آسمانوں پہ جو خدا ہے اس سے میری یہی دعا ہے ۔ یہ گانا گانا کیسا ہے

آسمانوں پہ جو خدا ہے اس سے میری یہی دعا ہے ۔ یہ گانا گانا کیسا ہے

السلامُ علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ
سوال : مفتی صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ
” آسمانوں پہ جو خدا ہے اس سے میری یہی دعا ہے ،،
۔ یہ گانا گانا کیسا ہے ?
المستفی : غلام مصطفیٰ قادری واحدی فرخ آباد یوپی
3/ذی الحجہ 1442ھ بروز بدھ

باسمہ تعالیٰ جل و علا

الجواب بعون الملک الوھاب۔ اللھم ھدایت الحق و الصواب

"آسمانوں پہ جو خدا ہے،، کہنا اللّٰہ تعالیٰ کے لئے جہت و سمت، مکان و حیز ثابت کرناہے اور یہ کفر ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جہت و مکان و زمان و حرکت و سکون و شکل وصورت جمیع حوادث سے پاک ہے۔ شعب الایمان، باب فی الایمان بالله عزوجل، فصل فی معرفة اسماء اللہ و صفاتہ، میں ہے:” و ھو المتعالی عن الحدود و الجھات، و الاقطار،والغایات، المستغنی عن الاماکن و الازمان، لا تنالہ الحاجات، ولا تمسّہ المنافع والمضرّات، ولا تلحقہ اللّذّات، ولا الدّواعي، ولا الشہوات، ولا یجوز علیہ شيء ممّا جاز علی المحدثات فدلّ علی حدوثہا، ومعناہ أنّہ لایجوز علیہ الحرکۃ ولا السکون، والاجتماع، والافتراق، والمحاذاۃ، والمقابلۃ، والمماسۃ، والمجاوزۃ، ولا قیام شيء حادث بہ ولا بطلان صفۃأزلیۃ عنہ،ولا یصح علیہ العدم،،۔(ج1، ص113)

وفي ’’شرح المواقف‘‘، المقصدالأول، ج8، ص22 پر ہے:” أنّہ تعالی لیس في جہۃ من الجہات، ولا في مکان من الأمکنۃ ۔ 

اور حضرت علامہ سعد الدین تفتازانی علیہ الرحمہ فرماتےہیں: ” اللہ تبارک و تعالیٰ مکان میں ہونے سے پاک ہے اور جب وہ مکان میں ہونے سے پاک تو جہت یعنی سمت سے بھی پاک ہے، (اسی طرح) اوپر اور نیچے سے بھی پاک ہے،، ۔ (شرح العقائد، ج5، ص60) ۔

اور علامہ ابنِ نجیم مصری قدس سرہ السامی” البحر الرائق،، میں تحریر فرماتےہیں:” اللّٰہ تعالیٰ کےلئے جہت ماننا، اورخدا کےلئے مکان ثابت کرنا یعنی ماننا یا کہنا کفر ہے،،۔ (ج5، ص203) ۔
اور جب یہ دلائل صحیحہ براہین واضحہ متحققہ سے بین و ثابت ہوگیا کہ مذکورہ مصرع الغناء بولنا کفر ہے تو یوں ہی اس کا سننا اور سن کر پسند کرنا بھی کفر ہے۔

حضور شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ نے اسی طرح گانے کچھ اشعار جو درج ہیں

(1) حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانیں۔
(2)خدا بھی جب زمیں پر آسماں سے دیکھتا ہوگا مرے محبوب کو کس نے بنایا سوچتا ہوگا۔
(3) رب نے بھی مجھ پے کیا ستم کیا ہے سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے۔
(4) رنگ تیرا دیکھ کے روپ تیرا دیکھ کے قدرت بھی حیران ہے۔
(5) قدرت نے بنایا ہوگا فرصت سے تجھے میرے یار۔

کے کہنے، سننے اور ان کو صحیح ماننے والے کے متعلق استفتا کے جواب میں تحریر فرمایا :”جتنے اشعار سوال میں درج کئےگئے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ہے۔ جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں سب کے سب اسلام سے خارج ہوکر کافر و مرتد ہوگئے، ان کے تمام نیک اعمال ضائع ہوگئے، ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں اور ان پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر ان اشعار میں جو کفریات ہیں ان سے توبہ کریں کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں اور اپنی بیویوں سے دوبارہ نکاح کریں۔
اسی طرح جس نے ان اشعار کو سنا اور پسند بھی کیا تو وہ بھی کافر ہوگیا۔ اور ایسے اشعار cd وغیرہ میں موجود ہیں ان کی خرید و فروخت حرام اور ان کو شیئر کرنا بھی حرام اشد حرام ہے،، (فتاویٰ شارح بخاری، در بیانِ عقائدِ ذاتِ باری تعالیٰ، ج1، ص257، مکتبہ برکات المدینہ کراچی)۔

لہذا مسئلہ میں ذکر گانے کو گانے والا ، یوں ہی جس نے اس گانے کو سنا اور سن کر پسند بھی کیا دونوں کافر ہوگئے(ایک بار سن کر اس کے کفری قباحت و شناعت کا علم ہوجانے کے بعد پھر بالقصد دوبارہ سننا بھی پسند کرنے کی دلیل ہے بایں صورت حکم وہی ہوگا) ان پر اعلانیہ توبہ و استغفار اور تجدیدِ ایمان و نکاح و بیعت سب لازم ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبــــــہ : عاصیؔ محمد امیر حسن امجدی رضوی خادم الافتا و التدریس : الجامعة الصابریہ الرضویہ پریم نگر نگرہ جھانسی یوپی بھارت

Leave a Reply