کیا واقعی زنا ایک قرض ہے؟مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی

کیا واقعی زنا ایک قرض ہے؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

جی ہاں! زنا ایک قرض ہے اور یہ زنا کی جملہ تباہیوں اور بربادیوں میں سے وہ تباہی وبربادی ہے، جس کا زانی خود دنیا میں ہی شکار ہوتا ہے اور یہ زانی کیلیے اس کے منہ پر زبردست طمانچہ ہوتا ہے۔

اور بزرگوں نے اس کے متعلق فرمایا ہے کہ :

"زنا وہ قرض ہے جو اس کے گھر والے چکائیں گے”

چنانچہ شمس الدین محمد بن احمد حنبلی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے لکھا کہ :

"جو کسی سے دو ہزار درہم کے بدلے زنا کرے گا تو اس کے اہل میں سے چوتھائی درہم کے بدلے زنا کیا جائے گا، بےشک زنا ایک قرض ہے اگر تو اسے قرض لے گا تو جان لے کہ اس کی ادائیگی تیرے گھر والے کریں گے ۔

(غذاءالالباب جلد2 صفحہ 440 مصر)

زنا ایک قرض ہےاس کی تصدیق اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے، جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ زَنٰی زُنِیَ بِہٖ "

یعنی جس نے زنا کیا تو اس کے ساتھ بھی زنا کیا جائے گا۔

(کنزالعمال جلد5 صفحہ 456 بیروت)

دنیا میں بدلہ :

زنا کی طرف لےجانے امور مثلاً غیر عورت کو چھونا، اس کی طرف شہوت سے دیکھنا، بوسہ لینا اس سے گپیں لگانا، دوستیاں لگانا وغیرہ امور بھی ناجائز و گناہ ہیں اور ان کا بدلہ بسا اوقات دنیا میں دکھا دیا جاتا ہے۔

چنانچہ اس حوالے سے دو واقعات پیش کرتا ہوں ان کو پڑھیے اور عبرت حاصل کیجیے چنانچہ ؛

پہلا واقعہ :

علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے تفسیر روح البیان میں ایک واقعہ تحریر فرمایا ہے کہ :

"بخارا شہر میں ایک زرگر (سنار) کے گھر ایک شخص 30 سال تک پانی بھرتا رہا اس زرگر کی بیوی نیک اور انتہائی خوبصورت تھی، ایک دن اس پانی بھرنے والے نے زرگر کی بیوی کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو دبایا، جب اس کا شوہر زرگر بازار سے آیا تو اس نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آج تم نے اللہ عزوجل کی کون سی نافرمانی کی ہے؟ تو اس نے کہا کہ کوئی نافرمانی نہیں کی، جب بیوی نے اصرار کیا تو اس نے کہا کہ آج ایک عورت دکان پر آئی اور اس نے کنگن بازو سے اتار کر رکھا تو اس کے بازو کی سفیدی کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور میں نے اس کے بازو کو پکڑ کر دبا لیا تو یہ سن کر بیوی نے کہا : اللہ اکبر ! پانی والے کی خیانت کرنے کی یہی حکمت تھی تو سنار نے (کنگن والی عورت کو مخاطب کرکے) کہا کہ تو جو کوئی بھی عورت ہے میں اس سے توبہ کرتا ہوں اور تو مجھے اس گناہ سے معافی دیدے، جب اگلا دن آیا تو پانی والے نے آکر توبہ کی اور کہا کہ اے گھر کے مالک مجھے معاف کردے بےشک شیطان نے مجھے گمراہ کردیا ،زرگر کی بیوی نے کہا: چلا جا یہ غلطی میرے شوہر سے ہوئی جس کا اللہ عزوجل نے اسے دنیا میں بدلہ دیدیا۔

(ملخصا تفسیرروح البیان جلد4 صفحہ 160 بیروت)

دوسرا واقعہ :

ابن حجر ہیتمی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے الزواجر میں ایک واقعہ نقل کیا کہ :

ایک بادشاہ کو جب یہ بتایا گیا کہ زانی سے زنا کا بدلہ اس کی اولاد سے لیا جاتا ہے تو اس نے اپنی خوبصورت بیٹی پر تجربہ کرنے کیلیے اس کو ایک فقیر عورت کے ساتھ بھیجا اور حکم دیا کہ اپنا چہرہ کھلا رکھنا اور بازاروں کے چکر لگانا اور جو اس سے کوئی حرکت کرنا چاہے اس کو کرنے دینا، منع نہ کرنا، اس کی بیٹی جہاں سے بھی گزرتی، لوگ شرم و حیاء سے نگاہیں جھکاہ لیتے اس نے پورا شہر گھوم لیا مگر کسی نے بھی اس کی طرف نظرا ٹھا کر نہ دیکھا جب وہ بادشاہ کے محل کے قریب آئی تو ایک شخص نے اسے پکڑ لیا اور اس کا بوسہ لیا اور چلا گیا اس کے بعد اس کی بیٹی محل میں داخل ہوئی تو بادشاہ نے اس سے سارا ماجرہ پوچھا تو اس نے سب کچھ بتا دیا تو بادشاہ نے سن کر خدا کا شکر ادا کیا اور کہا کہ اس نے ساری عمر کسی سے زنا نہیں کیا مگر ایک مرتبہ ایک عورت کا بوسہ لیا تھا جس کا بدلہ آج پورا ہوگیاـ

(الزواجر عن اقتراف الکبائر جلد2 صفحہ 222 بیروت)

نظر کی حفاظت، گھر والوں کی حفاظت کا ذریعہ

اپنی نظر کی حفاظت کیجیے تاکہ آپ کےگھر والے بھی محفوظ رہ سکیں کیونکہ اگر آج کسی کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے تو اللہ عزوجل ہماری ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی عزت کو محفوظ فرمائے گا اور اگر دوسروں کی عزتوں کو پامال کریں گےتو کل کو اپنے ساتھ بھی یہی حشر ہوگا۔

چنانچہ شمس الدین حنبلی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں کہ:

امام ابن مفلح رحمۃ اللّٰہ علیہ نے "آداب کبری” میں فرمایا کہ :

ایک عابد نے فرمایا :

"میں نے ایک ایسی عورت کو دیکھا جسے دیکھنا میرے لیے حلال نہیں تھا تو میری بیوی کو بھی دیکھا گیا جس کو میں پسند نہیں کرتا تھا”۔

(غذاءالالباب جلد2 صفحہ 439 مصر)

کیاکوئی یہ پسندکرےگا؟

آج جوانی کی مستی میں آکر دوسروں کی عزتوں کو لوٹا جاتا ہے، محبت و عشق کے نام پر بےحیائی کی جاتی ہے اور جو سمجھائے اس کو وِلَن اور دشمن سمجھا جاتا ہے مگر یہ نہیں سوچتے کہ کل کو ہماری عزتوں کے ساتھ بھی ایسا کھلواڑ ہوسکتا ہے، اگر کسی نوجوان سے پوچھا جائے کہ تیری کتنی گرل فرینڈز ہیں تو بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ اتنی اتن

ی مگر اس سے یہ پوچھ لیا جائے کہ تیری بہن کے کتنے بوائے فرینڈز ہیں تو آگ بگولا ہوجائے اور آپے سے باہر ہوجائے تو جب معاملہ ایسا ہے تو عشق کے نام پر بےحیائی کرنے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جس طرح یہ ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی ان کی بہن، بیٹی سے عشق و محبت کرے، اسی طرح دوسرے بھی اس کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کی بہن بیٹی کے ساتھ ایسا کرے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ مجھے، میری نسلوں کو اور تمام مسلمانوں کو زنا اور زنا کی طرف لے جانے والے تمام امور سے محفوظ فرمائے۔

اَمِين يَا رَبَّ الْعَالَمِيْن

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: