مسجد کے لئے خریدی گئی اینٹیں مسجد کے بیت الخلا کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے ؟

مسجد کے لئے خریدی گئی اینٹیں مسجد کے بیت الخلا کے لئے استعمال کرنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسجد کا تعمیری کام چل رہا تھا جو کہ مکمل ہوگیا ہے، کچھ اینٹیں بچ گئی ہیں،وہ اینٹیں نئی خریدی گئی تھیں پہلے کبھی مسجد میں استعمال نہیں ہوئیں۔کیا انہیں مسجد کے بیت الخلاء میں استعمال کر سکتے ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نہیں کرسکتے، آپ اصل مسئلہ کی وضاحت فرمائیں کہ کیا ہے؟

سائل:۔ محمد الیاس، پلانگڑ۔

باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:۔

پوچھی گئی صورت میں مسجد کا تعمیری کام مکمل ہونے کے بعد باقی بچی ہوئی اینٹیں مسجد کے بیت الخلاء میں استعمال کر سکتے ہیں اس میں کوئی قباحت نہیں،نامناسب اور خلاف ادب اس صورت میں ہے جبکہ وہ اینٹیں پہلے مسجد کی دیواروں یا فرش میں لگی ہوئی تھیں۔جو اینٹیں نئی خرید کر لائی جاتی ہیں مسجد کا تعمیری کام مکمل ہونے کے بعد بچ جاتی ہیں انہیں مسجد کے بیت الخلاء وغیرہ میں لگانا یا پھر کوئی شخص خرید کر اپنے گھر کے بیت الخلاء وغیرہ میں لگا سکتا ہے منع نہیں ہے۔

فتاوی امجدیہ میں سوال ہوا:۔ "کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے مسجد کی اینٹیں ناپاک جگہ پائخانہ میں لگائیں۔۔۔۔۔۔ لہذا شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا۔

اس کے جواب میں حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:۔ "مسجد کی اینٹوں کو پائخانہ میں نہیں لگانا چاہیے۔ علماء ومشائخ نے فرمایا کہ مسجد کا کوڑا نجاست کی جگہ نہ پھینکا جائے۔ جب کوڑے کے متعلق شریعت میں یہ ادب تحریر فرمایا گیا تو اینٹوں کو خاص پاخانہ میں لگانا کیون کر ٹھیک ہوسکتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ وہ اینٹیں مسجد کی دیوار یا فرش میں لگی ہوئی تھیں۔ اور اگر مسجد کی اینٹوں سے یہ مراد ہے کہ مسجد کی ملک تھیں اور اس شخص نے ان کو خرید کر پاخانہ میں لگایا تو کوئی حرج نہیں”(فتاوی امجدیہ ج ١ ص ٢٦٨/باب احکام المسجد)والله تعالیٰ أعلم

کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر مقیم حال بالاسور اڑیسہ ٢٢/رمضان المبارک ١٤٤٥ھ مطابق ٢/ اپریل ٢٠٢٤ء

الجواب صحیح:محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

الجواب صحیح واللہ اعلم :محمد اسلم رضا مصباحی عفی عنہ، جموں

Leave a Reply