کیا قعدہ اولی میں تاخیر ہونے پر لقمہ دیا جا سکتا یے

قعدہ اولی میں تاخیر ہونے پر لقمہ دینا فضول و مفسد نماز ہے

السلام عليكم و رحمتہ و برکاتہ
سوال : امام نے مغرب کی نماز پڑھائی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد درود ابراہیمی بھی پڑھ دیئے آخر تک ، تب مقتدی نے لقمہ دیا لیکن امام نے جان کر بھی سجدہ سہو نہیں کیا وہ اسلیے کہ جماعت میں مقتدی کی کثرت کی وجہ سے اگر سجدہ سہو نہیں کرتے ہیں تو بھی نماز درست ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ نماز ہوئی یا نہیں؟
سائل:ابو ام الاخیرہ

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔

امام کے سلام سے پہلے مقتدی کا لقمہ دینا فضول و بے فائدہ ہونے کے سبب اپنے حکم اصلی کی رو سے کلام ہوکر مفسد نماز ہے ۔ لہذا اگر امام نے مقتدی کا لقمہ لیا تو کسی کی نماز نہ ہوئی کہ بلا ضرورت لقمہ دینے کے سبب اس مقتدی کی نماز فاسد اور وہ نماز سے خارج کیونکہ وہ لقمہ نہ دیتا تو سجدہ سہو سے زیادہ جو کہ تاخیر کے سبب پہلے ہی واجب ہو چکا تھا کوئی اور چیز واجب نہ ہوتی اور اس خارج من الصلاۃ مقتدی کا لقمہ لینے کے سبب امام کی اور اس کے ساتھ تمام لوگوں کی نماز فاسد کہ تلقم من الخارج مفسد نماز ہے۔ اس نماز کا اعادہ فرض ہے البتہ اگر امام نے اس خارج من الصلاۃ مقتدی کا لقمہ نہ لیا ہو بلکہ خود یاد آنے پر قیام کی طرف پلٹا ہو تو لقمہ دینے والے کے سوا سب کی نماز ہوگئی جبکہ واقعۃ لوگوں کی کثرت ہو ورنہ ترک سجدہ سہو کے سبب نماز کا اعادہ واجب ۔

فتاوی رضویہ میں ہے "جب یہ اصل ممہد ہولی حکم صورت مسؤلہ واضح ہوگیا ظاہر ہے کہ جب امام کو قعدہ اولٰی میں دیر ہوئی اور مقتدی نے اس گمان سے کہ یہ قعدہ اخیرہ سمجھا ہے تنبیہ کی تو دو حال سے خالی نہیں یا تو واقع میں اس کا گمان غلط ہوگا یعنی امام قعدہ اولٰی ہی سمجھا ہے اور دیر اس وجہ سے ہوئی کہ اس نے اس بار التحیات زیادہ ترتیل سے ادا کی جب تو ظاہر ہے کہ مقتدی کا بتانا نہ صرف بے ضرورت بلکہ محض غلط واقع ہوا تو یقینا کلام ٹھہرا اور مفسد نماز ہوا ۔

لقول الحلیۃ ان ماوراء ذلک یعمل فیہ بقضیۃ القیاس ولقول المعدول بہ عن القیاس لایقاس علیہ ولقول الفتح یبقی ماوراءہ علی المنع ولقول التبیین لایقاس علیہ غیرہ وھذا واضح جدا۔

یا اس کا گمان صحیح تھا غور کیجئے تو اس صورت میں بھی اس بتانے کا محض لغو و بے حاجت واقع ہونا اور اصلاح نماز سے اصلاً تعلق نہ رکھنا ثابت کہ جب امام قدہ اولٰی میں اتنی تاخیر کر چکا جس سے مقتدی اس کے سہو پر مطلع ہوا تو لاجرم یہ تاخیر بقدر کثیر ہوئی اور جوکچھ ہونا تھا یعنی ترک واجب ولزوم سجدہ سہو وہ ہو چکا اب اس کے بتانے سے مرتفع نہیں ہوسکتا اور اس سے زیادہ کسی دوسرے خلل کا اندیشہ نہیں جس سے بچنے کو یہ فعل کیاجائے کہ غایت درجہ وہ بھول کر سلام پھیر دے گا پھر اس سے نماز تو نہیں جاتی وہی سہو کا سہو رہے گا ہاں جس وقت سلام شروع کرتا اس وقت حاجت متحقق ہوتی اور مقتدی کو بتانا چاہئے تھا کہ اب نہ بتانے میں خلل و فساد نماز کا اندیشہ ہے کہ یہ تو اپنے گمان میں نماز تمام کرچکا عجب نہیں کہ کلام وغیرہ کوئی قاطع نماز اس سے واقع ہوجائے اس سے پہلے نہ خلل واقع کا ازالہ تھا نہ خلل آئندہ کااندیشہ تو سوا فضول وبے فائدہ کے کیا باقی رہا لہٰذا مقتضائے نظر فقہی پر اس صورت میں بھی فساد نماز ہے”

(ج٧، ص٢٦٥)
ردالمحتار میں ہے”قولہ عدمہ فی الاولیین الظاھر ان الجمع الکثیر فیما سواھما کذلک کما بحثہ بعضھم ط و کذا بحثہ رحمتی” (ج٢،ص٦٧٥)

واللہ تعالی اعلم
کتبـــــــــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری
٢٣ نومبر ٢٠١٩

Leave a Reply