معذور کا حکم شرعی | ہمیشہ پیشاب کا قطرا نکلتا رہتا ھے وہ شخص نماز کیسے ادا کرے

معذور کا حکم شرعی از کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

عنوان : سوال عرض ھے کی ایک شخص ھے جسکو بیماری کے وجہ سے ہمیشہ پیشاب کا قطرا نکلتا رہتا ھے اب وہ شخص نماز کیسے ادا کرے

جواب عنایپ فرمایں مھربانی ھو گی

المستفتی :محمد فیضان کرناٹک

الجواب: بعون الملک الوھاب

مذکورہ شخص کو اگر اتنا زیادہ پیشاب کا قطرہ آتا ہے کہ کسی وقت کی فرض نماز کا وقت اس طرح گزر گیا کہ باوضو فرض نماز ادا نہ کرسکا تو ایسا شخص "معذور” ہوگیا، اس لیےایسا شخص نماز کا وقت آئے تو وضو کرلے، پھر اس وضو سے ایک وقت میں جتنی چاہے نمازیں پڑھے،خاص قطرہ آنے کے سبب اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ ہاں نماز کا وقت ختم ہوجانے پر وضو ٹوٹ جائے گا۔ پھر سے وضو کرے، اسی طرح سے ہر نماز کے وقت نیا وضو کرکے نماز پڑھتا رہے جب تک وہ معذور رہے یعنی جب تک کسی نماز کا کامل وقت اس طرح گزر نہ جائے کہ اس پورے وقت میں ایک بار بھی قطرہ نہ آئے،

بہار شریعت میں ہے :

ہر وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہے کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کر سکا معذور ہے، اس کا بھی یہی حکم ہے کہ وقت میں وضو کرلے اور آخروقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وضو سے پڑھے، اس بیماری سے اس کا وضو نہیں جاتا، جیسے قطرے کا مرض، یا دست انا، یا ہوا خارج ہونا، دکھتی آنکھ سے پانی گرنا،یا پھوڑے ،یا ناصور سے ہر وقت رطوبت بہنا، یا کان، ناف، پستان سے پانی نکلنا کہ یہ سب بیماریاں وضو توڑنے والی ہیں، ان میں جب پورا ایک وقت ایسا گزر گیاکہ ہر چند کوشش کی مگر طہارت کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکا تو عذر ثابت ہو گیا. (حصہ دوم ص٣٨٥)

فتاوی فیض الرسول میں ہے:

” وہ شخص جسے ہر وقت پیشاب کا قطرہ آنے کی بیماری ہے اگر نماز کا ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وضو کے ساتھ نماز فرض ادا نہ کر سکا تو معذور ہے، اس کا حکم یہ ہے کہ فرض نماز کا وقت ہو جانے پر وضو کرے اور آخر وقت تک جتنی نمازیں چاہے اس وضو سے پڑھے، اس وقت میں پیشاب کا قطرہ آنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، پھر اس فرض نماز کا وقت چلے جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

فتاویٰ عالمگیری جلد اول مطبوعہ مصر ص 38 میں ہے:

” المستحاضة ، ومن به سلس البول ، أو استطلاق البطن ، أو انفلات الريح ، أو رعاف دائم ، أو جرح لا يرقأ ، يتوضئون لوقت كل صلاة ،ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض ، والنوافل ھکذا فی البحر،ويبطل الوضوء عند خروج وقت المفروضة بالحدث السابق، هكذا في الهداية وهو الصحيح هكذا فى المحيط فى نواقض الوضوء وهو تعالى اعلم”(ج ١ص ١٧٢)

واللہ تعالیٰ اعلم

کتبہ :کمال احمد علیمی نظامی جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی

٢٤صفرالمظفر ١٤٤٣ھ / ٢ اکتوبر ٢٠٢١ء

الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

Leave a Reply