کسی کی بات بغیر اجازت ریکارڈ کرکے شائع کرنا کیسا ہے؟

کسی کی بات بغیر اجازت ریکارڈ کرکے شائع کرنا کیسا ہے؟

سوال : آج یہ بہت ہورہا ہے کہ کسی سے گفتگو ہوئی اور چپکے سے اسے ٹیپ کرلیا ، قائل کو اس کی اطلاع بھی نہیں ، پھر اس گفتگو کو وائرل کردیا ، تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے ۔ جب کہ قائل نے اس کی اجازت بھی نہ دی ؟ دوسرے یہ کہ کبھی اصل گفتگو میں کچھ گھٹا بڑھا کر شائع کردیتے ہیں اور یہ ظاہر بھی نہیں کرتے ہیں کہ کس قدر حذف ہوا ہے اور کس قدر اضافہ ہوا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مجالس مختلف طرح کی ہوتی ہیں اور اس وجہ سے ان کے احکام بھی مختلف ہوتے ہیں ۔

(1) مجلس درس: خواہ درس قرآن ہو یا درس حدیث یا درس فقہ یا ان کے اصول اور وسائل۔

(2) مجلس وعظ ورشد وہدایت بیعت وارادت و تزکیہ قلوب ۔

(3) مجلس مذاکرہ: جس میں دینی ، علمی ، سماجی ، تاریخی یا اس طرح کے مفید اور اہم امور پر بحث وتبادلہ خیالات ہو ، یہ اور اس طرح کی دوسری مجالس کی گفتگو ٹیپ کرنا پھر اسے مرتب کرکے شائع کرنا جائز ہے، مگر یہ کی کسی امر کی اشاعت سے صراحتاً ممانعت ہو۔

(4) مجلس کی منکرات و مفاسد: جس میں شرعی منکرات پر گفتگو ہو ، یا نا حق کسی کی ایذا رسانی، بےشک حرمت ، غصب مال ، یا قتل پر گفتگو ہو، مختصر یہ کہ کسی فرد یا افراد کے دین ، جان ،مال، عقل ، نسب میں سے کسی پر حملے کا منصوبہ ہو تو اسے بھی بیان کرنے کی اجازت بلکہ حکم ہے ۔

حدیث پاک میں ہے: عن قال جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المجالس بالأمانة الا ثلاثة مجالس ، سفك دم حرام ، أو فرج حرام ، أو اقتطاع مال بغير حق.”

ترجمه: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجالس امانت کے ساتھ ہیں ( یعنی مجلس کی باتیں امانت ہیں ) سوائے تین مجالس کے ۔ ایک معصوم و محترم خون بہانے کی مجلس، دوسری فرج حرام یعنی زنا کی مجلس، تیسری ناحق کسی کا مال ہڑپ کرلینے کی مجلس۔ (سنن ابو داؤد، ص:312، ج :2، باب نقل الحدیث)

حدیث میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اترغيون عن ذكر الفاجر متي يعرفه الناس ، أذكروا الفاجر بما فيه يحذره الناس. "

ترجمه: کیا فاجر کو برا کہنے سے پرہیز کرتے ہو ، لوگ اسے کب پہنچانیں گے ، فاجر کی برائیاں بیان کرو کہ لوگ اس سے بچیں۔

(5) مجلس میں نزاعی امور پر گفتگو ہو اور بات حق ہو اگر اس کے بنانے سے فتنہ و فساد بپا ہو یا قائل اسے ہرگز بیان نہ کرے کہ یہ معاشرے میں فتنہ و فساد پیدا کرنے، نیز ایذاے مسلم پر تعاون ہے جو شرعا ممنوع ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے:” ولا تعاونوا علي الإثم والعدوان.” ارشاد رسالت ہے ۔ ” لا ضرر ولا ضرار في الاسلام،” المجالس بالأمانة” اور ان تمام صورتوں میں اگر ناقل نے کتربیونت کی ہے جس سے قائل کے قول کا مفہوم کچھ سے کچھ ہوجاتاہے تو یہ خیانت بہی ہے۔ اور دیانت کے خلاف بھی جو بلا شبہ نقلا معیوب و قبیح ہے، اس سے بھی احترام واجب ہے ۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔

کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Leave a Reply

%d bloggers like this: