ناچ گانا اور ڈی جے کا حکم از مفتی محمد طیب علیمی / مسائل ورلڈ

ناچ گانا اور ڈی جے کا حکم از مفتی محمد طیب علیمی

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان دین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے اپنے بیٹے کے شادی کے موقع پر ڈی جے لایا اور بجوا کر اس پر ڈینس کیا اور گندے گندے گانے بجائے جس پر گاؤں والے سخت ہوئے تو زید نے مسجد اور مدرسے کے بیچ میں کھڑے ہو کر کہا کہ میں نے غلطی کی اور اس بات کا عہد کیا کہ کل میں ڈی جے نہیں لاؤں ۔ گا مگر صبح ہوتے ہی وہ دوبارہ ڈی جے لے کر آیا اور قوالی شروع کر دیا اور پھر تھوڑی دیر بعد نعت رسول بجایا جس پر گاؤں والوں نے اس کے تعلق سے یہ فیصلہ لیا کہ جب تک یہ شخص علی الاعلان توبہ نہیں کرے گا ہم لوگ نہ اس کے یہاں کھائیں گے نہ کھلائیں گے ۔ کیونکہ ایک دن کے پہلے ڈی جے نہ لانے کا مسجد مدرسے کے درمیان عہد کیا تھا اور اس کا معاملہ یہ بھی رہا ہے کہ دو مہینے پہلے ہی سے گاؤں میں چل چل کے اعلان کر رہا تھا کہ میں ڈیجے لاؤں گا کوئی جائے یا نہ جائے جب کہ ہمارے یہاں دس سال سے ڈی جے پرسختی کے ساتھ پابندی ہے اور لوگ اس پر عمل بھی کر رہے ہیں تو زید اور انکے ساتھیوں کے لیے کیا حکم ہے ۔

المستفتی : زین اللہ خان : پپر اسماعیل پوسٹ فتح پور پور ضلع گونڈہ یوپی

الجواب بعون الملک الوہاب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ناچ گانا حرام ہے۔اللہ تبارک و تعالی فرماتا ہے: و من الناس من یشتری لھو الحدیث لیضل عن سبیل اللہ۔ (سورة لقمان آیت:6) اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں ۔

امام ابو داؤد علیہ الرحمہ نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث نقل کیا ہے جس میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : لیس من اللهو إلا ثلاث تأديب الرجل فرسه و ملاعبته أهله و رميه بقوسه ۔

(سنن أبي داود ج 1 ص 363 كتاب الجهاد )

لہذا زید کے ڈانس کرنےاور گانا بجانے پر گاوں والوں کا سخت ہونا قابل تحسین عمل ہے ۔ ان شاء اللہ انہیں امر بالمعروف کا اجر ملے گا ۔

نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا حسب استطاعت مسلمان پر لازم ہے ۔ اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

من رای منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ و ذلک اضعف الایمان۔

(صحيح مسلم كتاب الإيمان ص 51 مطبوعة مجلس بركات)

تم میں سے جو برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روک دے اور اگر یہ نہ کرسکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر یہ بھی نہ کرسکے تو اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے ۔

لیکن بفضلہ تعالی زید نے جب ناچ گانے سے توبہ کرلی تو اب اس پر الزام نہیں، اللہ تواب و رحیم اور غفار ہے۔

قرآن مجید میں فرماتا ہے: قل يا عبادي الذين اسرفوا على انفسهم لاتقنطوا من رحمة الله انه يغفر الذنوب جميعا (سورة الزمر 53) تم فرماو ائے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے۔

اور حدیث رسول ہے: التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ۔ (سنن ابن ماجہ ص 313 مطبوعہ مکتبہ تھانوی دیوبند) جو شخص گناہ سے توبہ کرلے تو اس شخص کی طرح ہے جس کے پاس کوئی گناہ نہیں ۔

رہی یہ بات کہ زید نے عہد کرنے کے باوجود بلا وجہ ڈی جے لاکر اس پر قوالی بجوائی تو اس وجہ سے وہ وعدہ خلافی کا مرتکب ہوا اس سے اس کو پرہیز کرنا لازم تھا ۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ ڈی جے ایک آلہ ہے جو فی نفسہ ممنوع نہیں بلکہ اس کا غلط استعمال ممنوع ہے ۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ان آلات اللھو لیست محرمة لعينها بل لقصد اللهو منها۔

(رد المحتار ج 6 ص 350 کتاب الحظر والاباحة مطبوعة ایچ ایم سعید)

تاہم ڈی جے سے ہونے والا شور صوتی آلودگی کا سبب ہے اور عموما اس سے نکلنے والی آواز تکلیف دہ ہوتی ہے اور بالخصوص مریضوں کے لئے۔ اور ہمارے مذہب اسلام نے ایک عام ضابطہ دیا ہے کہ لاضرر ولاضرار۔(سنن ابن ماجہ ص 169 مطبوعہ مکتبہ تھانوی دیوبند) اسلام میں کسی قسم کے نقصان اور تکلیف کی گنجائش نہیں ہے ۔

بلکہ اسلام تو راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانے کی بھی ترغیب دیتا ۔ عن النبي صلى الله عليه وسلم يميط الأذى عن الطريق صدقة

(صحیح بخاری ج 1 ص 334 باب إماطة الأذى مطبوعة مجلس بركات )

لہذا ڈی جے جیسی سخت تکلیف دہ چیز سے سے بھی ضرور ضرور پرہیز چاہئے اور ہر اس چیز سے پرہیز کیا جائے جس کی بنا پر شادی کے اخراجات بار گراں بنتے جا رہے ہیں اور معاشرہ تباہی کے دہانے پر جا رہا ہے ۔

ہمارا اسلام فضول خرچی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے: لاتبذر تبذیرا ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین۔ (سورة الإسراء آیت: 26- 27) اور فضول نہ اڑا، بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔

زید کو چاہئے کہ ڈیجے کے خلاف گاوں کا جو ماحول ہے اسی ماحول میں خود کو بھی ڈھالے کہ یہ کار خیر ہے اور رب تبارک و تعالی کا فرمان ہے: تعاونوا علی البر و التقوی ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان ۔(سورة المائدة آیت:2) اور نیکی اور پرہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔

حدیث رسول ہے: وید اللہ علی الجماعة (جامع ترمذی ج 2 ص 39 باب فی لزوم الجماعة مطبوعة مجلس بركات) اللہ کی مدد جماعت کے ساتھ ہے۔ لہذا زید مذکور کو چاہئے کہ جماعت سے الگ نہ ہو۔

البتہ زید نے جبکہ اصلاح قبول کرلی اور اس نے ناچ اور گانا سے پرہیز کیا تو گاوں والوں کی کوشش بیکار نہ گئی بلکہ یہ بڑی کامیابی ہے۔ امید رکھیں کہ آج ناچ گانا چھوڑا ہے آئندہ ڈیجے سے بھی پرہیز کرے گا اور محض ڈیجے پر نعت لگانے پر بائیکاٹ مناسب نہیں، اور یوں ہی قوالی بھی اگر مزامیر کے بغیر رہی ہو۔ہاں! ڈھول باجا اور مزامیر کے ساتھ قوالی بجانے کے سبب اگر بائیکاٹ کے سوا اور کوئی تدبیر موثر نہ ہو تو یہ بیجا بھی نہیں اعلیحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں: قوالی مع مزامیر سننا کسی شخص کو جائز نہیں ۔

(فتاوی رضویہ ج 9 نصف ثانی قدیم ص 274)۔

نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں اصلاح اور خیر خواہی کا مقصد ہی پیش نظر ہوتا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گاوں والے اپنی نیت میں مخلص ہیں۔ ان کے اخلاص کی برکت ہے کہ زید کو ناچ گانے سے توبہ کی توفیق ملی،اگر کسی کے ذریعے کسی کو ہدایت مل جائے تو یہ دولت دنیا کی سب سے قیمتی دولت سے بھی بہتر ہے۔ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے مولائے کائنات شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے فرمایا:
فواللہ لان یہدی اللہ بک رجلاواحدا خیر لك من ان يكون لك حمر النعم ۔

(صحیح بخاری ج 2 ص 606 باب غزوة خيبر مطبوعة مجلس بركات )

خدا کی قسم تمہارے ذریعے اللہ ایک بندے کو ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ اس وقت عرب کا سب سے قیمتی سرمایہ سرخ اونٹ تھا۔

گاوں والوں کو چاہئے کہ زید کے ساتھ خیر خواہی کا برتاو کریں اور حکمت و تدبر کے ساتھ اسے سمجھانے کی مخلصانہ کوشش کرتے رہیں اور زید کو چاہئے کہ الجھنے اور ناراض ہونے کے بجائے سنجیدگی اختیار کرے اور گاوں والوں کو اپنا خیر خواہ اور محسن سمجھے کہ اس کے دین دنیا کی بھلائی چاہتے ہیں۔ اور شیطان کے بہکاوے میں آکراپنے مسلمان بھائیوں سے بد ظن اور ان کے خلاف ہوکر شیطان کو خوش نہ کرے۔ ان الشیطان للانسان عدو مبین۔(سورة يوسف آیت: 5) بے شک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب۔

کتبــــہ : محمد طیب علیمی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا
22 ربيع الآخر 1443ھ
الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

Leave a Reply

%d bloggers like this: