کیا جو مرغی بانگ دیدے اس کو فوراً ذبح کرنا ضروری ہے ؟

کیا جو مرغی بانگ دیدے اس کو فوراً ذبح کرنا ضروری ہے ؟

سوال : بعض لوگ کہتے ہیں کہ جو مرغی بانگ دیدے تو اس کو فوراً ذبح کر دینا چاہیے تو کیا جو مرغی بانگ دیدے اس کو فوراً ذبح کرنا ضروری ہو جاتا ہے ؟
سائل : عبداللہ عیسیٰ خیل
بسمہ تعالیٰ

الجواب بعون الملک الوھّاب
اللھم ھدایۃ الحق و الصواب

جو مرغی بانگ دیدے تو نہ شریعت نے اس مرغی کو فوراً ذبح کرنے کا حکم دیا ہے اور نہ کسی بزرگ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، لہذا مرغی کے مالک کی مرضی ہے چاہے تو اسے ذبح کر دے اور چاہے تو ذبح نہ کرے بلکہ بہتر ہے کہ لوگوں کے اس جاہلانہ خیال کو رد کرنے کے لئے اسے فوراََ ذبح نہ کرے ۔

چنانچہ مفتی اعظم ہند علامہ محمد مصطفےٰ رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

"فی الواقع نہ اس (ہر روز بانگ دینے والی) مرغی کو ذبح کرنا چاہیے، نہ ان پیڑوں (یعنی گھر میں موجود مہدی اور انار کے درختوں) کو (گھر سے) دور کرنا چاہیے، اس کا نہ حکم شرع سے ہے نہ بزرگوں کا ارشاد ہے، معلوم نہیں عوام سے کس عورت یا کس جاہل مرد کی یہ ایجاد ہے۔”

(فتاویٰ مفتی اعظم جلد 5 صفحہ 209 ناشر اکبر بک سیلرز لاہور)
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــہ : ابواسیدعبیدرضامدنی

Leave a Reply

%d bloggers like this: