کیا زکوٰۃ کا روپیہ فون پے، گوگل پے، پے ٹی ایم، کے زریعہ دینے سے زکاۃ ادا ہوجاتی ہے؟

کیا زکوٰۃ کا روپیہ فون پے، گوگل پے، پے ٹی ایم، کے زریعہ دینے سے زکاۃ ادا ہوجاتی ہے؟

السلام علیکم مفتی ارشاد احمد علیمی صاحب امید کرتا ہوں خیر و عافیت سے ہونگے
درج ذیل سوالوں کے جواب ارسال فرمادیں-اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین

(1)کیا زکوٰۃ کا روپیہ فون پے، گوگل پے، پے ٹی ایم، کے زریعہ دینے سے زکاۃ ادا ہوجاتی ہے؟

(2)اور کیا چیک پر سائن کرکے دینے سے بھی زکاۃ ادا ہوسکتی ہے؟

(3)اور جن لوگوں نے اس طرح زکوٰۃ ادا کی ہے، اس کا کیا حكم ہے؟

المستفتی، محمد ذاكر
جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی(الہند)

باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:۔

(۱) زکاۃ کا روپیہ مستحق زکوٰۃ کو فون پے، گوگل پے،پے ٹی ایم وغیرہ کے ذریعہ دینے سے زکاۃ ادا ہوجاتی ہے،جبکہ وہ رقم اس کو مل جائے ۔والله تعالیٰ أعلم

(۲) چیک پر سائن کرکے مستحق زکوٰۃ کو دینے سے زکاۃ تب ادا ہوگی جب چیک کے ذریعے اسے بینک سے رقم مل جائے۔
فتاویٰ علیمیہ میں ہے: ” اگر کسی نے زکاۃ کی رقم کا چیک بناکر دیا تو ابھی صرف اس چیک پر قبضہ سے زکاۃ ادا نہ ہوگی کہ چیک پر قبضہ مال پر قبضہ نہیں بلکہ مال وصول کرنے کی سند پر قبضہ ہے جبکہ ادائیگی زکاۃ کے لیے مال کا مالک بنادینا ضروری ہے لہذا جب چیک کے ذریعہ بینک سے رقم وصول ہوجائے اور مستحق کو مل جائے تو زکاۃ ادا ہوگی”(ج ١ ص ٤٠۵/کتب خانہ امجدیہ دہلی)والله تعالیٰ أعلم

(۳)جن لوگوں نے مذکورہ طریقوں سے زکاۃ دی ہے انکی زکاۃ ادا ہوجائے گی بشرطےکہ مستحق زکوٰۃ کا زکاۃ کی رقم پر مکمل طور پر قبضہ ہوجائے۔والله تعالیٰ أعلم۔

کتبہ:۔ محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر٨/شوال المکرم ١٤٤٥ھ مطابق ١٨/اپریل ٢٠٢٤ء

الجواب صحیح
کمال احمد علیمیؔ نظامی دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

Leave a Reply