہتا اتیناکم اتیناکم الخ یعنی ہم تمھارے پاس آگئے، اللہ تعالٰی ہمیں بھی زندہ رکھے اور تمھیں بھی زندہ رکھے۔
(سنن ابن ماجہ، ابواب النکاح، باب الغناء و الدف، صفحہ 138 ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

(فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 281، 282، 283، 284 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ "فتاویٰ شامی” اور "فتاویٰ عالمگیری” کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں :
"عید کے دن اور شادیوں میں دف بجانا جائز ہے جبکہ سادے دف ہوں، اس میں جھانج نہ ہوں اور قواعد موسیقی پر نہ بجائے جائیں یعنی محض ڈھپ ڈھپ کی بے سری آواز سے نکاح کا اعلان مقصود ہو۔”

(بہارِ شریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 510 مکتبۃ المدینہ کراچی)

مفتی اعظم ھند حضرت علامہ محمد مصطفے رضا خان رحمة الله عليه سے پوچھا گیا کہ دف بجا کر قصائد نعت اور حالت قیام میلاد شریف میں صلاة و سلام پڑھنا جائز ہے یا ناجائز دف مع جھانج ہو تو کیا حکم ہے او ر بلاجھانج ہو تو کیا حکم ہے ؟
تو آپ رحمۃ اللہ علیہ جوابا ارشاد فرمایا :
"ہرگز نہ چاہیے کہ سخت سوءِ ادب (بےادبی) ہے اور اگر جھانج بھی ہوں یا اس طرح بجایا جاے کہ گت پیدا ہو فن کے قواعد پر جب تو حرام اشد حرام حرام در حرام ہے.”
(فتاوی مصطفویہ صفحہ 448 شبیر برادرز لاہور)
ماہنامہ فیضانِ مدینہ میں ہے :

"نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نعت پاک پڑھنا بلا شبہ باعثِ ثواب، باعثِ برکت، سببِ نزولِ رحمتِ خداوندی اور نبیِّ پاک صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضا و خوشنودی اور آپ کی محبت میں اضافے کا سبب ہے، لیکن باقی تمام معاملات کی طرح اس میں بھی شریعت کی پاسداری لازم ہے، لہٰذا دَف اگر جھانج کے ساتھ ہو تو اس کا بجانا مطلقاً ناجائز ہے، جھانج والی دَف کے ساتھ نعت پڑھنا زیادہ ممنوع اور سخت گناہ ہے اور اگر دَف کے ساتھ جھانج نہ ہو تو دف بجانے کی اجازت تین شرطوں کے ساتھ ہے اگر ان میں سے ایک بھی کم ہو تو اجازت نہیں،

پہلی شرط یہ ہے کہ ہیئتِ تَطَرُّب پر نہ بجایا جائے یعنی قواعد ِموسیقی کی رعایت نہ کی جائے،

دوسری شرط یہ ہے کہ بجانے والے مرد نہ ہوں کہ ان کے لئے دَف بجانا مطلقاً مکروہ ہے،
تیسری شرط یہ ہے کہ بجانے والی عزت دار بیبیاں نہ ہوں اور جو بچیاں وغیرہ بجائیں وہ بھی غیرِ مَحَلِّ فتنہ میں بجائیں تو جائز ہے اور حدیث مبارکہ میں جس دَف کے بجانے کا ذکر ہے وہ اسی انداز پر تھا۔ آج کل جو طریقہ رائج ہے اس میں دَف بجانے کی مکمل شرائط نہیں پائی جاتیں، تو ایسا دَف بجانا اور اس کے ساتھ نعت پڑھنا جائز نہیں۔”
(ماہنامہ فیضانِ مدینہ،ربیع الاول 1439ھ، دسمبر 2017ء مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: