کیا منبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ہے؟

کیا منبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کیا ممبر رسول کے زینے پر چڑھ کر تقریر کر نا جائز ہے۔؟ قرآن وسنت کے حوالے سے رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔

سائل:- حافظ غلام مصطفی نقشبندی، سکنہ کالاکوٹ

الجواب بعون الهادى الى الحق والصواب

منبر کے زینہ پر چڑھ کر تقریر کرنا جائز ودرست بلکہ انبیاء ومرسلین علیہم السلام کی سنت ہے-شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں ۔

در مختار میں ہے”التذكير على المنابر للوعظ والاتعاظ سنة الانبياء والمرسلين، ولریاسة ومال وقبول عامة من ضلالة اليهود والنصارى،اھ”( در مختار مع رد المحتار ج ۹ ص ۶۰۴/ دار عالم الکتب الریاض)

فتاوی مصطفویہ میں ہے”منبر اینٹ چونے کا ہو یا لکڑی کا تخت ہو یا کرسی مقرر اس پر بیٹھتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے تاکہ پورے مجمع تک آواز پہنچے اور پورا مجمع اسے سنے اور تعظیم ذکر بھی اس سے حاصل ہوتی ہے-پہلے حضور علیہ الصلاة و السلام کے لیے منبر نہ تھا پھر منبر بنایا گیا- کرسی پر بیٹھنا منبر ومحراب کی توہین نہیں جیسے خود منبر جو مسجد کے لیے بنا ہوا ہے اس پر کھڑا ہونا یا بیٹھنا محراب کے احترام کے خلاف نہیں”( ص ۶۳۰/مکتبہ فقیہ ملت دہلی) واللہ تعالی أعلم بالصواب

کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ خطیب نور الایمان جامع مسجد اسلام پور تھنہ منڈی راجوری جموں وکشمیر

الجواب صحیح :محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Leave a Reply

%d bloggers like this: