موتی کا ہار پہننا کیسا ہے از علامہ کمال احمد علیمی نظامی

موتی کا ہار پہننا کیسا ہے

حضرت مولانا مفتی کمال احمد علیمی نظامی صاحب

السلام عليكم و رحمۃاللہ وبرکاتہ

سوال یہ ہے کہ مسلمان مرد کے لیے ہیرے کا ہار پہننا ازروئے شرع کیسا ہے؟ یکے از بندگان خدا

خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف

الجواب بعون الملک الوھاب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

مرد کے لیے صرف چاندی کی انگوٹھی جائز ہے جس کا وزن ساڑھے چار ماشہ(چار گرام چھ سو پینسٹھ ملی گرام) سے کم ہو ،باقی کسی قسم کا زیور جائز نہیں،بہار شریعت میں درمختار اور ردالمحتار کے حوالے سے ہے :

"مرد کو زیور پہننا مطلقا حرام ہے، صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو، اور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے”(بہار شریعت حصہ 16 ص 426 مطبوعہ مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی کراچی)

مذکورہ بالا بیان سے ظاہر ہے کہ کسی بھی مسلمان کو ہیرے کا ہار پہننا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ وہ بھی زیور ہے.نیز اس میں غیروں سے تشبہ بھی ہے جو بجائے خود وجہ منع ہے ھذا ما ظھر لی۔واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: علامہ کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی

٤ربیع النور شریف ١٤٤٣/ ١١اکتوبر ٢٠٢١

الجواب صحیح : مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

Leave a Reply

%d bloggers like this: