کیا موبائل پر قرآنِ پاک پڑھنے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے؟

کیا موبائل پر قرآنِ پاک پڑھنے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

موبائل یا کمپیوٹر سکرین پر نظر آنے والی قرآنی آیات کو بلا وضو یا حالتِ جنابت (بےغسلی) میں چُھونا جائز ہے۔ موبائل یا کمپیوٹر کی سکرین پر جو آیات نظر آتی ہیں، وہ ایسے نقوش ہیں جنہیں چُھوا نہیں جاتا کیونکہ نقوش بھی کمپیوٹر یا موبائل کے شیشے پر نہیں بنتے بلکہ ’’ریم‘‘ پر بنتے ہیں اور شیشے سے نظر آتے ہیں، تو قرآنِ پاک اور ہاتھوں کے درمیان شیشہ حائل ہوتا ہے لہٰذا اسے مصحفِ قرآنی کے ’’غلافِ منفصل‘‘ پر قیاس کیا جاسکتا ہے اور غلافِ منفصل سے مراد ایسا غلاف ہے جو قرآنِ کریم کے ساتھ لگا ہوا نہ ہو بلکہ اس سے جُدا ہو۔ ایسے غلاف میں موجود قرآنِ کریم کو بلا وضو چُھونے کی فقہائے کرام نے اجازت دی ہے۔

چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :
"مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مس المصحف الا بغلاف متجاف عنه کالخريطة والجلد الغير المشرز لا بماهو متصل به” ۔ 

حیض ونفاس والی عورت، جنبی اور بے وضو کے لئے مصحف کو ایسے غلاف کے ساتھ چھونا جائز ہے جو اس سے الگ ہو، جیسے جزدان اور وہ جلد جو مصحف کے ساتھ لگی ہوئی نہ ہو۔ جو غلاف مصحف سے جُڑا ہوا ہو،اس کے ساتھ چھُونا جائز نہیں ۔
(فتاوی عالمگیری جلد1صفحہ 39)

سکرین پر نظر آنے والی آیات کی مثال ایسی ہی ہے کہ گویا قرآنی آیات کسی کاغذ پر لکھیہوئی ہوں اور وہ کاغذ کسی شیشے کے بکس میں پیک ہو، پھر باہر سے اس شیشے کو چُھوا جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ غلافِ منفصلکی طرح یہ شیشہ اس جگہ سے جُدا ہے جہاں آیات کے نقوش بن رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر صندوق کے اندرمصحف موجود ہو تو اس صندوق کوجنبی (جس پر غسل فرض ہو) شخص کے لیے اُٹھانا اور چُھونا جائز ہے۔ جیساکہ امام شامی نے فرمایا ہے:

"لَوْ كَانَ الْمُصْحَفُ فِي صُنْدُوقٍ فَلَا بَأْسَ لِلْجُنُبِ أَنْ يَحْمِلَهُ”۔ 

یعنی اگر قرآنِ کریم کسی بکس کے اندر ہو تو جنبی کے لیے اس بکس کو اٹھانے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

(رد المحتار على الدر المختار، جلد1 صفحہ 293، دار الفكربيروت)

لہٰذا موبائل یا کمپیوٹر سکرین پر نظر آنے والی قرآنی آیات کو حالتِ جنابت میں یا بلا وضو چُھونا اور پکڑنا جائز ہے۔ بےوضو شخص کے لیے اس سے تلاوت کرنا بھی جائز ہے، البتہ جنبی (بےغسلے) کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت ناجائز ہے، اس سے بچنا لازم ہے ۔

نوٹ:  البتہ بہتر یہی ہے کہ باوضو ہی موبائل پر قرآنِ پاک کو چھوا جائے ۔

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: