مسافر کون ہے ؟ اگر مسافر نماز میں قصر نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟

مسافر کون ہے ؟ اگر مسافر نماز میں قصر نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟

سوال : زید جس کا آبائی وطن ضلع بستی ہے وہ تجارت کی غرض سے بمبئی میں دکان و مکان بناکر وہاں بال بچوں کے ساتھ رہتا ہے. ہر دس دن پر بغرض تجارت ممبئی سے پونا جاتا ہے اور ایک دو روز بعد واپس آتا ہے . جبکہ ممبئی سے پونہ کی مسافت 92 کلومیٹر سے زیادہ ہے سوال یہ ہے کہ جب زید 8/9 دن اپنے بال بچوں کے ساتھ بمبئی میں رہتا ہے تو ان دنوں میں وہ شرعی مسافر رہتا ہے یا نہیں؟ اگر مسافر ہے اور چار رکعت والی فرض نمازوں کو دو نہیں پڑھتا تو کیا حکم ہے؟
بینوا و توجروا ۔

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جب زید بمبئی میں تجارت کے مقصد سے دوکان و مکان بنا کر رہتا ہے تو وہ جگہ اس کے لیے وطن اصلی نہیں ہے بلکہ وطن اقامت ہے اگرچہ وہاں قیام زیادہ ہو. لہذا جب وہ پونہ سے ممبئی آ کر وہاں صرف آٹھ نو دن ٹھرتا ہے تو وہ شرعی مسافر ہے اور اس پر قصر ہی پڑھنا واجب ہے کہ وطن اقامت سفر سے باطل ہوجاتا ہے۔ ایسا ہی فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ ٦٧٠ پر ہے ۔ اور علامہ حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ” الوطن الاصلی ھو موطن ولادتہ او تاھلہ او توطنہ ” ( درمختار مع الشامی جلد دوم صفحہ 131)

اور علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ تحریر فرماتے ہیں ” قوله او تاهله اي تزوجه قال في شرح المنيۃ ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينوی الاقامه به فقيل لا يصير مقيما وقيل يصير مقيما وهو الاوجه. قوله او توطنہ ای عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وان لم يتاهل فلو كان ابوان ببلد غير مولده وهو بالغ و لم يتاهل به فليس ذلك وطنا له الا اذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنيه ١ھ.
(رد المحتار جلد دوم صفحہ ١٣١)
اور تنویر الابصار میں ہے ” ويبطل وطن الاقامۃ بمثله والاصلي والسفر ١ھ.

لہذا اگر زید ان دنوں چار رکعت والی نماز کو دو نہیں پڑھے گا تو گنہگار ہوگا. فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 139 میں ہے ” من صلى اربعا يسير مسيئا لتاخير السلام” ١ھ.
البتہ اگر مقیم امام کی اقتدا کرے گا تو پوری چار رکعت پڑھنا پڑے گا. نورالایضاح صفحہ 103 پر ہے” ان اقتدی مسافر بمقيم اتمها اربعا. ١ھ ملخصا.
واللہ تعالی اعلم ۔

کتبہ : مفتی محمد اشتیاق احمد مصباحی
الجواب صحیح: مفتی جلال الدین احمد الامجدی

Leave a Reply

%d bloggers like this: