زید کی سگی بہن کی لڑکی زید کے سگے چچا زاد بھائی سے نکاحِ کرناجائزہے یانہیں

زید کی سگی بہن کی لڑکی زید کے سگے چچا زاد بھائی سے نکاحِ کرناجائزہے یانہیں

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام: زید کی سگی بہن کی لڑکی زید کے سگے چچا زاد بھائی سے نکاحِ کرنا چاہتی ہے، نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟جب کہ دونوں کے درمیان خلوت صحیحہ بھی پائی گی ہے۔ نکاح اگر ہو سکتا ہے تو کیا صورت ہوگی؟جواب عطا کریں کرم ہوگا ۔

مستفتی عبدالوحید پھپھوند شریف

الجواب:

       صورت مسئولہ میں زید کی سگی بہن کی لڑکی(بھانجی)، زید کے سگے چچا کے لڑکے سے نکاح کرسکتی ہے، کیوں کہ وہ لڑکی زید کی بھانجی ہے، اور وہ زید کے اس چچا زاد بھائی کی حقیقی بھانجی نہیں ہے جس سے نکاح کا ارادہ ہے، اگرچہ خاندان کا اعتبار کرتے ہوئے زید کا چچازاد بھائی بھی اس کو بھانجی کہتا ہو اور وہ لڑکی اس کو ماموں کہتی ہو، لیکن دونوں میں حقیقت میں ماموں بھانجی کا رشتہ نہیں ہے۔قرآن مقدس میں محرمات کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوا: "واحل لکم ماوراء ذلکم”

(سورہ نساء: ٢۴)

       اب اگر نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ پائی گئی ہو تو خلوتِ صحیحہ کے احکام ثابت ہوں گے(یعنی: پورا مہر واجب ہونا،طلاق کے بعد عدت واجب ہونا، اس کے عدت میں ہوتے اس کی بہن یا پانچویں عورت سے نکاح جائز نہ ہونا، طلاق کا ارادہ ہونے کی صورت میں اس کو طہر (پاکی کے زمانہ) میں طلاق دیناوغیرہ) ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:

"خلوتِ صحیحہ کے بعد عورت کو طلاق دی تو مہر پورا واجب ہوگا، جبکہ نکاح بھی صحیح ہو، اور اگر نکاح فاسد ہے یعنی نکاح کی کوئی شرط مفقود ہے، مثلاً: بغیر گواہوں کے نکاح ہوا، یا دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کیا، یا عورت کی عدّت میں اس کی بہن سے نکاح کیا، یا جو عورت کسی کی عدّت میں ہے اس سے نکاح کیا، یا چوتھی کی عدت میں پانچویں سے نکاح کیا، یا حرّہ نکاح میں ہوتے ہوئے باندی سے نکاح کیا، تو ان سب صورتوں میں فقط خلوت سے واجب نہیں، بلکہ اگر وطی ہوئی تو مہرِ مثل واجب ہوگا اور مہر مقرر نہ تھا تو خلوتِ صحیحہ سے نکاحِ صحیح میں مہرِ مثل مؤکد ہو جائے گا۔

خلوتِ صحیحہ کے یہ احکام بھی ہیں :

*طلاق دی تو عورت پر عدّت واجب، بلکہ عدّت میں نان و نفقہ اور رہنے کو مکان دینا بھی واجب ہے۔ بلکہ نکاحِ صحیح میں عدّت تو مطلقاً خلوت سے واجب ہوتی ہے صحیحہ ہو یا فاسدہ، البتہ نکاحِ فاسد ہو تو بغیر وطی کے عدّت واجب نہیں۔ *خلوت کا یہ حکم بھی ہے کہ جب تک عدت میں ہے اس کی بہن سے نکاح نہیں کر سکتا۔ اور اس کے علاوہ چار عورتیں نکاح میں نہیں ہو سکتیں ۔

* اگر وہ آزاد ہے تو اس کی عدّت میں باندی سے نکاح نہیں کر سکتا۔ * اور اس عورت کو جس سے خلوت صحیحہ ہوئی اس زمانہ میں طلاق دے جو موطؤہ کے طلاق کا زمانہ ہے۔

* اور عدّت میں اسے طلاق بائن دے سکتا ہے مگر اس سے رجعت نہیں کر سکتا، نہ طلاق رجعی دینے کے بعد فقط خلوتِ صحیحہ سے رجعت ہو سکتی ہے۔ *اور اس کی عدّت کے زمانہ میں شوہر مر گیا تو وارث نہ ہو گی۔ *خلوت سے جب مہر موکد ہوچکا تو اب ساقط نہ ہوگا اگرچہ جدائی عورت کی جانب سے ہو۔”

(بہار شریعت ح٧ ص٧٠)

اور اگر بغیر نکاح کے خلوت ہوئی ہو تو احکامِ خلوت ثابت نہ ہوں گے۔لیکن بغیر نکاح کیے اجنبیہ عورت(جس سے نکاح جائز ہو) کے ساتھ خلوت ناجائز وحرام ہے۔در مختار میں ہے:”وفی الاشباہ: الخلوة بالاجنبیة حرام، الا لملازمة مدیونة ھربت ودخلت خربة، او کانت عجوزا شوھاء، او بحائل۔ والخلوة بالمحرمة مباحة، الا الاخت رضاعا، والصھرة الشابة”۔

(در مختار مع شامی ج٩ ص۵٢٩ ، ۵٣٠)

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔

کتبہ محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء: دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔غرة ذی القعدة ١۴۴٢ھ//١٣/جون٢٠٢١ء


عورت خودسے طلاق نہیں لے سکتی از مفتی نظام الدین رضوی

Leave a Reply

%d bloggers like this: