جس موبائل میں تصاویر اور گندی چیزیں ہوں اس کو جیب میں رکھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

جس موبائل میں تصاویر اور گندی چیزیں ہوں اس کو جیب میں رکھ کر نماز پڑھنا کیسا ہے

سوال : جیب میں ایسا موبائل رکھ کر نماز پڑھنا جس میں جاندار کی تصویر ،گانے، گندی فلمیں وغیرہ ہواکرتی ہیں کیسا ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ

مسلمانوں کو ہمیشہ تصویر کشی، گانےاور فلموں سے بچنا چاہیے اور موبائل میں ہرگز نہیں رکھنا چاہیے اور اگر ہو تو ختم کردینا چاہیے ۔ لیکن اگر موبائل میں یہ ساری چیزیں ہوں تو اس کو نمازی جیب میں رکھ کر نماز نہ پڑھے یا اس کو بند کرکے جیب میں رکھے اور اگر موبائل آن کرکے بھی جیب میں رکھ لیا تو بھی نماز میں کوئی خرابی نہیں آئے گی ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

” ولا باس للرجل ان یوم الناس وعلی بدنہ تصاویر لانھا مستور بثیاب وکذا لو صلی وفی اصبعہ خاتم فیہ صورۃ صغیرۃ او صلی ومعہ دراھم علیھا تماثیل لانھا صغیرۃ کذا فی قاضی خان ” اھ

(الفتاوی الھندیۃ : ج: 1، ص: 86، کتاب الصلاۃ، فصل : 3، فی بیان من یصلح اماما لغیرہ)

درمختار میں ہے :

"(قولہ لا لمستتر بکیس او صرۃ) بان صلی ومعہ صرۃ او کیس فیہ دنانیر او دراہم فیہا صور صغار فلا تکرہ لاستتارھا”اھ

(الدر المختار مع ردالمحتار : ج: 2، ص: 504، کتاب الصلاۃ، باب ما یفسد الصلاۃ ومایکرہ فیھا )

بہار شریعت میں ہے :

” تھیلی یا جیب میں تصویر چھپی ہوئی ہو تو نماز میں کراہت نہیں "اھ

(بہار شریعت: ج1، ح: 3، ص: 628، مکروہات کا بیان )

 مفتی عبدالقادر المصباحی الجامعی
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
مقام مہیپت گنج ، ضلع گونڈا، یوپی ،انڈیا
      ٢٥ ربیع الآخر ١٤٤٣ھ

Leave a Reply