کسی ولی کی ولایت سے انکار کرے تو اس شخص کے بارے میں کیاحکم شرع ہے؟

کسی ولی کی ولایت سے انکار کرے تو اس شخص کے بارے میں کیاحکم شرع ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ

اُمید ہے کہ آپ سبھی حضرات بخیر ہونگے

انتہائی ادب و احترام کے ساتھ علمائے کرام و مفتیان عظام کی بارگاہِ اقدس میں عرض رساہوں کہ جو انسان اولیاء اللہ کو نہ مانے مثلاً حضور غوث الاعظم دستگیر رحمۃ اللہ علیہ

یاحضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اولیاء اللہ کو نہ مانے اور یہ کہیں کہ ہم انکو اللہ کے ولی نہیں مانتےتو ایسےشخص کے لئے شریعت کا کیا حکم نافذ ہوگا ۔

مفتیانِ کرام مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔ کرم نوازش ہوگی ۔

المستفتی:- اختر رضا رضوی ۔ دیناج پوری

_____________

وعلیکم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھابـــــــــ

جو انسان اولیاء اللہ کو نہ مانے جیسے حضور غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ یا حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمۃ ودیگر اولیاء اللہ کو نہ مانے اور یہ کہیں کہ ہم انکو اللہ کے ولی نہیں مانتے تو ایسے شخص کی گمراہی و بددینی ہے اور اہل سنّت و جماعت سے خارج ہے. جیساکہ شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:جن اولیاء کرام کے ولی ہونے پر تمام اہل سنّت و جماعت کا اتفاق ہے ان کے یا ان میں سے کسی کے ولی ہونے پر انکار کرنا کفر تو نہیں مگر گمراہی اور بد دینی ہے اور یہ شخص اہل سنّت و جماعت سے خارج گمراہ بدعتی ہے. اس کی دلیل یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ : "لا تجنمع امّتی علی الضلالۃ” میری امت گمراہی پر اتفاق راے نہیں کر سکتی. اس لے جب امتی کسی ولی کی ولایت پر اتفاق راے کرے تو اسکی ولایت سے انکار گمراہی بددینی ہے یہی نہیں بلکی امت کے اکثر افراد کسی کی ولایت پر اتفاق کر لیں تو اسکی ولایت انکار بھی گمراہی ہے. ارشاد ہے :

"اتبعوا اسواد الاعظم فان شذ شذ فی النار” سب سے بڑی جماعت کی پیروی کرو. اس لے کہ جو بڑی جماعت سے کنارہ ہوا وہ جہنّم میں جاے گا. اور اس حدیث میں بڑی جماعت سے مراد امت کی بڑی جماعت ہے دوسری حدیث میں ہےکہ فرمایا: میری امت میـں تہتر فرقے ہوں گے سوائے ایک کے سب جہنم میں جائیں گے۔ لوگوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ یہ نجات پانے والا ایک فرقہ کون ہے? فرمایا: وھی الجماعۃ‘‘

اگر اولیائے کرام کے ان الہامات کو اہل سنت و جماعت کے علما ومشائخ نے بالاتفاق تسلیم کرلیا ہے تو ان کو حق ماننا لازم ہے اور ان کا انکار گمراہی و بد دینی ہے. صرف کافر ہوناہی جرم نہیـــــں . گمراہ بددین ہونا,فاسق فاجر ہونا, اہل سنت سے خارج ہونا بھی بہت بڑا جرم ہے اور جہنمی ہونے کے مرادف. علاوہ ازیں جن اولیاے کرام کی ولایت پر ان کے الہامات پر تمام اہل سنت و جماعت کا اتفاق نہ ہو . لیکن وہ واقعی عند الله ولی ہے تو اس کی ولایت سے انکار ان کے الہامات سے انکار زوال ایمان کا سبب ہوتاہے ۔ خصوصاً جب کہ یہ عداوت کی بنا پر ہو

عالمگیری میـں ہے: "من ابغض عالماً من غیر سبب ظاھر خیف علیہ الکفر ” جو کسی عالم سے کسی ظاہری سبب کے بغیر بغض رکھےگا اس پر کفر کا اندیشہ ہے . سرکار غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: "انکاری سم قاتل لادیانکم” میرا انکار تمہارے دینوں کے لیے زہر قاتل ہے اور اس پر تجربه شاہد ہے . جس نے بھی سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا انکار کیا یا ان کے ارشادات کو جھٹلایا وہ دنیا سے ایمان سلامت نہیـــــں لےگیا . خود حدیث میں فرمایا گیا ” من عادلی ولیا فقد اذنتہ بالحرب ” جس نے میرے کسی ولی سے عداوت کی اس سے میـں نے اعلان جنگ کردیا ہے ۔

(فتاویٰ شارح بخاری ج دوم ص ۱۴۳/۱۴۴)

والله تعالی اعلم باالصواب

اسیر حضور تاج الشریعـہ  محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاجپـــوری۔

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

مؤرخہ:(۱۶) ذوالقعدۃ ۲٤٤١؁ھ بروز؛ پیر

Leave a Reply

%d bloggers like this: