سلم یا استصناع کے طور پر موبائل کی خرید وفروخت

سلم یا استصناع کے طور پر موبائل کی خرید وفروخت

سلم اور استصناع یہ دونوں بیع (خریدوفروخت )کی دو مختلف صورتیں ہیں :
بیع سلم وہ بیع ہے جس میں قیمت کا فورا ادا کرنا ضروری ہو اور مشتری ( خریدار) فی الحال ثمن (قیمت )ادا کر دے۔
اور بیع استصناع وہ بیع ہے جس میں کاریگر کو فرمائش دے کر کوئی چیز (سامان) بنوائی جاتی ہے ۔ اگر اس میں کوئی میعاد(وقت) مذکور ہو اور وہ ایک ماہ سے کم کی نہ ہو وہ سلم ہے ۔۔۔۔۔۔ اگر مدت ہی نہ ہو یا ایک ماہ سے کم کی مدت ہو تو استصناع ہے۔

بیع سلم میں تعامل (یعنی اس قسم کی خریدوفروخت کا مسلمانوں میں رواج ہونا) ضروری نہیں اور بیع استصناع کے جائز ہونے کے لئے تعامل ضروری ہے یعنی اس کے بنوانے کا رواج ہو ۔ موزہ، جوتا ،اور ٹوپی وغیرہ میں استصناع درست ہیں اور جس میں رواج نہ ہو مثلاً کپڑا بنوانا ، کتاب چھپوانا اس میں استصناع درست نہیں۔

خریدوفروخت کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ مبیع یعنی سامان خرید و فروخت کے وقت موجود ہو ۔ اسی وجہ سے فقہائے عظام نے ” معدوم کی بیع ” کو باطل اور ناجائز قرار دیا ہے۔ بیع سلم اور استصناع میں فی الحال مبیع یعنی سامان موجود نہیں ہوتا لیکن عرف عام اور تعامل ناس کی وجہ سے سلم اور استصناع کے طور پر خرید وفروخت جائز اور درست ہے۔

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان نے بہار شریعت میں ” بیع سلم” کی چودہ شرطیں بیان کی ہیں۔ ان شرطوں کی رعایت ضروری ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مطلوبہ موبائل دکان میں موجود نہیں ہوتا ہے ۔ خریدار دکاندار سے کہتا ہے فلاں کمپنی کا فلاں نمبر فلاں ماڈل والا موبائل منگوا دو اور یہ رقم فی الحال لے لو ۔ اگر اس طرح کا معاملہ خریدار اور دکاندار کے درمیان طے ہوجائے۔ سامان وقیمت اور میعاد ووقت کی اچھی طرح تعیین ہوجائے یعنی موبائل کی جنس مثلاً ( Nokia——Samsung) اور نوع(مثلاS5222) اور کم از کم ایک مہینے کا وقت مقرر ہو تو اس طرح یعنی سلم کے طور پر موبائل کی خرید و فروخت جائز ہے۔ اور ایک مہینے سے کم کی مدت ہو پھر بھی جائز ہے۔

بیع سلم کی اصل پہنچان یہی ہے کہ قیمت فور اسی وقت ادا کی جائے اور کم از کم ایک مہینے کی میعاد مقرر کی جائے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ بیع سلم کے طور پر موبائل خریدا جائے اور پوری قیمت دکان دار کے حوالے نہ کی جائے اور میعاد بھی ایک ماہ سے کم مقرر کی جائے تو اب ایسی صورت میں "موبائل کا سلم "جائز ہوگا یا نہیں ؟

آج کل بالعموم یہی ہوتا ہے کہ کچھ رقم ایڈوانس کے طور پر پہلے دے دی جاتی ہے اور ایک مہینے سے کم وقت مقرر ہوتا ہے ۔ اب ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا؟

تو اس سوال کا جواب ہوگا سلم کے طور پر اس طریقے سے بھی موبائل کی خرید و فروخت جائز ہے، کیونکہ موبائل کی اس طریقے سے خریدوفروخت پر لوگوں کا اب تعامل ہوچکا ہے ۔ اور تعامل ناس کی وجہ سے بہت ساری ایسی بیعیں جو کسی زمانے میں شرط فاسد کی وجہ سے ناجائز تھیں ، مگر بعد میں ان شرطوں کے متعارف ہونے کی وجہ سے جائز ہوگئیں ۔ جیسے موبائل، کولر ، پنکھا، گھڑی اور فریج وغیرہ میں گارنٹی یا وارنٹی کی شرط کہ اصل مذہب کے لحاظ سے ناجائز ہے اور اب عرف وتعامل کی وجہ سے جائز ہے ۔

لہٰذا اگر سلم کے طور پر موبائل کی خرید و فروخت ہو اور پوری قیمت فی الحال ( بیع کے وقت) دکاندار کے حوالے نہ کی جائے اور میعاد بھی ایک مہینے سے کم مقرر کی جائے تو عرف عام اور تعامل ناس کی وجہ سے بطور سلم اس طریقے سے بھی موبائل کی خرید و فروخت جائز ہے۔
بیع استصناع میں کاریگر سے فرمائش کرکے کوئی سامان بنوایا جاتا ہے، اور موبائل کی بیع میں بعض اوقات موبائل کا آرڈر دیاجاتا ہے، فرمائش کرکے بنوایا نہیں جاتا ہے،اور نہ ہی موبائل کو فرمائش کرکے بنوانے پر اب تک لوگوں کا تعامل ہوا ہے ۔ اور” بیع استصناع” میں تعامل ضروری ہے۔ لہذا استصناع کے طور پر موبائل کی خرید و فروخت ناجائز ہوگا۔

والله اعلم بحقيقة الحال

ماخوذ از : موبائل فون کے ضروری مسائل ۔ علامہ طفیل احمد مصباحی 

Leave a Reply

%d bloggers like this: