سالی سے زنا کیا تو نکاح رہا یا ٹوٹ گیا؟

سالی سے زنا کیا تو نکاح رہا یا ٹوٹ گیا؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔

ایک شادی شدہ شخص نے اپنی سالی کے ساتھ غلط تعلق بنالیا ہے تو کیا اس شخص کا نکاح رہا اور اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
بسم ﷲ الرحمن الرحیم

الجواب-بعون الملک الوھاب

سالی سے زنا کرنا حرام حرام سخت حرام ہے لیکن اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔
شخص مذکور پر لازم ہے کہ اس فعل بد سے باز آئے اور سچے دل سے توبہ کرے۔
درمختار میں ہے: ” وطی اخت امراتہ لا تحرم علیہ امراتہ "اھ (ج١ ، ص٣٤٣، کتاب النکاح، دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)
یعنی سالی سے زنا کی وجہ سے بیوی حرام نہ ہوگی۔
اعلی حضرت امام احمد رضا رضی ﷲ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: "زنا تو ہرحال حرام ہی ہے مگر سالی سے نکاح یا زنا کرنے سے زوجہ مطلقہ نہیں ہوتی، نہ آیت کایہ مطلب ہے نہ سالی سے زنا کے سبب زوجہ سے جماع حرام ہو ” اھ (فتاوی رضویہ جدید، ج١١، ص٣١٩، کتاب النکاح، باب المحرمات، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔
خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: