مٹی کھانا کیسا ہے ؟ از مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

عام مٹی کھانا کیسا ہے ؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

عام مٹی کھانا کیونکہ انسانی صحت کیلئے باعثِ ضرر اور نقصان دہ ہے, اسلیے اسے کھانا ناجائز و گناہ ہے اور خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے.

چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے :

"أکل الطین مکروه، ذکر في فتاوی أبي اللیث: ذکر شمس الأئمة الحلواني في شرح صومه: إذا کان یخاف علی نفسه أنه لو أکله أورثه ذلک علة أوآفة لا یباح له التنا ؤل، وکذلک هذا في کل شيء سوی الطین ، وإن کان یتناول منه قلیلاً أو کان یفعل ذلک أحیاناً لا بأ س به، کذآ في المحیط. الطین الذي یحمل من مکة ویسمی "طین أحمر”

هل الکراهیة فیه کالکراهة في أکل الطین علی ما جاء في الحدیث؟ قال: الکراهية في الجمیع متحدة،کذا في جواهر الفتاویٰ. وسئل عن بعض الفقهاء عن أکل طین البخاری ونحوه؟ قال: لا بأس بذلک مالم یضر، وکراهية أکله لا للحرمة بل لتهیج الداء وعن ابن المبارک کان ابن ابی لیلی یرد الجاریۃ من اکل الطین وسئل ابوالقاسم عمن أکل الطین قال : لیس ذلک من عمل العقلاء کذا فی الحاوی للفتاوی و المرأۃ اذا اعتادت اکل الطین تمنع من ذلک اذا کان یوجب نقصانا فی جمالھا کذا فی المحیط”.

یعنی مٹی کھانا مکروہ (تحریمی) ہے یہ "فتاوی ابی اللیث” میں ہے, شمس الائمہ حلوانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی "شرح صوم” میں ذکر فرمایا ہے کہ : جب اس کو اپنی جان پر خوف ہو کہ اگر اس نے مٹی کھائی تو مٹی اس میں بیماری یا آفت پیدا کردے گی تو اس کے لئے مٹی کھانا جائز نہیں ہے, یہ حکم مٹی کے علاوہ ہرچیز میں ایسے ہی ہے, اور اگر وہ اس (مٹی) سے تھوڑا کھالیتا ہے یا وہ اسے کبھی کبھار کرتا ہے (یعنی کبھی کبھار تھوڑی سی کھا لیتا ہے) تو اس میں کوئی حرج نہیں, ایسے ہی محیط میں ہے. وہ مٹی جسے مکہ مکرمہ سے اٹھا کر لایا جاتا ہے اور اسے "طین احمر” کہا جاتا ہے, کیا اس (کے کھانے) میں کراہت ,اس کراہت کی طرح ہے جو مٹی کھانے کے متعلق حدیثِ مبارکہ میں آئی ہے ؟ فرمایا : کراہت تمام میں برابر ہے, ایسے ہی "جواہر الفتاوی” میں ہے. اور بعض فقہاےکرام سے بخاری یا اس کی مثل مٹی کھانے کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو فرمایا : اس میں حرج نہیں ہے جب تک نقصان نہ پہنچائے. اور مٹی کو کھانے کی کراہت, اس کے حرام ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بیماری ابھارنے کی وجہ سے ہے. اور ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ ابن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ مٹی کھانے کی وجہ سے (خریدی گئی) لونڈی (بیچنے والے) کو واپس کردیتے تھے. اور ابوالقاسم رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا اس شخص کے بارے میں جو مٹی کھاتا ہے (تو جواباً) فرمایا : یہ (یعنی مٹی کھانا) عقل والوں کے کام میں سے نہیں, ایسے ہی "الحاوی للفتاوی” میں ہے, اور جب عورت مٹی کھانے کی عادی ہو تو اس کو اس سے روکا جائے گا جب کہ مٹی کھانا اس کی خوبصورتی میں نقصان پیدا کررہا ہو, ایسے ہی "محیط” میں ہے.

(فتاوی عالمگیری ,کتاب الكراهية، الباب الحادي عشر في الکراهية في الأکل وما یتصل بها , جلد 5, صفحہ 340 ,341 دارالفکر)

اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے :

"و یکرہ أکل الطین لأن ذلک یضرہ فیصیر قاتلاً نفسہ”

یعنی مٹی کو کھانا مکروہِ (تحریمی) ہے کیونکہ یہ بندے کو نقصان پہنچاتی ہے ,پس وہ اپنی جان کو قتل کرنے والا ہوجائے گا.

(فتاویٰ قاضي خان علی ہامش الفتاوی الہندیة جلد 3 صفحہ 403)

سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

"گلِ خوردنی خالص سوندھنی مٹی خوشبو خوش ذائقہ جسے طینِ خراسانی کہتے ہیں بعض حاملہ عورتیں اور پست طبیعت لوگ اسے کھاتے ہیں طباً مضر اور شرعاً حرام ہے”.

(فتاوی رضویہ جلد 3 صفحہ 643 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: